Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193510
Published : 30/4/2018 16:58

امام کا صاحب کرامت و اعجاز ہونا

بارہ اماموں کے ماننے والے شیعہ اپنے اماموں کو جو معصوم سمجھتے ہیں اور ان کے بارے میں علم غیب یا کرامت کا نظریہ رکھتے ہیں یہ ہر گز ان کی نبوت کی دلیل نہیں ہے اور عقیدہ ’’خاتمیت ‘‘ کے منافی نہیں ہے اور ان حضرات میں سے کسی نے بھی نہ صرف یہ کہ ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے بلکہ اس کی شدت سے مخالفت بھی کی ہے ۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! اگرچہ لفظ وحی لغت میں وحی نبوت سے عام ہے اور ہر طرح کے غیبی الٰہام کو وحی کہا جاتا ہے جیسا کہ قرآن مجید میں جناب موسیٰ(ع) یا شہد کی مکھی کی طرف فطری الٰہام کو بھی وحی کہا گیا ہے ، لیکن وحی و نبوت کو دوسری وحی سے الگ کرنے کے لئے اور ان دونوں کے درمیان ہر قسم کی غلط فہی سے بچنے کے لئے علماء اسلام نے وحی نبوت کے علاوہ کسی دوسرے غیبی علم کے بارے میں کلمۂ  وحی کے استعمال کو جائز قرار نہیں دیا ہے جیسا کہ شیخ مفید(رح)نے وحی کے لغوی اور غیر لغوی معانی کا تذکرہ کرنے کے بعد قرآن مجید میں کلمۂ وحی کے استعمال کی طرف اشارہ کر کے یہ تحریر فرمایا ہے:’’کبھی خداوند عالم خواب میں اپنے بندوں کے اوپر بعض حقائق کو واضح کردیتا ہے کہ جس کی حقانیت بیداری میں بھی ثابت ہوجاتی ہے ، لیکن شریعت اسلامیہ کے استحکام کے بعد ایسے علوم کو وحی نہیں کہا جاتا ہے کیونکہ اس بات پر تمام مسلمانوں کا اجماع ہے کہ پیغمبر اکرم (ص) کے بعد کسی پر وحی نازل نہیں ہوتی ہے اور اگر کسی کو غیب کے بارے میں کچھ معلوم بھی ہوتا ہے تو اسے وحی نہیں کہا جاتا ہے اور اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ خداوند عالم اس کلمہ کو تمام غیبی الٰہامات ، القاءات (جیسے جناب موسیٰ(ع) کی والدہ یا شہد کی مکھی پر الٰہام ) کو وحی قرار دیدے اور دوسرے زمانہ میں اسے اس کی ایک خاص قسم ( یعنی وحی نبوت ) سے مخصوص کردے‘‘۔(۱) 
یہ بھی پڑھیئے:
شیعہ نقطہ نظر سے معجزہ اور نبوت کے درمیان رابطہ؟
۲۔ معجزہ! کرامت کے تقریباً ہم معنی ہیں اور ان کی حقیقت ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ ایسا خارق عادات کام انجام دینا جسے تائید الٰہی حاصل ہوا ور عام حالات میں دوسرے لوگ ایسا کام انجام نہ دے سکیں  اور اسے پیش کرنے والا اس کے ذریعہ اپنی حقانیت کو ثابت کرنے کے علاوہ کوئی غرض نہیں رکھتا ہے۔ لیکن معجزہ صرف پیغمبروں سے مخصوص ہے جسے وہ اپنے دعوائے نبوت کے ثبوت کے طور پر پیش کرتے ہیں اور معجزہ وہ خارق عادت کام ہے جو دعوائے نبوت کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے۔
کرامت اولیائے الٰہی کے لئے ممکن امر ہے اسے ثابت کرنے کے بعد امام فخر الدین رازی نے  جناب مریم(س) اور جناب آصف برخیا کی کرامت کی طرف اشارہ کرکے یہ کہا ہے:{ثم تتمیز الکرامات عن المعجز بتحدی النبوۃ}۔(۲)
ترجمہ:نبوت کے چیلنج کے ذریعہ معجزہ کرامت سے الگ ہوجاتا ہے ۔
عضد الدین ایجی ( صاحب مواقف ) نے یہ ذکر کرنے کے بعد کہ معجزہ کی شرط یہ ہے کہ دعویٰ نبوت سے پہلے معجزہ نہ کیا گیا ہو یہ کہا ہے:’’اگر یہ اعتراض ہو کہ بعثت سے پہلے پیغمبر اسلام(ص) سے جو معجزات ظاہر ہوئے ہیں جیسے آپ کے اوپر بادل کا سایہ کرنا ، سنگریزوں کا آپ کو سلام کرنا تو ہم اس کا یہ جواب دیں گے کہ یہ وہ کرامتیں ہیں جو اولیائے الٰہی کو حاصل ہوتی ہیں اور نبوت سے پہلے انبیائے کرام کا مقام اولیاء کے مقام و مرتبہ سے کسی طرح کم نہیں ہے‘‘۔(۳)
میر شریف گرگانی نے بھی کرامت کی یہ تعریف کی ہے:{ھی ظہور امر خارق للعادۃ من قبل شخص غیر مقارن لدعویٰ النبوۃ }۔(۴)
’’کسی شخص کے ہاتھوں ایسا خارق عادت کام رونما ہونا جس کے ساتھ دعوائے نبوت نہ ہو ‘‘۔
خلاصۂ کلام یہ کہ معجزہ اور کرامت دونوں ہی خارق عادت ہوتے ہیں اور یہ صرف صالحین کے ذریعہ رونما ہوتے ہیں اور ان کا مقصد الٰہی ہوتا ہے اس لحاظ سے ان کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے بلکہ ان کے درمیان دعوائے نبوت کے ہونے یا نہ ہونے کا فرق ہے اور علمائے اسلام کی اکثریت صالحین اور خدا رسیدہ متقی افراد کے ذریعہ خارق عادت کاموں کے ظاہر ہونے کو جائز سمجھتے ہیں اور وہ اسے ’’ کرامت ‘‘ کہتے ہیں ۔
مذکورہ باتوں سے یہ واضح ہوجاتا ہے بارہ اماموں کے ماننے والے شیعہ اپنے اماموں کو جو معصوم سمجھتے ہیں اور ان کے بارے میں علم غیب یا کرامت کا نظریہ رکھتے ہیں یہ ہر گز ان کی نبوت کی دلیل نہیں ہے اور عقیدہ ’’خاتمیت ‘‘ کے منافی نہیں ہے اور ان حضرات میں سے کسی نے بھی نہ صرف یہ کہ ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے بلکہ اس کی شدت سے مخالفت بھی کی ہے ، جیسا کہ اس بارے میں ہم چند احادیث اور علمائے امامیہ کے اقوال کا تذکرہ کرچکے ہیں، اگر اس قسم کے عقائد کا لازمہ نبوت ہو تو پھر جناب مریم(س) اور آصف بن برخیا ( وزیر و وصی حضرت سلیمان ) بھی پیغمبر کہے جائیں گے یا صحیح بخاری وغیرہ کے مطابق خلیفۂ دوم بھی پیغمبر بن جائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 حوالہ جات:
۱۔تصحیح الاعتقاد ،ص /۹۹ ۔ ۱۰۰
۲۔تخلیص المحصل، ص/ ۳۷۳
۳۔شرح المواقف ،ج /۸ ،ص/ ۲۵۵
۴۔التعریفات، ص/ ۷۹  



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17