Tuesday - 2018 Sep 25
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193533
Published : 1/5/2018 16:45

شہید مطہری کا سوزجگر

شہید مطہری مصنف یا خطیب ہونے سے پہلے ایک زاہد انسان تھے۔ ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر جملہ ان کے راسخ عقیدہ کا عکاس تھا، لقلقۂ لسانی یا قلم کی روانی کا نتیجہ نہیں ۔ جبھی تو ان کا ہر کلام ذہن و دل میں انقلاب برپا کردیتا تھا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! آپ نے شہید مطہری(رح) کا نام تو سنا ہی ہوگا آئیے آپ کی زندگی اور اسلام کے تئیں آپ کے مقدس جذبات کا کچھ دیر مطالعہ کرتے ہیں:قارئین کرام! شہید مطہری(رح) اس مرد مجاہد اور سخت کوش کا نام ہے جس نے  انقلاب سے قبل اکیلے اور بغیر اسباب کے ایسے بابرکت نظریاتی محاذ کھولے کہ اب تک ان کے وہ مکتوبات اسلامی انقلاب کی تھیوری کو غذا فراہم کر رہے ہیں جو ان کے مبارک ہاتھوں سے بیس سے چالیس برسوں پہلے ضبط تحریر میں آئے۔ مگر آج اسلامی انقلاب کی کامیابی وحاکمیت کے برسوں بعد تمام مواصلاتی وسائل و اسباب اختیار میں رکھتے ہوئے اور صاحبان علم و فضل کی اتنی بڑی تعداد کے باوجود (اللہ انہیں نظر بد سے بچائے) ہمارے تعلیمی، ثقافتی اور نشریاتی مراکز پر جمود طاری ہے؟! ثقافتی سرگرمیوں کا بجٹ کہاں جا رہا ہے اور یہ بے شمار ثقافتی اور تعلیمی ادارے کیا کر رہے ہیں جو اب تک صرف ایک مطہری کے برابر بھی کام نہیں کرسکے ہیں۔
مطہری کو ان کے عہد نے مبعوث کیا لہٰذا انہوں  نے اپنے عہد کو پورا بھی کیا۔ شہید مطہری عالم ربانی تھے۔ ان کے وجود حقیقی کی تو بات الگ ۔ ہم ان کے اس وجود کے تئیں بھی مجرم ہیں جسے انہوں  نے تاریخ اور اپنے مکتوبات کی شکل میں یادگار کے طور پر چھوڑا ہے۔
سب سے پہلے شہید مطہری کے اس سوز جگر کی بات کرنا چاہئے جس سے ہم نے اپنا دامن بچا رکھا ہے۔ ہاں وہ سوز جگر کسی دہکتے ہوئے شعلہ سے کم نہ تھا جس نے صاحب قلم مطہری کو ایسی سرخ خاک میں تبدیل کردیا جو افق تہذیب حاضر کو کربلائی رنگ میں رنگ دینے میں کامیاب ہوئی۔
دین کا مصلح و مجدد، ''دلِ شعلہ ور'' کے بغیر کوئی اہم اصلاح انجام نہیں دے سکتا۔ ''قابل ذہن''اور''ہوشیار نظر'' اگرچہ ضروری ہیں مگر ''سوز جگر'' نہ ہو تو کچھ بھی نہیں ۔
درد دل، سوز و گداز، بے باکی و سرفروشی ہی وہ عناصر ہیں جو زمین معاشرہ کو قابل زراعت بنا کر اس میں جدید نسل کا بیج بوتے ہیں ۔
اگر کوئی محقق، فقیہ، فلسفی، سائنسداں، مصنف یا خطیب درد و سوز و گداز سے عاری ہو، صرف الفاظ کو زبان پر لاکر یا ورق پر سجا کر اپنے علم کا اظہار کرنے پر ہی رضامند ہو، اصلاح و انقلاب ، تعلیم و تربیت، آزادی و استقلال، عدل و انصاف، عبادت و بندگی کی فکر اس کے پردۂ مغز کو چاک نہ کرے، تشکیل حکومت، نشر معرفت اور آقائیت و اقتصادی مظالم کے خاتمہ کا درد اس کے قفس دل کو وا نہ کرے اور وہ اپنے مقدس اغراض و مقاصد کے لئے قربانی کا ہنر نہ رکھتا ہو تو ایسا عوام پسند محترم مفکر و دانشور ایک تائید آمیز نظر کا بھی مستحق نہیں۔ افسوس کہ یونیورسٹیز اور دینی درسگاہوں میں ایسے دانشوروں کی کمی نہیں۔ اب تو ثقافتی اور تعلیمی اداروں کا اصل بجٹ، چارٹ، عمارت، افراد کی کھوج اور مختلف وسائل و اسباب کی فراہمی میں ہی خرچ ہوجاتا ہے اور ان کا سارا ہم و غم یہ ہوتا ہے کہ اپنے مافوق کے سامنے موٹی سے موٹی رپورٹ پیش کی جائے تاکہ وہ راضی رہیں۔ حتی کام پر باقی رہنے اور شکم  پروری کے لئے اسے فریب بھی دینا پڑے تو کوئی بات نہیں۔ اب ہمیں اس سے کیا مطلب کہ اس رکھ رکھاؤ، رفت و آمد، قیل و قال اور لاکھوں کروڑوں کے بجٹ کو خرچ کرنے کا نتیجہ کیا ہوا، کتنے لوگ انسان بنے، کون سے باطل کا انکار اور کون سے حق کا اظہارہوا!!
