Wed - 2018 Nov 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193423
Published : 25/4/2018 19:17

کیا امام زمانہ(ع) کی ولایت ختم ہوگئی جو ہم فقیہ کی ولایت کو تسلیم کریں؟

آپ کو اگر معلوم نہ ہو تو ہم آپ کی اطلاع کے لئے بتا دیں کہ امام علی(ع) خود چونکہ مصر میں موجود نہیں تھے لہذا امام کی غیر موجودگی میں مصر والوں تک اپنا کا پیغام پہونچانے کے لئے خود محمد بن ابی بکر کو مصر کا والی نمائندہ،سفیر،اور پیغام رساں بنایا تھا۔اور یہ ولایت اللہ اور رسول و امام کی ولایت کے مقابل کوئی الگ ولایت نہیں ہے بلکہ اسی ولایت کا تسلسل اور استمرار ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! یہ کوئی  نئی بات نہیں ہے کہ جب اسلام کا لباس پہن کر کچھ  لوگ دین کے بنیادی مسائل اور عقائد کو تروڑ مروڑ کر پیش کر رہے ہوں،ایسا خود سرکار ختمی مرتبت(ص) کے زمانہ میں بھی ہوا کہ کچھ موقع پرستوں نے اپنے ذاتی مفاد کی خاطر لوگوں کے عقائد سے کھلواڑ کیا ہے اور اسی طرح آئمہ(ع) کے زمانے میں بھی ایسے لوگوں کی ایک بڑی تعداد تھی کہ جو دین کو سمجھنے کے معاملے میں اپنے کو خود آئمہ(ع) سے بھی بڑھ کر سمجھتے تھے۔(معاذ اللہ)
اسی طرح ہمارے ملک ہندوستان میں بھی کچھ دنوں سے ایک ویڈیو کلیپ بہت تیزی سے وائرل ہوئی جس میں ایک صاحب بڑے جوشیلے انداز میں یہ کہہ رہے ہیں کہ ہم ولایت فقیہ کو کیوں مانیں؟ جب خود سرکار ولی عصر(عج) زندہ ہیں تو ہم ان کی موجودگی میں کسی اور کو ولی کیوں تسلیم کریں؟کیا امام زمانہ(عج) کی ولایت ختم ہوچکی ہے جو ہم کسی اور کو ولی مانیں ؟
لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ اگر یہ باتیں ایک عام آدمی کہتا تو ہم اس کی ان باتوں کو ان جانا پن کہہ کہہ سکتے تھے لیکن یہ سب شبہات پیدا کرنے والا ظاہراً ایک دینی لباس پہنے ہوئے ہے ۔ اگرچہ ان کی باتوں کے انداز اور طریقہ گفتگو اور اہانت و توہین سے تو ایسا نہیں لگتا کہ یہ کسی عالم کی زبان اور انداز ہو۔
بہرحال وہ خود یہ جانتے ہیں کہ فقیہ کی ولایت فقہ شیعہ کے مسلمہ نظریات میں سے ہے اور یہی وہ بنیاد ہے جس کا ایک سرا غیبت اور دوسرا سرا ظہور امام زمانہ(ع) سے ملتا ہے۔ لیکن ظاہر ہے ان مولوی صاحب کا مقصد عام پبلک میں شبہات ایجاد کرکے انہیں سمجھانا نہیں بلکہ مزید بحث کو پیچدہ بنانا ہے اور ظاہر ہے وہ یہ کام خود نہیں کررہے ہیں بلکہ یقینی طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کے پس پشت کچھ لوگ ہیں جنہوں نے انہیں اپنا مہرہ بنایا ہوا ہے۔
میرے جوانوں اور بھائیوں! آئیے ہم ایک نظر اس موضوع اور اس کے نشیب و فراز پر ڈالتے ہیں تاکہ آپ حضرات کے ذہنوں میں موجود شبہات کا ازالہ ہوجائے:
۱۔قرآن مجید میں اللہ تعالٰی کا ارشاد ہوتا ہے: إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا بِأَمْوَالِهِمْ وَأَنفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَالَّذِينَ آوَوا وَّنَصَرُوا أُولَـٰئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَا لَكُم مِّن وَلَايَتِهِم مِّن شَيْءٍ حَتَّىٰ يُهَاجِرُوا ۔(سورہ انفال:۷۲)
