Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193438
Published : 26/4/2018 16:53

آدم(ع) کے لئے شیطان کا وسوسہ

ایک روایت جو تفسیر قمی اور عیون اخبار الرضا میں امام علی بن موسٰی رضا علیہ السلام سے مروی ہے اس میں وارد ہوا ہے:شیطان نے آدم سے کہا کہ اگر تم نے اس شجرہ ممنوعہ سے کھا لیا تو تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے اور پھر ہمیشہ کے لئے بہشت میں رہو گے ورنہ تمہیں بہشت سے باہر نکال دیا جائے گا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشتہ مضمون یہ عرض کیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم(ع) کو اس زمین سے پہلے بہشت میں سکونت دی تاکہ یہاں کے لئے کچھ تیاری کا موقع مل جائے لیکن یہ قیام بے قید و شرط نہیں تھا بلکہ مشروط طور پر قیام تھا اور شرط یہ تھی کہ آدم تم اس جنت میں تو رہو لیکن اس درخت کے نزدیک مت جانا۔ پس اس مقام پر آدم(ع) نے اس فرمان الہی کو دیکھا جس میں آپ کو ایک درخت کے بارے میں منع کیا گیا تھا ادھر شیطان نے بھی قسم کھا رکھی تھی کہ آدم اور اولاد آدم کو گمراہ کرنے سے باز نہ آئے گا چنانچہ وہ وسوسے پیدا کرنے میں مشغول ہوگیا جیسا کہ باقی آیات قرآنی سے ظاہر ہوتا ہے اس نے آدم(ع) کو اطمینان دلایا کہ اگر اس درخت سے کچھ لیں تو وہ اور ان کی بیوی فرشتے بن جائیں گے اور ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں رہیں گے یہاں تک کہ اس نے قسم کھائی کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں: فَوَسْوَسَ لَهُمَا الشَّيْطَانُ لِيُبْدِيَ لَهُمَا مَا وُورِيَ عَنْهُمَا مِن سَوْآتِهِمَا وَقَالَ مَا نَهَاكُمَا رَبُّكُمَا عَنْ هَـٰذِهِ الشَّجَرَةِ إِلَّا أَن تَكُونَا مَلَكَيْنِ أَوْ تَكُونَا مِنَ الْخَالِدِينَ۔(سورہ اعراف:۲۰)
اس طرح اس نے فرمان خدا کو ان کی نظر میں ایک دوسرے رنگ میں پیش کیا اور انہیں یہ تصور دلانے کی کوشش کی کہ اس شجرہ ممنوعہ، سے کھا لینا نہ صرف یہ کہ ضرر رساں نہیں بلکہ عمر جاوداں یا ملائکہ کا مقام و مرتبہ پا لینے کا موجب ہے۔ اس بات کی تائید اس جملے سے بھی ہوتی ہے جو شیطان کی زبان پر جاری ہو تھا: وَسْوَسَ إِلَيْهِ الشَّيْطَانُ قَالَ يَا آدَمُ هَلْ أَدُلُّكَ عَلَىٰ شَجَرَةِ الْخُلْدِ وَمُلْكٍ لَّا يَبْلَىٰ۔(سورہ طہٰ:۱۲۰)  اے آدم،کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں زندگانی جاودانی اور ایسی سلطنت کی رہنمائی کروں جو کہنہ نہ ہو؟۔
ایک روایت جو تفسیر قمی، میں امام جعفر صادق علیہ السلام  سے اور عیون اخبار الرضا میں امام علی بن موسٰی رضا علیہ السلام سے مروی ہے اس میں وارد ہوا ہے:شیطان نے آدم سے کہا کہ اگر تم نے اس شجرہ ممنوعہ سے کھا لیا تو تم دونوں فرشتے بن جاؤ گے اور پھر ہمیشہ کے لئے بہشت میں رہو گے ورنہ تمہیں بہشت سے باہر نکال دیا جائے گا۔
آدم نے جب یہ سنا تو فکر میں ڈوب گئے لیکن شیطان نے اپنا حربہ مزید کار گر کرنے کے لئے سخت قسم کھائی کہ میں تم دونوں کا خیر خواہ ہوں۔وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ۔(سورہ اعراف:۲۱)
حضرت آدم(ع) جنہیں زندگی کا ابھی کافی تجربہ نہیں تھا اور نہ ہی وہ ابھی تک شیطان کے دھوکے ،جھوٹ اور نیرنگ میں گرفتار ہوئے تھے انہیں یہ یقین نہیں ہوسکتا تھا کہ کوئی اتنی بڑی جھوٹی قسم بھی کھا سکتا ہے اور اس طرح کے جال، دوسرے کو گرفتار کرنے کے لئے پھیلا سکتا ہے،آخرکار وہ شیطان کے فریب میں آگئے اور آب حیات و سلطنت جاودانی حاصل کرنے کے شوق میں مکر ابلیسی کی بوسیدہ رسی کو پکڑ کے اس کے وسوسہ کے کنویں میں اتر گئے رسی ٹوٹ گئی اور انہیں نہ صرف آب حیات ہاتھ نہ آیا بلکہ خدا کی نافرمانی کے گرداب میں گرفتار ہوگئے ان تمام مطالب کو قرآن کریم نے اپنے ایک جملے میں خلاصہ کردیا ہے ارشاد ہوتا ہے: فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ۔(سورہ اعراف:۲۲) اس طرح شیطان نے انہیں دھوکا دیا اور اس نے اپنی رسی سے انہیں کنویں میں اتار دیا۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19