Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193489
Published : 29/4/2018 17:39

یزید کا دفاع اور وہابی مقاصد

وہابیت سے منسلک علمی مراکز میں ہر سال حضرت علی(ع) کی شخصیت پر تنقید کرنے کے لئے متعدد تحقیقات اور تھیسیز(thesis) لکھی جاتی ہیں اور ان میں حددرجہ حضرت کی منقصت کی جاتی ہے لیکن یہ لوگ ولید جیسے شراب خوار کے متعلق ایک حرف بھی زبان پر نہیں لاتے کہ جسے خود قرآن مجید نے فاسق کہہ کر تعارف کروایا ہے۔


ولایت پورٹل:
جس طرح وہابی اکثر مسلمانوں کے برخلاف اسلام کے اہم عقائد و مسائل جیسے توحید،شرک،انبیاء اور اولیاء سے توسل،تبرک ،زیارت و شد الرحال وغیرہ کے متعلق ضد اسلامی اور خلاف قرآن و سنت نظریات کے قائل ہیں بالکل اسی طرح اہل بیت پیغمبر(ص) کے متعلق بھی۔ اکثر مسلمانوں کے برخلاف۔ کچھ خاص نظریات کے حامل ہیں۔ یہ لوگ بنی امیہ سے کئے پیمان وفاداری کو نبھانے کے لئے اہل بیت علیہم السلام کے فضائل و کرامات کا انکار کرتے ہیں اور ہمیشہ یہ کوشش کرتے ہیں کہ مسلمانوں کے درمیان اہل بیت(ع) کی عزت و وقار کم ہوجائے اور وہ(وہابی) ان بزرگ ہستیوں کو طرح پیش کرتے ہیں جیسے یہ کوئی معمولی انسان ہوں تاکہ صحابہ اور تابعین تو بہت دور بلکہ عام مسلمان سے بھی ان کا رتبہ کم نظر آنے لگے۔(نعوذ باللہ)۔
متعلقہ موضوع پر ایک اور تحریر:
ابن تیمیہ اور یزید کا دفاع
وہابیت سے منسلک علمی مراکز میں ہر سال حضرت علی(ع) کی شخصیت پر تنقید کرنے کے لئے متعدد تحقیقات اور تھیسیز(thesis) لکھی جاتی ہیں اور ان میں حددرجہ حضرت کی منقصت کی جاتی ہے لیکن یہ لوگ ولید جیسے شراب خوار کے متعلق ایک حرف بھی زبان پر نہیں لاتے کہ جسے خود قرآن مجید نے فاسق کہہ کر تعارف کروایا ہے۔(۱) اور صرف یہی نہیں بلکہ یہاں تک کہتے ہیں کہ ولید صحابی رسول ہے اور ہم صحابی کے لئے کسی رائے کا اظہار نہیں کرسکتے۔
اور صرف یہی نہیں کہ یہ لوگ ولید جیسے فاسق کو تمغہ صحابیت دیتے ہیں بلکہ یزید بن معاویہ کے متعلق بھی ان کا موقف بڑا عقیدتمندانہ ہے وہابی ہمیشہ اس جستجو میں رہتے ہیں کہ کسی طرح یزید کو واقعہ کربلا سے بری کردیا جائے بلکہ اسے ایسے خلیفہ ہونے کا عنوان دیتے ہیں کہ جس کے دور حکومت میں اسلام کو مزید عزت ملی ہو۔ وہابی اپنے روحانی باپ ابن تیمیہ کی اتباع میں۔(۲) یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ یزید ان بارہ خلفاء میں شامل ہے کہ جن کے متعلق جابر بن سمرہ نے رسول اللہ(ص) سے یہ روایت نقل کی ہے:میں نے رسول خدا(ص) کو فرماتے سنا کہ:اسلام مسلسل بارہ خلفاء کے سبب عزت مند اور باوقار رہے اور جو سب کے سب قریش سے ہونگے۔(۳)
سعودی عرب کے تعلیمی سلیبس میں چلنے والی کتابوں میں یزید کو امیرالمؤمنین کے نام سے یاد کیا جاتا ہے تاکہ یہاں کے بچے ابتداء ہی سے یزید کی محبت میں پیدا ہوکر جوان ہوں اور پروان چڑھیں۔ اور طول تاریخ میں مسلمانوں کی جانب سے جو نفرتیں یزید کے حصہ میں آئی ہیں وہ اس صورت ان کے اذہان و دل سے دھل جائیں۔
