Monday - 2018 Nov 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193466
Published : 28/4/2018 17:51

مولانا تہذیب الحسن صاحب قوم کا عظیم سرمایہ تھے:رہبر معظم کے نمائندے

موصوف کا فقدان ایک عظیم قومی سرمایہ سے ہندوستان کا محروم ہوجانا ہے میں اس بزرگ شخصیت کے سانحہ ارتحال پر امام زمانہ(عج) ہندوستان کے علماء و مدارس،اعظم گڑھ کے مؤمنین، مرحوم سے وابستہ دونوں مراکز کے اساتذہ اور طلبہ اور خاص طور پر ان کے پس ماندگان کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں اور خداوند عالم سے ان کی مغفرت اور بلندی درجات کا طلبگار ہوں۔

ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق آج صبح ہندوستان کے معروف شیعہ عالم اور تعلیمی میدان میں ایک نامور شخصیت مولانا سید تہذیب الحسن صاحب کے سانحہ ارتحال کی خبر سن کر ہندوستان کے علم دوست حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی اسی مناسبت پر رہبر انقلاب اسلامی کے ہندوستان میں نمائندے حجۃ الاسلام و المسلمین مولانا مہدی مہدوی پور صاحب نے ان الفاظ میں اپنے دکھ کا اظہار کیا ہے۔
انا لله وانا اليه راجعون
توانا و شجاع خطیب  جناب مولانا سید تہذیب الحسن رضوی(رح) کی وفات کی خبر سن کر نہایت افسوس ہوا،موصوف نے زندگی بھر مکتب اہل بیت(ع) کی خدمت کی اور تبلیغ و اشاعت مذہب کے لئے منبر کے ساتھ ساتھ اعظم گڑھ میں دو اہم علمی مراکز؛ حوزہ امام مہدی(ع) اور حوزہ حضرت زینب(س) کی بنیاد  ڈال کر  تشنگان معرفت کو سیراب کرنے کے سرچشموں کا اہتمام بھی کیا۔
موصوف اسلامی انقلاب اور ولایت فقیہ اور مرجیعت کا بڑی شجاعت کے ساتھ دفاع کرتے تھے اور مجھے آج بھی ان کی وہ آخری تقریر یاد ہے جو انہوں نے اکبر پور میں کی تھی۔
موصوف ہندوستان کا ایک تقریبی چہرہ تھا جنہوں نے مسلکی اختلاف کو نظر انداز کرتے ہوئے اہل سنت اور شیعوں کے درمیان اتحاد و کجہتی کی فضا قائم کر رکھی تھی۔
لہذا موصوف کا فقدان ایک عظیم قومی سرمایہ سے ہندوستان کا محروم ہوجانا ہے میں اس بزرگ شخصیت کے سانحہ ارتحال پر امام زمانہ(عج) ہندوستان کے علماء و مدارس،اعظم گڑھ کے مؤمنین، مرحوم سے وابستہ دونوں مراکز کے اساتذہ اور طلبہ اور خاص طور پر ان کے پس ماندگان کی خدمت میں تعزیت و تسلیت پیش کرتا ہوں اور خداوند عالم سے ان کی مغفرت اور بلندی درجات کا طلبگار ہوں۔
مہدی مہدوی پور
۱۱ شعبان المکرم ۱۴۳۹ ہجری
نئی دہلی


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Nov 19