Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193506
Published : 30/4/2018 15:51

امام مہدی(عج) کا قیام اور اہداف عاشورا کی تکمیل

امام حیسن علیہ السلام اور امام مہدی(عج) کے قیام میں بہت سی مشترک وجوہات پائی جاتی ہیں چونکہ وہ بیج جو کربلا میں بوئے گئے تھے امام زمانہ(عج) کی عالمی حکومت میں وہ جوان ہوکر پرثمر اور بار آور درختوں میں تبدیل ہوکر دنیا کو حق و عدالت کا سایہ فراہم کریں گے اور اسی زمانہ میں آدم سے لیکر حضرت خاتم تک تمام انبیاء کے مقاصد پایہ تکمیل کو پہونچیں گے اور بشریت صلح و امن و سعادت کی حقیقی لذت سے آشنا ہوسکےگی۔

ولایت پورٹل: حضرت امام حسین(ع) نے قرآنی تعلیمات اور الہی احکام اور سنت نبوی(ص) کے احیاء اور بقا کے لئے، بنی امیہ کی جانب سے رائج کردہ بدعتوں کو ختم کرنے کے لئے قیام کیا چنانچہ مدینہ سے لیکر کربلا تک اپنے پورے سفر کے دوران آپ نے بارہا اپنے مقصد قیام کی وضاحت فرمائی:«میں اپنے نانا کی امت کی اصلاح کے لئے قیام کررہا ہوں اور یہ چاہتا ہوں کہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کروں،اور اپنے جد رسول اللہ(ص) اور اپنے بابا علی مرتضیٰ(ع) کی سیرت و سنت پر عمل پیرا ہوں۔(۱)
نیز آپ نے بصرہ کے قبائلی سرداروں کو جو خطوط تحریر فرمائے ان میں بھی اس مقصد کی تصریح فرمائی ہے:میں آپ لوگوں کو کتاب خدا اور سنت پیغمبر(ص) پر عمل کرنے کی دعوت دے رہا ہوں  اور جس طرح ہم آج زندگی بسر کررہے ہیں اس سے سنت نبی کا دامن ہمارے ہاتھوں سے چھوٹتا جارہا ہے اور ان کی جگہ ہماری زندگی میں بدعات اور غیر اسلامی رسم و راوج نے لے لی ہے اور اگر آپ لوگ میری دعوت کو قبول کریں اور میری مدد کے لئے اٹھ کھڑے ہوں تو میں آپ لوگوں کو راہ راست اور سچائی کی طرف ہدایت کروں گا۔(۲)
قارئین کرام! امام حسین علیہ السلام کے ان بیانات کی روشنی میں آپ کے قیام کے مقاصد واضح ہوجاتے ہیں اور یہ سمجھ میں آجاتا ہے کہ آپ کا قیام قرآن مجید،سنت نبوی،سیرت علوی کے احیاء اور بدعتوں اور انحرافات کے خاتمے نیز حق کی بالا دستی، ظلم و استبداد کی بیخ کنی اور عدالت کے لئے تھا۔
اور اس وجہ سے کہ امام مہدی(عج) امام حسین علیہ السلام کے فرزند اور ضمانت بقائے پیغام عاشورا ہیں آپ کے قیام میں بھی وہی چیزیں ہیں جن کی شروعات آپ کے جد نے کی تھی چنانچہ امام علی(ع) حضرت ولی عصر(عج) کی حکومتی سیرت کے متعلق فرماتے ہیں: جب لوگ ہوائے نفس کو ہدایت پر مقدم رکھیں گے اس وقت وہ(مہدی) انسانی رجحانات کو ہدایت کی طرف موڑ دیں گے۔ جب لوگ قرآن کی تفسیر بالرأی کرنے میں مشغول ہونگے  تو وہ(مہدی) آکرلوگوں کے نظریات و آراء کا رخ قرآن مجید کی طرف موڑ دیں گے اور یقیناً آپ لوگوں کو یہ بتلائیں گے کہ کس طرح دنیا میں عدالت قائم ہوتی ہے اور قرآن و سنت کی فرموش شدہ تعلیمات زندہ کی جاتی ہیں۔(۳)
امام محمد باقر(ع) فرماتے ہیں:قائم آل محمد(عج) لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی کتاب(قرآن مجید) رسول اللہ(ص) کی سنت اور علی(ع) کی ولایت اور دشمنان خدا سے بیزاری کی طرف دعوت دیں گے۔(۴)
اسی طرح کا مضمون خود امام صادق علیہ السلام کی حدیث میں بھی ذکر ہوا ہے: حضرت مہدی(عج) معاشرہ میں رائج شدہ تمام بدعتوں کو اکھاڑ پھینکے گے اور اس کے مقابل ایک ایک سنت کو معاشرہ میں دوبارہ زندہ کریں گے۔(۵)
نیز ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں: جب ہمارے قائم(عج) قیام کریں گے تو لوگوں کے درمیان ان کا ہر فیصلہ عدالت و انصاف پر مبنی ہوگا آپ کے زمانے میں ظلم و ستم کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور راستے محفوظ ہوجائیں گے اور ہر صاحب حق کو اس کا حق مل جائے گا اور اسلامی اقدار کی پوری دنیا میں حکومت ہوگی۔(۶)
نتیجہ:قارئین کرام! امام حیسن علیہ السلام اور امام مہدی(عج) کے قیام میں بہت سی مشترک وجوہات پائی جاتی ہیں چونکہ وہ بیج جو کربلا میں بوئے گئے تھے امام زمانہ(عج) کی عالمی حکومت میں وہ جوان ہوکر پرثمر اور بار آور درختوں میں تبدیل ہوکر دنیا کو حق و عدالت کا سایہ فراہم کریں گے اور اسی زمانہ میں آدم سے لیکر حضرت خاتم تک تمام انبیاء   کے مقاصد پایہ تکمیل کو پہونچیں گے اور بشریت صلح و امن و سعادت کی حقیقی لذت سے آشنا ہوسکےگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱ . بحار الانوار، ج 45، ص 6 .
۲ . حیاة الامام الحسین (ع) ، ج 2، ص 264 .
۳ . بحار الانوار، ج 51، ص 130 .
۴ . الزام الناصب، ص 177 .
۵ . ینابیع المودة، ج 3، ص 62 .
۶ . بحار الانوار، ج 52، ص 338 .


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17