چنانچہ اسی مقصد کی تکمیل کے خاطر جو کتابیں تحریر کی گئی ان میں سے ایک کتاب کا نام یہ ہے: «حقائق عن أمیرالمومنین یزید بن معاویة» جس کی جلد کی تصویر کو مرحوم علامہ مرتضٰی عسکری اپنی کتاب معالم المدرستین۔(۴) میں لائے ہیں۔لہذا اس کتاب میں یزید بن معاویہ کی حد درجہ تمجید اور تعظیم کی گئی ہے۔
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا یہ وہ یزید نہیں ہے جس نے بیت اللہ کے دروازوں کو حاجیوں کے لئے بند کردیا تھا اور اس پر منجیق سے آگ کے گولے برسائے تھے؟
کیا یہ وہی یزید  نہیں ہے جس نے تین دن رات مسجد النبی اور مدینہ کو اپنے سپاہیوں کے لئے مباح قرار دے کر اس کی حرمت کو پامال کیا کہ جس میں ہزاروں لوگوں کا قتل عام ہوا اور ہزاروں خواتین کی عزت پامال کی گئی؟(۵)
وہابیت ہر قیمت پر یزید کا دفاع کرنے کے لئے تیار ہیں اور محرم کے دنوں میں دنیا بھر میں شیعوں کا قتل عام اسی فکر کا عملی انعکاس ہے وہابیت در حقیقت بنی امیہ کے خرابے پر کھڑی عمارت کا نام ہے جسے سینکڑوں برس کے بعد دوبارہ بنایا جارہا ہے۔
آج ان کے پاس تیل کے ذخائر سے حاصل شدہ دولت کا انبار ہونے کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کے دو اہم مراکز مکہ و مدینہ ان  کے قبضے میں ہیں اور یہ لوگ(وہابی) بنی امیہ کی تاریخ کے کھنڈرات میں دبی مردہ حکومت کو دوبارہ احیاء کرنا چاہتے ہیں چنانچہ مشہور وہابی مفتی آل الشیخ کی وہ تقریر سوشل میڈیا پر موجود ہے کہ جس میں اس نے یزید کے دفاع کی بھرپور کوشش کی ہے اور اس نے عالم اسلام کے سامنے یزید کو ایک مثبت شخصیت کے طور پر پیش کرنے کی ناکام کوشش کی اور مزے کی بات یہ کہ اس تقریر میں یہ وہابی شیطان صفت مفتی یزید کے ہاتھ پر مسلمانوں کی بیعت کو شرعی اور اس کے خلاف امام حسین(ع) کے قیام کو ناحق بتایا ہے اور ساتھ ہی اس نے روز عاشور کو جشن، خوشی اور شادمانی کا دن بتایا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ حجرات:۶۔يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَأٍ فَتَبَيَّنُوا أَن تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَى مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ۔
۲۔منهاج السنه، ابن­تيميه الحراني، احمدبن عبدالحليم، منهاج السنه النبويه، موسسه قرطبه، اول 1406.ج ٨ ، ص ۵٧٣ ۔
۳۔صحیح مسلم، مسلم بن الحجاج أبو الحسن القشيري النيسابوري (المتوفى: 261هـ)، دار إحياء التراث العربي – بيروت، بیتا.ج3، 1453.
۴۔ معالم المدرستین، سید مرتضی عسکری،مرکز چاپ و انتشارات علمی، تهران، 1373. ص 331،
۵۔ الصواعق المحرقه، الصواعق المحرقة، أحمد بن محمد بن علي بن حجر الهيتمي، لبنان، مؤسسة الرسالة،  1417ق، اول.  ص ٢١٨ .



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17