ترجمہ: بیشک جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت کی اور راسِ خدا میں اپنے جان و مال سے جہاد کیا اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی یہ سب آپس میں ایک دوسرے کے ولی ہیں اور جن لوگوں نے ایمان اختیار کرکے ہجرت نہیں کی ان کی ولایت سے آپ کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک ہجرت نہ کریں۔
اب ہمارا ان جناب سے سوال یہ ہے کہ جو لوگوں کے دلوں میں ولایت جیسے مسلم امرکے لئے شکوک و شبہات ایجاد کررہے ہیں کہ امام زمانہ(عج) کے ہوتے ہوئے کسی کی ولایت کیسے ہوسکتی ہے؟ تو اس کا جواب بتائیے کہ  اللہ نے ہجرت کرنے والوں کو کیوں ایک دوسرے کا ولی قرار دیا ہے تو کیا (نعوذ باللہ)اللہ کی ولایت ختم ہوگئی کہ جو ہجرت کرنے والوں کو ایک دوسرے کا ولی بنا رہا ہے؟
۲۔یا اسی طرح ایک دوسرے مقام پر ارشاد ہوتا ہے: وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ ۚ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ ۔(سورہ مؤمنون:۷۱)
ترجمہ: مؤمن مرد اور مؤمن عورتیں آپس میں سب ایک دوسرے کے ولی اور مددگار ہیں کہ یہ سب ایک دوسرے کو نیکیوں کا حکم دیتے ہیں اور برائیوں سے روکتے ہیں،نماز قائم کرتے ہیں،زکات ادا کرتے ہیں اللہ اور رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔
قارئین کرام! اگر آپ اس آئیہ کریمہ میں غور فرمائیں تو اس میں  اللہ نے یہ وضاحت فرمادی ہے کہ مؤمنین میں کچھ لوگ ایک دوسرے کے بہرحال ولی ہیں۔
۳۔فقہ کی کتابوں میں کئی جگہ یہ بحث آئی ہے کہ ایک بچہ کے لئے اس کے باپ اور دادا ولی ہیں جیسا کہ خود شیخ صدوق نے اپنی معروف کتاب من لا یحضرہ الفقیہ میں ایک مکمل باب قائم  کیا ہے کہ  جس کا عنوان(باب الولی والشھود و الخطبۃ والصداق)ہے کہ جس کا معنیٰ ولی گواہ،خطبہ اور مہر ہے۔اب ان کی نظر میں تو معاذ اللہ شیخ صدوق بھی اللہ اور اس کے رسول کی ولایت کا انکار کرنے والوں میں ہوگئے؟ چونکہ شیخ نے یہ باب اور اس عنوان سے، اپنی کتاب میں قائم جو کیا ہے۔لہذا ہمارا مشورہ ہے کہ اگر وقت ہو تو اس باب کی طرف رجوع کرلیجئے گا چونکہ اس باب میں وہ احادیث بھی موجود ہیں جن میں خود معصومین(ع) نے باپ اور دادا کو بچوں کا ولی بنایا ہے۔
۴۔جس وقت حضرت علی(ع) نے محمد بن ابی بکر کو مصر کا حاکم بنایا تو آپ نے جو خط تحریر کیا اس میں یہ عبارت موجود ہے(انی قد ولیتک اعظم اجنادی فی نفسی اھل مصر۔۔۔۔۔) (نہج البلاغہ:مکتوب ۲۷) میں نے تم کو اپنے بہترین لشکر مصر والوں کا ولی بنایا ہے۔
جناب کیا اب ہم امام علی(ع) سے یہ سوال کریں کہ کیا آپ کی ولایت کا دائرہ مصر والوں کے لئے نہیں ہے جو آپ محمد بنی ابی بکر کو ولی بنا رہے ہیں؟
جناب آب خدا کا خوف کھائیے اور عوام کو گمراہ نہ کیجئے اور تملق باز اور طلب شہرت کے چکر میں اتنا آگے نہ نکل جائیں کہ پیچھے پلٹنا مشکل ہوجائے؟