تحقیقوں اور ریسرچز میں بھی ''درد'' کا فقدان نظر آتا ہے، سوز و گداز دکھائی نہیں دیتا۔ قانونی اختیارات کے حدود کے سلسلہ میں بحث کی جاتی ہے مگر اس میدان میں سنجیدہ گفت و شنید کم نظر آتی ہے۔ جسے دیکھو اس مشغلہ سے بس اپنی مادی ضروریات کی تکمیل، اعلیٰ اسناد کے حصول اور ظاہری عزت و آبرو اور اثرو رسوخ کی تلاش میں لگا ہوا ہے۔ اور نہ جانے کیا کیا...
جب صورتحال ایسی ہے تو اگر تمام تہذیبی، مواصلاتی اور تحقیقی مراکز مل کر صرف ایک مطہری کے برابر بھی کوئی قابل قدر اور شائستۂ بقا کام نہ کر پائیں تو تعجب نہیں ہونا چاہئے۔ شہید مطہری نے قلم اور منبر کو کبھی عزت کی دو روٹیاں کمانے اور مال و دولت اور عزت و آبرو کے حصول کے وسیلہ کی نظر سے نہیں دیکھا۔ ان کا درد ''درد دین'' ، عشق ''عشق زندگی بخش'' اور سوز ''سوز انقلاب'' تھا۔ لیکن ہمارا درد ''درد نفس'' ، عشق'' عشق مشکوک'' اور سوز''سوز لایعنی'' ہے۔
مردہ، مردے کو زندہ نہ کرے تو تعجب نہیں ۔ تعجب تو اس توقع پر ہونا چاہئے کہ مردہ مردے کو زندہ کردے۔ یونیورسٹیز ، دینی مدارس اور تحقیقی و مواصلاتی اداروں میں طالب علم کو مجبور کیا جاتا ہے کہ دوسروں کی ''راہ رفتہ'' پر ہی گامزن رہے، اپنے آپ کو دنیائے علم و فکر کے ''بے درد جعلی فادرز'' کی راہ و روش سے سازگار رکھے اور معاشرہ کی ضرورتوں اور معبود حقیقی کے تقاضوں سے اسے کوئی مطلب نہ ہو۔ (البتہ یہ مجبوری نہیں بلکہ مجبوری کا وہم ہے۔)
سب کا ہم و غم بس یہی رہ گیا ہے کہ کسی طرح مشہور ہوجائیں اور لوگوں کی واہ واہی لوٹیں۔ سب دوسروں کی تائید حاصل کرنے اور اپنی جعلی شخصیت کا لوہا منوانے کے چکر میں ہیں ۔ کم ہی لوگ خدا کی خاطر نشر حق و فضیلت اور خدمت حق کا درد رکھتے ہیں۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں جسے چھپاکر رکھنے میں ہی بھلائی ہو۔
علمی بضاعت و حیثیت ایک ایسا امتیاز ہے جس کے بغیر فکری حادثات وانحرافات کے مقابلہ میں شاندار دینی اور سماجی اصلاح، اگر محال نہیں تو مشکل ضرور ہے۔ استاد شہید مطہری علمی معرکوں میں اپنے موقف کے ساتھ حاضر رہتے تھے۔ ان کے عقائدی، فلسفی اورعرفانی خیالات و نظریات بھی اصولی و منطقی نظریات کی طرح کافی ٹھوس اور راہ گشا ہوا کرتے تھے۔ مجتہد تھے لہٰذا انہوں  نے اقتصاد، حکومت اور فقہی نظام معاشرہ جیسے ناشناختہ موضوعات کو بیان کیا۔ کسی جھول یا سبک بیانی کے بغیر شیعی اجتہاد کو ایک میتھڈ کے طور پر عصریات کے ساتھ ملادیا۔ ان تمام امتیازات کے باوجود وہ انتہائی خوش اخلاق، بہترین تربیت یافتہ اور سیاسی و سماجی دانش و بصیرت کے حامل تھے۔ ''وہ اپنے آپ میں ایک امت تھے''
