Sunday - 2018 Sep 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193463
Published : 28/4/2018 16:53

امام سجاد(ع) کی نگاہ میں معاشرت کے آداب

اے زہری یہ جان لو کہ سب سے افضل وہ انسان ہوتا ہے جو بنی نوع انسان کو زیادہ سے زیادہ خیر اور بھلائی پہونچانے کا خواہاں ہو اگرچہ وہ خود محروم کردیا جائے اور تم اپنے کو سب سے بے نیاز تصور کرو اور کسی سے کسی قسم کی توقع نہ رکھو!

ولایت پورٹل: امام حسن عسکری علیہ السلام اپنے جد نامدار حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے متعلق ایک حکایت نقل کرتے ہیں کہ ایک دن امام کے پاس زہری آئے کہ جو نہایت غمگین و افسردہ تھے جیسے ہی اس پر امام کی نگاہ پڑی فرمایا:تم کیوں غمگین اور اداس ہو؟
زہری نے کہا:فرزند رسول!آج کل میرے آشنا اور جاننے والے مجھ پر بڑی انگشت نمائی کرتے ہیں اور میرے متعلق طرح طرح کی باتیں بناتے ہیں میں انہیں سب چیزوں کی وجہ سے پریشان ہوں۔
امام سجاد علیہ السلام نے فرمایا: اے زہری! تم اپنی زبان کو کنٹرول کرو اور ہر بات کو ہر جگہ اور ہر ایک کے سامنے بیان مت کرو،ہر بات کہنے سے پہلے یہ سمجھ لو کہ تم کس کے سامنے کیا کہہ رہے ہو تاکہ دوسرے لوگ بھی تمہارا لحاظ کرنے لگیں۔
زہری نے عرض کیا: فرزند رسول! میں نے ان لوگوں کے لئے کسی خدمت سے دریغ نہیں کیا اور جتنا مجھ سے ممکن ہوا میں نے ان کی مدد اور احسان کیا۔
حضرت نے فرمایا: ہوشیار رہو کہ تکبر اور غرور تمہیں نہ جکڑ لے لیکن تم جو بھی کہو وہ بہتر ہو اور دوسروں کی باتوں میں ہمیشہ برائی تلاش مت کرو،بلکہ دوسروں کی باتوں میں فکر و تدبر کرو تاکہ تمہاری وسیع القلبی کا اظہار ہوسکے۔
اس کے بعد امام علیہ السلام نے فرمایا: جو شخص زندگی کے متعدد مسائل اور اجتماعی امور میں اپنی عقل کا استعمال نہ کرے اور کان اور آنکھوں کو بند کرلیتا ہے وہ جلدہی قعر ضلالت و ہلاکت میں گرجاتا ہے۔
اے زہری کتنا بہتر ہو جو تم تمام مسلمانوں کو ایک ہی خاندان کے افراد کی طرح حساب کرو،اس طرح کہ جو تم سے بڑے ہیں انہیں باپ کے مانند عزت دو اور جو تم سے چھوٹے ہیں انہیں اپنی اولاد کی طرح شفقت سے دیکھو اور جو تمہارے ہم سن اور ہم عمر ہیں ان کے ساتھ اپنے بھائیوں جیسا سلوک روا رکھو۔
کیا تمہیں پسند ہے کہ  کوئی تمہارے گھر والوں کے حق میں کسی طرح کا تجاوز یا ظلم رو رکھے یا کوئی نقصان ان میں سے کسی کو پہونچے یا کیا تمہیں پسند ہے کہ بلا وجہ ان میں سے کسی کی عزت پامال ہوجائے۔
اگر شیطان ملعون تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا کردے کہ تم کسی مسلمان سے بہتر اور بافضیلت ہو  تو تم غور و فکر کرو کہ میں کیسے اس شخص سے بافضیلت ہوسکتا ہوں چونکہ اس کے اعمال خیر اور صالح تو مجھ سے زیادہ ہے پس وہی مجھ سے افضل ہوگا۔
اور اگر وہ تم سے چھوٹا ہو تو یہ کہو کہ چونکہ میری عمر زیادہ ہے لہذا میرے گناہ اور معصیتیں زیادہ ہیں لہذا وہ مجھ سے بہتر ہے۔
اے زہری یہ جان لو کہ سب سے افضل وہ انسان ہوتا ہے جو بنی نوع انسان کو زیادہ سے زیادہ خیر اور بھلائی پہونچانے کا خواہاں ہو اگرچہ وہ خود محروم کردیا جائے اور تم اپنے کو سب سے بے نیاز تصور کرو اور کسی سے کسی قسم کی توقع نہ رکھو!

منبع:احتجاج طبرسى، ج ۲، ص ۱۵۲، ح ۱۹۱ ۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Sep 23