Wed - 2018 Sep 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193486
Published : 29/4/2018 19:4

حضرت خضر کی طولانی عمر کا راز؟

حضرت خضر علیہ السلام اس وجہ سے طولانی حیات عنایت کی گئی کہ علم ازلی خدا میں ہمارے قائم(عج) کی عمر طولانی مقدر ہوچکی تھی اور وہ یہ بات جانتا تھا کہ لوگ ان کی طولانی عمر کا انکار کرنے لگیں گے لہذا اللہ نے حضرت خضر کو طولانی حیات دی تاکہ ہمارے قائم کی طولانی عمر پر ان کے طویل العمر ہونے سے استدلال کیا جاسکے۔اور اس طرح دشمنوں کے اشکالات ختم ہوجائیں اور لوگوں پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے۔

ولایت پورٹل: حضرت خضر علیہ السلام ان انبیاء میں سے ہیں جن کے بارے میں قرآن مجید کی متعدد آیات میں اشارے ملتے ہیں البتہ بعض علماء ان کی نبوت کے تو قائل نہیں ہیں لیکن انھیں اللہ کا عبد خالص مانتے ہیں نیز بہت سی روایات میں اس امر کی طرف بھی اشارے ملتے ہیں۔
حضرت خضر علیہ السلام سے مربوط آیات قرآن مجید کے سورہ کہف میں بیان ہوئی ہیں کہ جہاں اللہ تعالٰی نے حضرت موسیٰ علیہ السلام  کا تذکرہ کیا ہے کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جناب خضر سے ملاقات کرتے ہیں اور اس واقعہ میں خداوند عالم حضرت خضر کو عبد کے نام سے یاد کرتا ہے: «فَوَجَدا عَبْداً مِنْ عِبادِنا آتَیْناهُ رَحْمَةً مِنْ عِنْدِنا وَ عَلَّمْناهُ مِنْ لَدُنَّا عِلْماً؛۔(سورہ کہف:۶۴) تو اس جگہ پر ہمارے بندوں میں سے ایک ایسے بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی طرف سے رحمت عطا کی تھی اور اپنے علم خاص میں سے ایک خاص علم کی تعلیم دی تھی۔
لیکن جناب خضر کے متعلق یہ مسئلہ نہایت اہم ہے کہ آپ کی طویل العمری کا راز کیا ہے؟ کیا آپ کی حیات اس لئے طولانی ہے کہ آپ نے آب حیات پیا تھا؟ یہی مسئلہ سبب ہوا کہ لوگ  اکثر  اہل بیت علیہم السلام سے سوال کرتے تھے اور حضرت خضر کے زندہ ہونے کے متعلق سوالات کرتے تھے لیکن آل محمد(ع) جو لوگوں کو جواب دیا کرتے تھے اس میں آب حیات پینے یا نہ پینے کے پہلو پر کوئی خاص توجہ نہیں ملتی بلکہ معصومین(ع) کی نظریں جناب حضر کے فلسفہ وجود و بقا(یعنی مہدویت) ہوتا تھا اور حضرات معصومین(ع) اسی پہلو کو سامنے رکھ کر جواب دیتے تھے۔ اگرچہ بعض شیعہ کتب میں جناب خضر کے آب حیات پینے کا بھی تذکرہ موجود ہے۔
چنانچہ سدیر صیرفی ایک مفصل حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے نقل کرتے ہیں: حضرت خضر کو اس لئے طولانی حیات اور زندگی نہیں دی گئی کہ انہیں منصب نبوت سے سرفراز کیا جائے اور ان پر کوئی کتاب نازل کی جائے یا ان کا دین سابق انبیاء کے ادیان کو منسوخ کرنے کے لئے آیا ہو،یا ان کے پاس امامت کا منصب ہو کہ لوگ جس کی اطاعت کو اپنا فرض سمجھیں۔بلکہ انہیں اس وجہ سے طولانی حیات عنایت کی گئی کہ علم ازلی خدا میں ہمارے قائم(عج) کی عمر طولانی مقدر ہوچکی تھی اور وہ یہ بات جانتا تھا کہ لوگ ان کی طولانی عمر کا انکار کرنے لگیں گے لہذا اللہ نے حضرت خضر کو طولانی حیات دی تاکہ ہمارے قائم کی طولانی عمر پر ان کے طویل العمر ہونے سے استدلال کیا جاسکے۔اور اس طرح دشمنوں کے اشکالات ختم ہوجائیں اور لوگوں پر اللہ کی حجت تمام ہوجائے۔(کمال الدین و تمام النعمۃ،ج۲،ص۳۳۳، الغیبۃ(للطوسی) کتاب الغیبۃ للحجۃ،ص۱۷۲)۔
قارئین کرام! اس روایت کی بنیاد پر حضرت حضر کی طولانی عمر کا راز یہ ہے کہ لوگ امام زمانہ (عج) کی طولانی عمر کے مسئلہ کو آسانی کے ساتھ سمجھ کر قبول کرلیں۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Sep 19