اس کے علاوہ اپنے گراں بہا علمی سرمایہ کی بنیاد پر وہ عیسائی و یہودی تھیولوجی ، عرفانیات اور جدید فلسفہ میں بھی ید طولیٰ رکھتے تھے۔ علمی معرکوں میں حاضر رہنے والے ایسے مفکر تھے کہ یونیورسٹیز اور دینی مدارس کے مختلف علمی مراکز اور روشن خیال حضرات بھی انہیں اور ان کے موقف کو مستقل طور پر پیش نظر رکھنے پر مجبور تھے۔ اگر علمی معرکوں کاکوئی سورما تمام تر توانائیوں کے ساتھ یوں اعلان وجود کرے تو پھر کس کی مجال کہ اس سے اپنی نظر التفات ہٹا سکے۔ مطہری کے سایہ سے دوست و دشمن سبھی بہرہ مند ہوتے تھے، دوست اپنے اختیار سے اور دشمن مجبوری میں۔
مغربی فلسفہ میں بھی مہارت رکھنے کی بنیاد پر وہ اس فلسفہ کے تار و پود کو بکھیر کر رکھ دیتے تھے اور ایک دانا و محقق انسان ہونے کے ناطے اس بات کے قائل تھے کہ مغربی فلسفہ، فلسفہ ہی نہیں۔
وہ مغربی فلسفہ کے ماہر ودانا مترجموں اور استادوں کے ساتھ ہونے والے فلسفی مذاکرات میں صحیح کو غلط سے اور استدلال کو مغالطہ سے الگ کرتے تھے اور جرمنی فلسفہ، نیز ''انگلوسکسن'' کے فلسفہ کی بے بنیاد اور کمزور باتوں کی نشاندہی کرتے تھے۔ سرزمین مغرب پر اپیسٹمولوجی اور علم نفسیات کے جدید فلسفہ کی شکل اختیار کرلینے کا بھی انہیں بہت گلہ تھا، جس نے فلسفہ سے ''فلسفیت'' کو چھین لیا ہے۔
فلسفۂ ادیان، فلسفۂ اخلاق، فلسفۂ سیاست اور فلسفۂ زبان کی گفتگو نیز میٹریالیزم اور لیبرالیزم کے مقابلہ میں شہید مطہری نے انتہائی ٹھوس موقف اختیار کیا اور ان بیس برسوں کے درمیان مارکسیزم اور لیبرالیزم کی ثقافتی یلغار کا تن تنہا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
ٹھیک اس وقت جب سیکولر افکار کو حکمراں جماعت کی حمایت حاصل تھی، سیاست میں دین کو دخل دینے پر روحی و جسمانی طور پر ٹارچر کیاجاتا تھا، فقہی حاکمیت کی تھیوری پیش کرنے والے نظریہ'' ولایت فقیہ''کے کتابچوں کی تقسیم پر بھی پابندی تھی، شہید مطہری افق فکر و نظر پر یوں نمودار ہوئے کہ حکومتی مشینری ، مغرب نواز افکار، لیبرل خیالات اور منافقین بے بس نظر آنے لگے۔
جب دائیں بازو کی جماعت پر تنقید کرتے تو بائیں بازو کی جماعت کو بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع نہیں دیتے تھے اور جب بائیں بازو کی جماعت پر خط بطلان کھینچتے تو دائیں بازو کی جماعت، لیبرالیزم کے طرفداروں اور سرمایہ داروں کو فائدہ اٹھانے نہیں دیتے تھے۔ جب بنیاد پرستوں پر ضرب لگاتے تو اس بات کا بھی خیال رکھتے تھے کہ بدعتی، منافق اور دینداری کا تظاہر کرنے والوں کی تقویت نہ ہو اور جب روشن خیالوں ، مارکسیزم نوازوں اور مسلمان نمائوں کی دھجیاں اڑاتے تو اخباریت و اشعریت کی طرف رجحان کے خطرہ کو بھی ملحوظ رکھتے تھے۔
شہید مطہری دیکھ رہے تھے کہ سرزمین فکر و نظر پر ملوک الطوایفی کا طریقۂ کار حکمرانی کررہا ہے ۔ ہر بات، ہر فکر ، ہرخیال ذاتی یا جزئی رنگ میں رنگا ہوا ہے اور اس طرح کی بے جا قیودات سے آزاد انسانوں کی کمی ہے۔ وہ ایسے دانشوروں کے فراق میں آہ غم کھینچتے تھے جو روشن خیالی یا مذہب کے تعصبات سے محفوظ رہ کر اسلام کو محققانہ نظر سے دیکھیں ، اس کی تعلیمات کی ایک ایک سطر سے محظوظ ہوں اس لئے کہ ان کی نظر میں اس طرح کی عقلی لذت ایمانی کے استحکام کی ضامن ہے اور مفید و نجات بخش ایمان وہی ہے جو اس قلبی رجحان کی بنیاد پر ظاہر ہو جس سے دین کا صحیح ادراک ہوسکے۔ ان کی نظر میں عیسائیت کے تصور ایمان کے برخلاف اسلامی ایمان ''مقدس جہل'' نہیں بلکہ ''بلند ادراک'' ہے، ''تعصب'' نہیں بلکہ ''آزادانہ انتخاب'' ہے، ''بے معنی و بے توجیہ دل لگی'' نہیں بلکہ ''بارگاہ ربانی میں خاضعانہ شرف حضور''ہے۔
