Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193410
Published : 25/4/2018 15:34

شیخ انصاری(رح) اور ماں کی قدردانی

تاریخ کے اس بزرگ انسان نے جواب دیا: ابھی تمہیں ماں کے مقام و اہمیت کا علم ہی نہیں ہے چونکہ انہیں کی صحیح تربیت اور زحمتوں کا نتجہ تھا کہ میں آج شیخ اعظم ہوں اگر ان کی فداکاریاں نہ ہوتی تو میں کبھی اس منزل پر نہیں پہونچتا۔


ولایت پورٹل:
قارئین کرام! آپ نے شیخ اعظم مرتضیٰ انصاری(رح) کا نام تو سنا ہی ہوگا۔ آپ عالم تشیع میں اپنے وقت کے سب سے بڑے مرجع تقلید اور فقیہ نامدار تھے ۔شیخ اعظم مرتضی انصاری ۱۸ ذی الحجہ ۱۲۱۴ ہجری قمری میں پیدا ہوئے آپ کیونکہ عید غدیر کے دن پیدا ہوئے اسی لئے آپ کے والدین نے آپ کا نام مرتضی رکھا آپ نے بچپن ہی میں قرآن اور معارف اسلامی کو سیکھا اور جوانی میں ادبیات عرب اسی طرح فقہ و اصول کو پڑھا۔
شیخ انصاری نے ایک عرصہ تک کربلا اور نجف اشرف میں علمی مدارج طئے کرنے کے بعد اپنے وطن شوشتر واپسی کی ابھی کچھ دن ہی ہوئے تھے کہ شیخ کو پھر نجف اشرف کی وہ علمی فضا یاد آنے لگی لہذا اپنی والدہ گرامی سے اجازت لینے کی غرض سے پہونچے لیکن والدہ نے انکار کردیا ۔ اب شیخ کا دل تو تڑپ رہا تھا لیکن آخر کار والدہ کو استخارہ پر راضی کیا چنانچہ شیخ نے استخارہ دیکھا تو قرآن مجید کی یہ آیت نکلی:وَ لا تَخافِی وَ لا تَحْزَنِی إِنَّا رَادُّوهُ إِلَیک وَ جاعِلُوهُ مِنَ الْمُرْسَلِینَ۔(سورہ قصص:۷) اے موسیٰ کی ماں تو کسی قسم کا خوف اور غم نہ کر، بلاشبہ ہم اسے تیری طرف واپس لوٹا دیں گے اور اسے رسولوں میں سے بنائیں گے۔
جب شیخ نے اپنی والدہ کے سامنے اس آیت کی تفسیر بیان کی تو وہ بہت خوش ہوئیں اور آپ کو سفر کی اجازت دیدی۔چنانچہ شیخ انصاری نے اپنے اس تاریخ ساز سفر کے دوران اپنی والدہ گرامی کی دعاؤں کے زیر سایہ اور توفیق الہی کے حصار اور اپنی بے پناہ زحمتوں اور کوششوں سے اجتہاد کے اس عظیم درجہ پر پہونچ گئے اور عالم تشیع کے سب سے بڑے مجتہد کے طور پر جانے جانے لگے۔(جلوه هايى از نور قرآن، ص 54)
جب شیخ کی مرجعیت کو تسلیم کرلیا گیا تو کسی نے آپ کی والدہ سے سوال کیا کہ کیا آپ اپنے بیٹے کے اس عظیم مقام پر افتخار نہیں کرتیں؟ تو انہوں نے جواب میں کہا:مجھے اپنے بیٹے کے اس عظیم مقام پر پہونچنے پر قطعاً تعجب نہیں ہورہا ہے چونکہ میں جب بھی اسے دودھ پلاتی تھی تو پہلے وضو کرتی اور باطہارت اسے  دودھ پلاتی تھی، چونکہ پاک دودھ پاک فکر پیدا کرتا ہے جبکہ نجس غذا نجس فکر کو پروان چڑھاتی ہے۔
جب شیخ اعظم کی والدہ کا انتقال ہوا تو آپ جنازے پر بے حد گریہ کررہے تھے۔اسی عالم میں آپ کا ایک شاگرد آپ کے قریب آیا اور کہا: جناب استاد! آپ اتنے بڑے عالم اور وقت کے مرجع تقلید ہیں آپ کو زیب نہیں دیتا چونکہ آپ کی والدہ نے اپنی عمر گذاری اور بڑھاپے میں انتقال کیا ہے۔تاریخ کے اس بزرگ انسان نے جواب دیا: ابھی تمہیں ماں کے مقام و اہمیت کا علم ہی نہیں ہے چونکہ انہیں کی صحیح تربیت اور زحمتوں کا نتجہ تھا کہ میں آج شیخ اعظم ہوں اگر ان کی فداکاریاں نہ ہوتی تو میں کبھی اس منزل پر نہیں پہونچتا۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19