Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193417
Published : 25/4/2018 17:15

معصوم ہی (ع)کی معیت کیوں؟

صادقین کے ساتھ ہو جانے کا حکم دینے سے پہلے ’’ڈرو‘‘ کا لفظ اس بات کا غمّاز ہے کہ در حقیقت یہ خدا کی جانب سے دھمکی ہے کہ اگر لوگوں نے ائمہ معصومین کی ہمراہی سے گریز کیا تو ان کا انجام راہ سعادت سے انحراف، تباہی و بربادی اور عذاب الٰہی ہے۔ ایسا عذاب جو انہوں نے اپنے لئے خود فراہم کیا ہے یعنی منزل کمال تک نہ پہنچنے کا عذاب، اپنے کو سعادت ابدی سے محروم کرنے کا عذاب، سعادت و خوشبختی کے ضروری اسباب سے محرومی کا عذاب۔

 
ولایت پورٹل:
انسان زحمت و پریشانی میں مبتلا نہ ہو اور سعادت کے راستہ کو آسانی سے طے کر سکے اس کے لئے اللہ تعالٰی نے انسانوں کو حکم دیا کہ وہ معصومین(ع) کی پیروی کریں اس لئے کہ صرف معصومین(ع) ہی ایسے عالم و خبیر اور علم لدنی کے مالک رہبر و قائد ہیں جو قافلہ بشریت کو ہدایت کی آخری منزل تک لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر ان کے علاوہ کسی دوسرے کی قیادت و رہبری کو قبول کیا جائے تو چونکہ کسی دوسرے کے پاس ایسا علم یا ایسی مہارت نہیں ہے لہذا اس میں خطرات ہی خطرات ہیں۔ چنانچہ اللہ نے غیر معصوم کی قیادت سے کنارہ کش ہونے کا حکم دیا اور ارشاد فرمایا:«یَا اَیُّھَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰهَ وَکُونُوا مَعَ الصَّادِقِیْنَ»۔(۱) اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور صادقین کے ساتھ ہو جائو۔
امام محمد باقر(ع) سے اس آیت کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا: اس سے مراد ’’ہم لوگ‘‘ ہیں۔(۲)
صادقین کے ساتھ ہو جانے کا حکم دینے سے پہلے ’’ڈرو‘‘ کا لفظ اس بات کا غمّاز ہے کہ در حقیقت یہ خدا کی جانب سے دھمکی ہے کہ اگر لوگوں نے ائمہ معصومین کی ہمراہی سے گریز کیا تو ان کا انجام راہ سعادت سے انحراف، تباہی و بربادی اور عذاب الٰہی ہے۔ ایسا عذاب جو انہوں نے اپنے لئے خود فراہم کیا ہے یعنی منزل کمال تک نہ پہنچنے کا عذاب، اپنے کو سعادت ابدی سے محروم کرنے کا عذاب، سعادت و خوشبختی کے ضروری اسباب سے محرومی کا عذاب۔
امام محمد باقر(ع) کا ارشاد گرامی ہے:«قال اللّہ تبارک وتعالیٰ: لا عذبنّ کل رعیّۃ فی الاسلام دانت بولایۃ کل امام جائر لیس من اللّہ وان کانت الرعیّۃ فی اعمالھا برّۃ تقیّۃ ولاعفون عن کل رعیّۃ فی الاسلام دانت بولایۃ کل امام عادل من اللہ وان کانت الرعیّۃ فی انفسھا ظالمۃ مسیئۃ»۔(۳) پروردگار عالم کا ارشاد ہے کہ میں مسلمانوں میں ان تمام لوگوں پر عذاب نازل کروں گا جو ایسے ظالم حاکم کی پیروی میں دین پر عمل کریں جو خدا کی جانب سے نہیں آیا اگرچہ وہ لوگ نیک عمل اور پرہیز گار ہی کیوں نہ ہوں اور جو قوم خداوندعالم کی جانب سے منصوب امام عادل کی پیروی کرتے ہوئے دین کے راستے کو اپنائے ،چاہے وہ اپنے حق میں ظالم اور بدکردار ہی کیوں نہ ہو ،میں اس کے گناہوں کو معاف کر دوں گا۔
امام محمد باقر(ع) کی اس حدیث سے گذشتہ آیت میں معصومین کے ساتھ ہونے اور ان سے احکام حاصل کرنے کے حکم سے پہلے موجود جملہ ’’خدا سے ڈرو‘‘ کے معنی اور بھی واضح ہوجاتے ہیں۔ دنیا وآخرت کی سعادت کے لئے اب تک یہ واضح ہو چکا ہے کہ امام معصوم اور خدا کی جانب سے منصوب ہادی و قائدکا وجود کتنا ضروری ہے اور اگر ہم اس اسوۂ حسنہ سے محروم رہیں تو چاہے جتنی کوشش کرلیں اور جو عمل خیر انجام دے لیں اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔لیکن امام معصومؑ کی زیر قیادت ہم منزل تک ضرور پہنچیں گے چاہے ہمارے کچھ کاموں میں کوتاہیاں ہی کیوں نہ پائی جاتی ہوں۔
