Thursday - 2018 Sep 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193413
Published : 25/4/2018 16:23

فکر قرآنی:

حضرت آدم(ع) کا بہشت میں قیام

آیات قرآنی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدم زندگی گذارنے کے لئے اسی عام زمین پر پیدا ہوئے تھے لیکن ابتداء میں اللہ تعالٰی نے انہیں بہشت میں سکونت دی جو اسی جہان کا ایک سرسبز و شاداب اور نعمتوں سے مالا مال باغ تھا وہ ایسی جگہ تھی جہاں آدم نے کسی قسم کی تکلیف نہیں دیکھی شاید اس کا سبب یہ ہو کہ آدم زمین پر زندگی گزارنے سے آشنائی نہ رکھتے تھے اور بغیر کسی تمہید کے زحمات و تکلیف اٹھانا ان کے لئے مشکل تھا اور زمین میں زندگی گزارنے کے لئے یہاں کے کردار و رفتار کی کیفیت سے آگاہیت ضروری تھی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشتہ مضمون میں یہ عرض کیا تھا کہ جب اللہ نے حضرت آدم میں روح پھونک دی تو یہ بزم ملائکہ میں رہنے والوں کو سجدہ کرنے کا حکم دیا لیکن شیطان نے  یہ خیال  کیا  کہ آگ،خاک سے بہتر و افضل ہے،اور اس نے سجدہ کرنے سے انکار کردیا اب اس کو اس مقدس بزم سے نکال دیا گیا۔بہر حال اس واقعہ اور فرشتوں کے امتحان کے بعد آدم اور حوا کو حکم دیا گیا کہ وہ بہشت میں سکونت اختیار کریں چنانچہ قرآن کہتا ہے: وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَـٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ۔(سورہ بقرہ:۳۵)
ترجمہ: ہم نے آدم سے کہا کہ تم اور تمہاری بیوی بہشت میں رہو اور اس کی فراوان نعمتوں میں سے جو چاہو کھاؤ لیکن اس مخصوص درخت کے نزدیک نہ جانا ورنہ ظالموں میں سے ہوجاؤ گے۔
اسی موضوع پر یہ لنکس بھی دیکھے جاسکتے ہیں:
فرشتوں کا آدم(ع) کو سجدہ اور ابلیس کا انکار
فرشتے امتحان الٰہی کے سانچے میں
آدم(ع) کی خلقت کے موقع پر فرشتوں کا سوال
آیات قرآنی سے ظاہر ہوتا ہے کہ آدم زندگی گذارنے کے لئے اسی عام زمین پر پیدا ہوئے تھے لیکن ابتداء میں  اللہ تعالٰی نے انہیں بہشت میں سکونت دی جو اسی جہان کا ایک سرسبز و شاداب اور نعمتوں سے مالا مال باغ تھا وہ ایسی جگہ تھی جہاں آدم نے کسی قسم کی تکلیف نہیں دیکھی شاید اس کا سبب یہ ہو کہ آدم زمین پر زندگی گزارنے سے آشنائی نہ رکھتے تھے اور بغیر کسی تمہید کے زحمات و تکلیف اٹھانا ان کے لئے مشکل تھا اور زمین میں زندگی گزارنے کے لئے یہاں کے کردار و رفتار کی کیفیت سے آگاہیت ضروری تھی لہذا مختصر مدت کے لئے بہشت کے اندر ضروری تعلیمات حاصل کرلیں کیونکہ زمین کی زندگی، کچھ پروگراموں،تکلیفوں اور ذمہ داریوں سے معمور ہے،جس کا انجام صحیح سعادت ،تکامل اور بقائے نعمت کا سبب ہے اور ان سے روگردانی کرنا رنج و مصیبت کا باعث ہے۔
اور یہ بھی جان لیں کہ انہیں  زمین کی کچھ چیزوں سے چشم پوشی کرنا ہے  اور اگر خطا و لغزش دامن گیر ہو تو ایسا نہیں کہ سعادت و خوش بختی کے دروازے ہمیشہ کیلے بند ہوجائیں گے بلکہ انہیں پلٹ کر دوبارہ عہد و پیمان کرنا چاہیئے کہ وہ حکم خدا کے خلاف کوئی کام انجام نہیں دیں گے تاکہ دوبارہ نعمات الہی سے مستفید ہوسکیں، یہ بھی تھا کہ وہ اس ماحول میں رہ کر کچھ پختہ ہوجائیں اور اپنے دوست اور دشمن کو پہچان لیں اور زمین میں زندگی گزارنے کی کیفیت سے آشنا ہوجائیں یقیناً یہ سلسلہ تعلیمات ضروری تھا تاکہ وہ اسے یاد رکھیں اور اس تیاری کے ساتھ روئے زمین پر قدم رکھیں۔
یہ ایسے مطالب تھے کہ حضرت آدم اور ان کی اولاد آئندہ زندگی میں ان کی محتاج تھی لہذا اس کے باوجود کہ آدم کو زمین کی خلافت کے لئے پیدا کیا گیا تھا ایک مدت تک بہشت میں قیام کرتے ہیں اور انہیں کئی ایک حکم دئے جاتے ہیں جو شاید سب تمرین و تعلیم کے پہلو سے تھا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Thursday - 2018 Sep 20