Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193441
Published : 26/4/2018 18:9

اسلامی انقلاب سے پہلے ایران میں عورت پر جفاؤں کی روداد؛رہبر انقلاب کی زبانی

ہم نے انقلاب سے پہلے کے دور کو نزدیک سے دیکھا ہے۔ اس دور میں ہمارے ملک، معاشرہ اور خواتین کے حالات بڑے ناگفتہ بہ تھے۔ ہمارے ملک میں تقلیدی کیفیت کے سبب یہاں کی عورتوں کا طرز زندگی مغربی ممالک کی عورتوں سے بھی بدتر تھا! کچھ اس طرح کی ثقافت رائج کی جارہی تھی۔

ولایت پورٹل: عورت کے حوالے سے عصر حاضر اور ماضی کے حالات میں کتنا فرق ہے! آج کی عورت اور سابق ستم شاہی حکومت کے دور کی عورت میں ہم اس فرق کو بخوبی محسوس کرسکتے ہیں۔ اس زمانہ میں عورت کی حیثیت پوری طرح پامال ہوچکی تھی۔
اس دور میں حکومت نے خاص طور پر بڑے شہروں میں عورت کی حرمت، حجاب، حدود اور قداست و طہارت پوری طرح پامال کردی تھی۔ آج کے حالات اس زمانے کے حالات سے قابل قیاس نہیں ہیں۔ تاہم اسے مزید بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ تو طئے ہے کہ موجودہ صورتحال گذشتہ کی نسبت کافی بہتر ہے اور ماضی سے قابل موازنہ نہیں ہے۔
انقلاب سے قبل یعنی چالیسویں دہائی کے اواخر اور پچاسویں دہائی کے آغاز میں (ایرانی سال کے مطابق) جوانوں کے درمیان اپنی تقریروں میں میں نے بارہا شواہد و قرائن کی بنیاد پر عرض کیا تھا کہ فساد و فحشاء، بے حجابی اور جنسی آزادی کے لحاظ سے جو صورتحال ہمارے ملک کی ہے وہ یوروپی ممالک کی بھی نہیں! واقعی ایسا ہی تھا، مجھے اس بات کا علم تھا۔
ہم نے انقلاب سے پہلے کے دور کو نزدیک سے دیکھا ہے۔ اس دور میں ہمارے ملک، معاشرہ اور خواتین کے حالات بڑے ناگفتہ بہ تھے۔ ہمارے ملک میں تقلیدی کیفیت کے سبب یہاں کی عورتوں کا طرز زندگی مغربی ممالک کی عورتوں سے بھی بدتر تھا! کچھ اس طرح کی ثقافت رائج کی جارہی تھی۔
عورتوں کو فیشن کی نمائش کی طرف لبھانا اور ان کو ایک استعمال ہونے والی چیز میں تبدیل ہوجانے کی طرف تشویق کرنا
عورت پر نہ جانے کتنے ستم کئے گئے! اور ان کا نام ستم ہے یا ان پر روا رکھے جانے والے کہ جنہیں ستم نہیں کہا جاتا ہے جبکہ در حقیقت ستم ہیں۔ جیسے عورتوں کو آرائش ونمائش کی طرف راغب کرنا ان کا غلط اور بیہودہ طریقہ سے آرائش وزیبائش کرنا اور پھر لمبے لمبے اخراجات کا آنا، ان کا ایک استعمال ہونے والی شئے میں تبدیل ہوجانا، یہ عورت پر بہت بڑا ظلم ہے۔ شاید اس سے بڑا کوئی اور ظلم نہ ہو۔ اس لئے کہ یہ صورتحال اسے پوری طرح اپنی راہ کمال کے اغراض و مقاصد سے غافل کردیتی ہے اور اسے انتہائی پست اور چھوٹی چیزوں میں سرگرم کردیتی ہے۔ یہ وہ صورتحال ہے جو گذشتہ ظالم بادشاہی حکومت میں تھی اور اب اس پر لگام کسنے کی ضرورت ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17