جیساکہ قرآن کریم میں ارشاد ہے:«وَمَنْ اَضَلُّ مِمَّنِ اتَّبَعَ ھَوَاہُ بِغَیْرِھُدَیً مِنَ اللّٰہِ»۔ (۴)۔اور اس سے زیادہ گمراہ کون ہے جو خدا کی ہدایت کے بغیر اپنی خواہشات کا اتباع کرلے۔
اس طرح تمام انسان یا تو پروردگار عالم کی ہدایت کے پیروکار ہیں تو ان کا مقدر دائمی سعادت و خوشبختی ہے اور یا وہ اپنی ہوا و ہوس کے پیروکار اور ہادیان الٰہی کی ہدایت سے بے بہرہ ہیں تو ان کے نصیب میں گمراہی اور بد بختی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔
اس آیہ کریمہ کے بارے میں امام موسیٰ کاظم(ع) نے ارشاد فرمایا ہے:«من اتّخذ دینہ رأیہ بغیر امام من ائمّۃ الھدیٰ»۔(۵)سب سے بڑا گمراہ وہ ہے جو ائمہ ہدایت کو چھوڑ کراپنی رائے سے دین پر عمل کرے۔
امام محمد باقر(ع) نے رسول خدا کایہ قول نقل کیا ہے کہ: جو شخص پیغمبروں جیسی زندگی ، شہیدوں جیسی موت اور خداوند عالم کی بنائی ہوئی جنت میں جانے کا خواہش مند ہے تو وہ علی(ع)کی پیروی کرے اور ان کے دوستوں سے دوستی رکھے، ان کے بعد آنے والے اماموں کی اقتداء کرے کیونکہ یہ میری عترت (نسل) ہیں اور میری طینت سے پیدا ہوئے ہیں،میرے خدا انہیں علم و فہم نصیب فرما: میرے ان امتیوں پر افسوس (وائے) ہے جو ان کے مخالف ہیں پروردگار!میری شفاعت ان کے شامل حال نہ کرنا۔(۶)
اسی طرح رسول خدا(ص) نے پروردگار عالم کا یہ قول نقل فرمایا ہے:آپ کی امت کے اشقیاء ( بد بختوں) پر میری حجت تمام ہے۔ وہی لوگ جنہوں نے ولایت علی(ع) کو چھوڑ کر ان کے دشمنوں سے دوستی کی ہے ان کے اور ان کے بعد آنے والے اوصیاء کے فضائل کا انکار کیا کیونکہ آپ کے فضائل ان کے فضائل ہیں اور آپ کی اطاعت ان کی اطاعت، آپ کا حق ان کا حق اور آپ کی نافرمانی ان کی نا فرمانی ہے وہ آپ کے بعد امام وہادی ہیں۔ آپ کی روح ان کے جسم میں ہے جو آپ کے پروردگار کی جانب سے آپ کے اندر پھونکی گئی ہے وہ آپ کی عترت ہیں اور آپ کے خمیر اور گوشت وخون سے خلق ہوئے ہیں۔خداوند عالم نے آپ کی سیرت وسنّت اور انبیاء ماقبل کی سیرت وسنّت کوان میں جاری رکھا ہے۔ یہ لوگ آپ کے بعد میرے علم کے خزانے دار ہیں میرے اوپر ان کا یہ حق ہے کہ میں نے منتخب کر کے، طاہر بنایا اور ان کو پسند کر لیا جو شخص بھی ان سے محبت کرے اور ان کی پیروی کرے اور ان کی فضیلت کا معترف رہے وہ نجات یافتہ ہے۔ بیشک جبرئیل، ان کے  والدین ،ان کے دوستوں اور ان کے فضائل کا اعتراف کرنے والوں کے نام میرے پاس لے کر آئے ہیں۔(۷)
امام محمد باقر(ع) نے رسول اللہ(ص) کی یہ حدیث بیان فرمائی ہے: بیشک نسیم رحمت، اطمینان خاطر ، فتح وظفر، مدد، برکت، مغفرت، امان، توانگری، خوشخبری، رضوان، تقرب، نصرت، طاقت، امید اور خداوند عالم کی دوستی صرف اسی کے لئے ہے جو علی(ع) سے محبت رکھتا ہو اور ان کا مطیع ہو اور ان کے دشمنوں سے بیزار ہو اور ان کے اوران کے جانشینوںکے فضائل کا معترف ہو،میرے اوپر یہ حق ہے کہ انہیں اپنی شفاعت میں شامل کرلوں اور خدا پر حق یہ ہے کہ ان کے سلسلہ میں میری شفاعت قبول فرمالے کیونکہ وہ میرے پیرو کار ہیں اور جو شخص بھی میری پیروی کرے گا وہ مجھ سے ہے۔(۸)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ توبہ: ۱۱۹
۲۔اصول کافی،ج۱ ،ص ۲۰۸
۳۔اصول کافی، ج۱ ،ص ۳۷۶
۴۔سورۂ قصص:۵۰
۵۔اصول کافی،ج۱،ص۳۷۴    
۶۔اصول کافی، ج۱ ،ص ۲۰۸
۷۔اصول کافی، ج۱ ،ص ۲۰۸
۸۔اصول کافی، ج۱، ۳۰۰





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14