Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193443
Published : 26/4/2018 18:34

نماز یعنی بخشش کی امید

اے علی! مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے برحق بشیر و نذیر کرکے مبعوث فرمایاکہ تم میں سے جب کوئی شخص وضو کرکے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے اعضاء سے گناہ جھڑتے ہیں اور جب اللہ کی بارگاہ سے شرف یاب ہوکر واپس آتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں رہتا بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ گویا ابھی شکم مادر سے پیدا ہوا ہو۔

ولایت پورٹل: ابوحمزہ ثمالی سے مروی ہے کہ امام محمد باقر(ع) نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت علی(ع) نے لوگوں سے دریافت کیاکہ قرآن مجید میں وہ کون سی آیت ہے جس میں سب سے زیادہ گناہ گاروں کو بخشش کی امید دلائی گئی ہے؟ ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے یہ آیت پڑھی:«اِنَّ اللّٰہَ لَایَغْفِرُ اَنْ یُشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذَالِکَ لِمَنْ یَّشَآئُ»۔(۱)
یعنی خدا بس شرک کو نہیں بخشتا اس کے علاوہ جس کے چاہے تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے۔ مولا نے فرمایا خوب ہے لیکن میری مراد یہ آیت نہیں ہے۔ پھر ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا اور اس نے ایک آیت کی تلاوت کی:«قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلیٰ اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوا»۔(۲)    
پیغمبر! آپ پیغام پہنچادیجئے کہ اے میرے بندو! جو اپنے نفسوں پر اسراف کرچکے ہو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو۔ پھر مولائے کائنات نے کہا :خوب ہے لیکن یہ وہ آیت نہیں ہے جسے میں چاہتا ہوں۔ پھر ایک شخص کھڑا ہوا اور اس نے اس آیت کی تلاوت کی:«وَالَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَۃً»۔(۳)
یعنی وہ لوگ جو غلط کاری کے بعد پشیمان ہوجائیں تو ان کی لغزش معاف کردی جاتی ہے۔ تو آپ نے فرمایا یہ بھی خوب ہے لیکن میری مراد یہ آیت نہیں ہے۔ اس کے بعد کسی میں بولنے کی ہمت نہ ہوئی ،تب مولائے کائنات(ع) نے فرمایا: کہ میں نے حضور(ص) سے سنا ہے کہ سب سے زیادہ بخشش کے لئے پرامید بنا دینے والی آیت قرآن مجید میں یہی ہے جس کو میں بیان کرچکا ہوں۔ یعنی:«وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ»۔(۴)
اور اے رسول! دن کے دونوں حصوں میں اور کچھ رات گئے نماز پڑھا کرو کیونکہ یقیناً نیکیاں گناہوں کو دور کرتی ہیں اور ہماری یاد کرنے والوں کے لئے یہ بات نصیحت و عبرت ہے۔
پھر رسول اسلام(ص) نے مولا علی(ع) سے فرمایا:’’اے علی! مجھے اس ذات کی قسم جس نے مجھے برحق بشیر و نذیر کرکے مبعوث فرمایاکہ تم میں سے جب کوئی شخص وضو کرکے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے اعضاء سے گناہ جھڑتے ہیں اور جب اللہ کی بارگاہ سے شرف یاب ہوکر واپس آتا ہے تو اس پر کوئی گناہ نہیں رہتا بلکہ ایسا ہوتا ہے کہ گویا ابھی شکم مادر سے پیدا ہوا ہو اور اگر دو نمازوں کے درمیان کوئی گناہ غلطی سے سرزد ہوجائے تو وہ بخش دیا جاتا ہے اور پھر پانچوں نماز کا ذکر کیا کہ اے علی! میری امت کے لئے پانچوں نمازیں ایسی ہیں جس طرح کسی کے گھر کے سامنے نہر جاری ہو اور جب اس شخص کے جسم پر کوئی میل ہو تو وہ دن بھر میں پانچ مرتبہ غسل کرے تو کیا پھر بھی اس کے جسم پر میل باقی رہے گا؟ پس بخدا اسی طرح میری امت کے لئے پانچوں نمازیں ہیں۔ جب کوئی گناہ کرتا ہے اور حقیقی معنوں میں توبہ کرکے اپنے خالق کے سامنے حاضر ہوتا ہے تو اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں‘‘۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔ سورۂ نساء:۴۸۔
۲۔ سورۂ الزمر:۵۳۔
۳۔ سورۂ آل عمران:۱۳۵۔
۴۔ سورۂ ہود:۱۱۴۔


 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17