Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193449
Published : 28/4/2018 4:51

مسلمانوں پر سامراج کا تسلط قرآنی تعلیمات پر عمل نہ کرنے کا نتیجہ ہے:رہبر معظم

رہبر معظم نے فرمایا کہ بعض اسلامی ممالک قرآن کریم پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں ہی پسماندگی اور کفار کے تسلط میں گرفتار ہیں۔

ولایت پورٹل:رہبر معظم آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے تہران میں پینتیسویں قرآنی مقابلوں میں شریک، قاریان وحافظان قرآن اور قرآنی علوم کے ماہرین  کے عظیم اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کی تاکید کی اور کہا قرآن سے بے توجہی اور اس کی تعلیمات پر عمل نہ کرنے سے ناقابل تلافی نقصانات کا سامنا کرنا پڑے گا،رہبر معظم نے فرمایا کہ بعض اسلامی ممالک قرآن کریم پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں ہی پسماندگی اور کفار کے تسلط میں گرفتار ہیں، رہبر معظم کا کہنا تھا کہ اسلامی ممالک، قرآن سے تمسک نہ حاصل کرنے کے نتیجے میں ذلت و رسوائی کی بیماری میں مبتلا ہیں اور یہ جو امریکی صدر انتہائی بے حیائی کے ساتھ کہتا ہے کہ اگر ہم نہ ہوں تو بعض عرب ممالک ایک ہفتہ بھی باقی نہ رہیں، اسی بیماری کا نتیجہ ہے،رہبر معظم نے مزید فرمایا قرآن ہم سے کہتا ہے کہ مومنین کوچاہئے کہ کفر اور دنیا کی خودسر طاقتوں کے مقابلے میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ڈٹ جائیں ورنہ ذلت و رسوائی، بے راہ روی، خونریزی اور پسماندگی کا شکار ہوجائیں گے،آپ نے فرمایا کہ قرآن ہم سے کہتا ہے کہ مومنین ایک دوسرے کے ساتھ متحد رہیں، ولایت سے جڑے رہیں، اور محاذ کفر سے کوئی رابطہ اور تعلق نہ رکھیں، لیکن افسوس کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بعض اسلامی ممالک صیہونی حکومت سے رابطہ رکھتے ہیں اور قرآنی احکام پر عمل نہ کرنے کے نتیجے میں جنگ اور وحشیانہ جرائم سے دوچار ہے، رہبر معظم نے فرمایا کہ یمن کے عوام کے حالات کو دیکھیں کہ کیسی مصیبت میں گرفتار ہیں، ان کی شادی کی تقریب عزاداری میں تبدیل ہوجاتی ہے، اسی طرح افغانستان، پاکستان، اور شام کی حالت کو دیکھیں، یہ تمام مسائل اس لئے ہیں کہ مومنین کے درمیان ولایت و اخوت فراموش کردی گئی اور قرآنی احکام پر عمل نہیں کیا جارہا ہے،آپ نے فرمایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، (قران کریم پر عمل کرنے کے نتیجے میں ہی) چالیس سال سے سامراجی طاقتوں کی زور و زبردستی کے مقابلے میں ڈٹا ہوا ہے، سامراجی طاقتیں اس نظام کو نابود کردینا چاہتی تھیں لیکن اس نظام کی پیشرفت و ترقی اور طاقت و توانائی میں روز افزوں اضافہ ہوا ہے،آپ نے حفظ و قرائت قرآن کو قرآن کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی تمہید قرار دیا اور نوجوانوں کو حفظ و قرائت قرآن کو اسی نقطہ نگاہ سے دیکھنے کی ہدایت کی، رہبر معظم نے کہا  اگر حفظ و قرائت قرآن کو اس پر عمل کرنے کی تمہید قرار دیا جائے تو یقینا اسلامی دنیا کا کل یعنی مستقبل آج سے بہتر ہوگا اور پھر امریکا امت اسلامیہ اور اسلامی ملکوں کے لئے نہ حدود کا تعین کرسکے گا اور نہ ہی انہیں دھمکی دے سکے گا۔
تسنیم




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19