Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193546
Published : 3/5/2018 15:13

غیبت صغری اور اس کی حکمت

امام زمانہ(عج) کی غیبت کے لئے لوگوں کو تیار کرنے کا سلسلہ خود امام علی نقی علیہ السلام کے دور سے تو باقاعدہ آغاز ہوچکا تھا چونکہ عملی طور پر امام عسکریین(ع) کا رابطہ لوگوں کے ساتھ باقی دیگر آئمہ کی طرح نہیں تھا کہ جب ان کا دل چاہے وہ امام کی خدمت میں مشرف ہوجائیں بلکہ اب بہت احتیاط کے ساتھ امام سے بمشکل ملاقات و زیارت ہوپاتی تھی اور یہ دونوں امام خود اپنے چاہنے والوں کو بلاد اسلامی میں موجود علماء فقہاء اور محدثین کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے تھے۔لہذا ان دو اماموں(علی نقی اور حسن عسکری علیہما السلام) کی طرف سے یہ طریقہ عملاً غیبت کی راہ ہموار کرنا ہی تو تھا۔


ولایت پورٹل:
قارئین کرام! اکثر جب ہمارے سامنے حضرت ولی عصر(عج) کا تذکرہ ہوتا ہے یا ہم خود سرکار کو یاد کرتے ہیں تو ہمارے ذہن میں آپ کی غیبت بھی دستک دینے لگتی ہے۔ اور سوال یہ آتا ہے کہ کیوں سرکار کی غیبت کو دو حصوں میں بیان کیا جاتا ہے۔ پہلا دور غیبت صغرٰی اور دوسرا دور غیبت کبرٰی کا۔ غیبت صغریٰ تقریباً ۷۰ برس تک جاری رہی اور اس کے بعد غیبت کبرٰی کا با قاعدہ آغاز ہوگیا۔
اس حوالے سے سب سے پہلا معروض تو یہی ہے کہ ان دونوں غیبتوں سے متعلق ہماری روایات میں مکرر تذکرے موجود ہیں کہ جو خود سرکار ولی عصر(عج) کی ولادت سے بھی سینکڑوں برس سے پہلے ہی لسان مبارک معصومین(ع) پر جاری ہوچکی ہیں چنانچہ شیخ طوسی(رح) اپنی کتاب الغیبۃ میں نقل کرتے ہیں کہ امام صادق علیہ السلام نے اپنے صحابی جناب حازم سے ارشاد فرمایا:اے حازم! جان لو کہ صاحب امر کے لئے دو غیبتیں ہونگی جن میں دوسری پہلی سے طولانی ہوگی اور اس کے بعد آپ کا ظہور ہوجائےگا۔
اس کے علاوہ کتاب غیبت نعمانیہ میں اس باب سے متعلق دیگر احادیث نقل ہوئی اور پھر صاحب کتاب ایک تعلیقہ تحریر کرتے ہیں جس میں دونوں غیبتوں(صغرٰی اور کبری) کے درمیان فرق کی وضاحت فرماتے ہیں:
حضرت امام زمانہ(عج) کی سب سے پہلی غیبت کو غیبت صغرٰی کہا جاتا ہے چونکہ اس غیبت کے دوران کچھ نمائندے آپ کی طرف سے لوگوں کے درمیان موجود تھے اور انہیں کے ذریعہ لوگوں کے مسائل اور علمی و سیاسی مشکلات حل ہوتی تھیں۔
جب اس غیبت کا زمانہ گذرا آپ کی ایک دوسری غیبت کا آغاز ہوا کہ جس میں آپ کے وہ خاص اور منصوب کردہ نمائندے لوگوں درمیان نہیں تھے چونکہ اللہ کی مصلحت یہی تھی کہ آپ ایک طولانی غیبت میں چلے جائیں۔( محمد بن ابراهیم، الغیبـه، ص 173 و 174)
غیبت صغری اور اس کی حکمت
اگرچہ امام زمانہ(عج) کے لئے دو غیبتوں کا وجود روایات میں پیش بینی کے طور پر موجود تھا لیکن جیسے ہی امام حسن عسکری(ع) کی شہادت واقع ہوئی اور چونکہ مکمل ۲۵۰ برس معصومین علیہم السلما لوگوں کے درمیان موجود رہے تھے اب اگر ایک بار ابتداء ہی سے غیبت کبریٰ اور طولانی غیبت کا آغاز ہوجاتا تو یہ امر لوگوں کے لئے بہت مشکل تھا کہ وہ اس سنگین مسئلہ کو قبول کرپاتے چنانچہ یہی وجہ ہے کہ بہت سے شیعہ امام حسن عسکری(ع) کی شہادت کے بعد ایک عرصہ تک پس و پیش میں مبتلا رہے۔
لہذا ضروری تھا کہ غیبت کبریٰ کا آغاز ہونے سے پہلے اور امام کا لوگوں سے رابطہ قطع ہونے سے پہلے اگرچہ کچھ مدت اور عرصہ تک ہی سہی اپنے نائبین اور نمائندوں کے ذریعہ لوگوں سے رابطہ میں رہیں تاکہ لوگ آہستہ آہستہ غیبت کے اس طولانی دور(غیبت کبرٰی) کو قبول کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔
بہ الفاظ دیگر: غیبت صغرٰی کا زمانہ غیبت کبرٰی میں داخل کرنے کے لئے شیعوں کی تمرین و مشق کا دوانیہ تھا اور یہی وجہ تھی کہ شہادت امام حسن عسکری کے بعد شیعہ جو کئی دھڑوں میں بٹ گئے تھے وہ دوبارہ اس عرصہ(۷۰) برس میں اسی پلیٹ فارم پر جمع ہوجائیں جس کے سبب متفرق ہوئے تھے۔
نیز یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ امام زمانہ(عج) کی غیبت کے لئے لوگوں کو تیار کرنے کا سلسلہ خود امام علی نقی علیہ السلام کے دور سے تو باقاعدہ آغاز ہوچکا تھا چونکہ عملی طور پر امام عسکریین(ع) کا رابطہ لوگوں کے ساتھ باقی دیگر آئمہ کی طرح نہیں تھا کہ جب ان کا دل چاہے وہ امام کی خدمت میں مشرف ہوجائیں بلکہ اب بہت احتیاط کے ساتھ امام سے بمشکل ملاقات و زیارت ہوپاتی تھی اور یہ دونوں امام خود اپنے چاہنے والوں کو بلاد اسلامی میں موجود علماء فقہاء اور محدثین کی طرف رجوع کرنے کی دعوت دیتے تھے۔لہذا ان دو اماموں(علی نقی اور حسن عسکری علیہما السلام) کی طرف سے یہ طریقہ عملاً غیبت کی راہ ہموار کرنا ہی تو تھا۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17