اس تجزیہ کے ذریعہ انہوں نے دین میں بے دینی کی ملاوٹ کا سدباب کردیا۔ اس لئے کہ ان کی نظر میں دین اور بے دینی کی سرحد کے خاتمہ اور ایمان و کفر، صالح و بدکار، عالم و جاہل اور مؤمن وفاسق کے فرق وتضاد کو سطحی و ابتدائی ظاہر کرنے سے زیادہ کوئی اور حربہ اذیت ناک اور مضر نہیں ۔ وہ اس بات کے قائل تھے کہ یہ ایمان کو حقیقی مدار سے ہٹانے اور اس میں تحریف کے مساوی ہے۔ قرون وسطیٰ کے اوہام و خیالات اب بھی مغربی ذہن کا حصہ بنے ہوئے ہیں ۔
    مذکورہ خصوصیات کے علاوہ شہید مطہری کے ذہن، زبان اور قلم کے کچھ دوسرے امتیازات مندرجہ ذیل ہیں جن پر گفتگو کی جائے گی:
    ١۔ مختلف نظریات کے سر چشموں اور ان کے اصل اسباب پرگرفت۔
    ٢۔ حق بیانی اور بدعت و بنیاد پرستی کے مقابلہ میں صراحت و شجاعت۔
    ٣۔ سخت کوش مگر مدح و ثنا کی بنسبت بے توقع۔
    ٤۔ اصل صاحب قدرت پر حقیقی ایمان اور کام بھی بس ''اسی'' کے لئے۔
    لہٰذا:
    ١۔ اگر فکر و عقیدہ کے ساتھ دلسوزی نہ ہو تو کوئی خاص نتیجہ حاصل نہیں ہوگا۔
    ٢۔ علمی صلاحیت مصلح و مجدد دین کے لئے کافی تو نہیں مگر لازمی ضرورہے۔
    ٣۔ نعروں کو عملی جامہ پہنانا خاصان خدا کا ہنر ہے۔
جوش میں نعرے لگانا اور ہے
ہر کہے کو کر دکھانا اور ہے  (مترجم)
    انسانیت اور سماج کا درد رکھنے والا کون سا ایسا انسان ہوگا جو مصلح ہو، اخلاقیات کا حامل ہو اور دوسروں کو شاہراہ سعادت کی طرف دعوت بھی دے مگر اپنے شعار اور نعروں کا پابند نہ ہو؟
 شہید مطہری کی پوری زندگی اور ان کا ہر عمل، ان باتوں کا مظہر نظر آتا ہے جو ان کی تقریر و تحریر میں ظاہر تھیں۔ صحیح اور غلط کے درمیان کھینچی ہوئی دیوار اگر صرف زبانی بنیاد پر استوار ہو اور صاحب سخن کے کردار میں اس کا مشاہدہ نہ کیا جاسکے تو وہ کاغذ کی دیوار سے زیادہ اور کچھ نہیں ۔ اگر زبان فکر کی اور گفتار کردار کی جگہ لے لے، تقریر و تحریر گویا ہوں اور دل خاموش ، تو کیا ایسا سخن جدار دل کو شق اور شہر قلب میں نفوذ کرنے کی صلاحیت رکھ سکتا ہے؟
شہید مطہری مصنف یا خطیب ہونے سے پہلے ایک زاہد انسان تھے۔ ان کی زبان سے نکلا ہوا ہر جملہ ان کے راسخ عقیدہ کا عکاس تھا، لقلقۂ لسانی یا قلم کی روانی کا نتیجہ نہیں ۔ جبھی تو ان کا ہر کلام ذہن و دل میں انقلاب برپا کردیتا تھا۔
''دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے''
جب حق کی توہین انہیں برداشت نہیں تھی تو یہ کیسے ہوسکتا تھا کہ منبر سے اترکر ''بزم توہین حق'' میں شرکت کرتے ۔ حق گوئی باطل سرائی کے ساتھ سازگار کہاں ؟!