آپ کو اگر معلوم نہ ہو تو ہم آپ کی اطلاع کے لئے بتا دیں کہ امام علی(ع) خود چونکہ مصر میں موجود نہیں تھے لہذا امام کی غیر موجودگی میں مصر والوں تک اپنا کا پیغام پہونچانے کے لئے خود محمد بن ابی بکر کو مصر کا والی نمائندہ،سفیر،اور پیغام رساں بنایا تھا۔اور یہ ولایت اللہ اور رسول و امام کی ولایت کے مقابل کوئی الگ ولایت نہیں ہے بلکہ اسی ولایت کا تسلسل اور استمرار ہے۔
اور آپ جس ولایت کا مذاق اڑا رہے ہیں اور دین کے دشمنوں کو خوش کرنے کے لئے رطب اللسانی کررہے ہیں یاد رکھئے اسی ولایت نے شیعت کو عزت بخشی ہے اور جس انسان کے پاس ذرا سا بھی شعور ہے وہ یہ جانتا ہے کہ اسی ولایت فقیہ کے نظام نے سامراجی طاقتوں اور وقت کے یزیدیوں کو شام و عراق میں ناکوں چنے چبوائے ہیں ۔امام زمانہ(ع) اللہ کی جانب سے منصوص ولی ہے،جبکہ فقیہ امام زمانہ(ع) کی طرف سے ولی ہیں لیکن بات یہ ہے جب ہر امام کو اپنے زمانہ میں ایک سفیر اور نمائندے کی ضرورت تھی تو کیا غیبت کے اس دور میں وہ ضرورت ختم ہوگئی؟ نہیں! بلکہ غیبت میں اس کی ضرورت کہیں زیادہ ہے ۔کیا آپ کو آج پوری دنیا میں شیعت کا بڑھتا  ہوا وقار نظر نہیں آتا؟ یہ سب اسی نظام ولی فقیہ کی برکت ہے۔
کیا مسلمانوں پر بڑھتے مظالم کے لئے کسی نے کوئی آواز اٹھاتا ہے؟ اور اگر کوئی آواز اٹھاتا ہے تو یہی نظام ولی فقیہ۔
کیا قبلہ اول کی آزادی کے لئے دنیا کی سُپر طاقتوں کو کسی میں للکارنے کی جرات ہے؟ اگر ہے تو اسی مرد مجاہد،ولی فقیہ،نائب امام اور ان کے لشکر والوں میں!
مجھے نہیں معلوم یہ کیمرے پر آکر ولایت فقیہ کی مخالفت میں زبان درازی کرنے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہے اور آپ کسے خوش کرنا چاہتے ہیں؟چونکہ آپ اس وقت کہاں تھے کہ جب شام و عراق میں اہل بیت(ع) کے چاہنے والوں کا خون بہایا جارہا تھا؟
آپ اس وقت کہاں تھے جب داعش اور اس کے آقاؤں کے خیموں میں کربلا و نجف سمیت تمام روضہ ہائے مقدسہ کو مسمار کرنے کا نقشہ تیار ہوچکا تھا؟
مجھے نہیں معلوم آپ اس وقت کہاں تھے جب حضرت زینب(س) کا حرم پاک داعش کے حصار میں آچکا تھا؟ اس وقت تو آپ کی کوئی آواز نہیں آئی۔اس وقت یہی ولی فقیہ اور اس کے سورما جوان تھے جنہوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر حرم حضرت زینب(ع) کو بچایا۔
ہم جانتے ہیں ان سوالوں میں سے کسی ایک کا جواب بھی آپ کے پاس نہیں ہے چنانچہ ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ شاید فکر کریں اگر اللہ توفیق دے۔ یہ سب برکتیں اسی سسٹم اور نظام کی ہیں جو ولایت فقیہ کے سبب عرصہ وجود میں آئیں۔
اور یہ بھی یاد رہےکہ فقیہ کی ولایت اللہ ،اس کے رسول،اور آئمہ طاہرین(ع) کی ولایت کا ہی تسلسل و استمرار ہے کوئی نئی چیز نہیں ہے اور اسے بدعت جیسے منفور لفظ سے تعبیر کرنا کسی صورت صحیح نہیں ہوگا۔ بس ضرورت ہے اس نظام کو سمجھنے کی۔
آپ سے ہم بس یہ بات کہیں گے کہ آپ اپنی ان بے تکی باتوں سے قوم کے جوانوں کے افکار میں تشویش و انتشار پیدا نہ کریں۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Nov 14