    شہید مطہری جاوید ہوگئے کیونکہ انہوں نے جاویدانی کو سمجھ لیا تھا، وہ حقانیت پر عمل کا التزام رکھتے تھے۔ نعرہ برائے نعرہ نہیں لگاتے تھے بلکہ نعرہ اس لئے لگاتے تھے تاکہ راہ دکھائیں اور راہرو پیدا کریں ۔
اگر حق واقعی حق ہے تو پھر حق کا دم بھرنے والا اس راہ پر کیوں نہ چلے؟! یہ مضحکہ خیز بات نہیں تو اور کیا کہ ایک شخص خود ہلاکت میں مبتلا ہو اور دوسروں کا سوزدل لئے بیٹھا ہو۔
اگر ہم اور آپ صحیح شعار دیں ، حق کہیں اور اپنی زندگی میں بھی ان حقائق پر عمل پیرا رہیں پھر مخاطبین ہمارے اندر ذرا بھی سچائی محسوس کریں تو وہ ہماری آواز پر لبیک ضرورکہیں گے ۔ لیکن اگر انہیں ذرا بھی یہ احساس ہوا کہ اپنے کہے پر ہمیں خود یقین نہیں اور جس راہ کے داعی ہیں اس پر خود گامزن نہیں تو کیا انہیں ہماری ذات اور بات میں شک و تردید کا حق نہیں ؟ لہٰذا ضروری ہے کہ ہم جس راہ کی دعوت دے رہے ہیں اس پر پہلے خود چلیں ۔ اگر امام خمینی کا کردار ویسا نہ ہوتا تو کیا ان کی سادہ نصیحتیں بھی اتنی اثرانداز ہوسکتی تھیں ؟! اگر خود شہید مطہری کی شخصیت بے مثال نہ ہوتی تو کیا ان کی تحریریں دل کو چھو لینے والی ہوسکتی تھیں ؟!
غرض! شہید مطہری نے اسلام کی اجتماعی شکل کو پہچنوایا مگر گوہر دین یعنی ''تقرب خدا'' کو پامال ہونے نہ دیا۔ انہوں نے عبادت و عبودیت کے اجتماعی پہلو کو اس کے انفرادی پہلو میں ضم کردیا تھا۔
جو اسلام کا تعارف، محض ذہنی، انفرادی اور عبادی صورت میں کراتے تھے، مارکسیزم کو قانون زندگی اور لیبرالیزم کو علمی زعامت کا پرچم دار خیال کرتے تھے اور ہر محاذ پر موجود رہنے والے اسلام کو عبادت گاہوں میں محصور کرنا چاہتے تھے، انہیں شہید مطہری سے آخر کیا پریشانی تھی؟ ان کی ہیرے سی کاٹ رکھنے والی نظر کو وہ اپنے لئے مزاحمت کا سبب کیوں گردانتے تھے؟ مطہری کی نگاہ بالیدہ ، غیرت و حمیت اور فضیلت و برتری ان کے لئے عذاب کیوں تھی؟ وہ انہیں اپنے راستہ سے کیوں ہٹانے چاہتے تھے؟ ذرا سوچئے...۔


تقریر: ڈاکٹر رحیم پور ازغدی   
ترجمہ: عابد رضا نوشاد



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Sep 25