Saturday - 2018 Nov 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193570
Published : 5/5/2018 16:49

نہج البلاغہ میں دنیا کا ایک نیا رُخ

انسان کی عمر بہر حال محدود ہے اور یہ ایک سرمایہ ہے کہ جو زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ ختم ہوتا چلا جاتا ہے اور انسان اپنی تمناؤں اور امیدوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے چونکہ اس کے پاس اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے بہت کم وقت بچتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین! شاید آپ نے بارہا دنیا کی بے وفائی کے بارے میں سنا ہوگا لیکن اکثر لوگ اس موضوع کو درک نہیں کرپاتے اور حقیقت میں دنیا کے چنگل میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ ہمیں اپنے ذہن میں یہ بات نقش کرلینا چاہیئے کہ یہ دنیا اعتماد و اعتبار کے لائق نہیں ہے چنانچہ امیرالمؤمنین فرماتے ہیں:’’ الدَّهْرُ يُخْلِقُ الْأَبْدَانَ، وَ يُجَدِّدُ الْآمَالَ، وَ يُقَرِّبُ الْمَنِيَّةَ، وَ يُبَاعِدُ الْأُمْنِيَّةَ‘‘۔(نہج البلاغہ،کلمات قصار:۷۲) مَنْ ظَفِرَ بِهِ نَصِبَ وَ مَنْ فَاتَهُ تَعِبَ‘‘۔ روزگار و زمانہ جسموں کو فرسودہ کردیتا ہے اور آرزؤوں کو تازہ کردیتا ہے موت کو نزدیک اور امیدوں کو دور کردیتا ہے اور جسے یہ(دنیا) مل جاتی ہے وہ رنج میں مبتلاء ہوجاتا ہے اور جس کے ہاتھ سے چھوٹ جاتی ہے اسے سختیوں میں گذارا کرنا پڑتا ہے۔
امام علی علیہ السلام ان مختصر جملوں میں بہت اہم نکتوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں پہلے تو یہ کہ روزگار جسم اور بدن کو پُرانا اور فرسودہ بنادیتا ہے اور یہ بہت ہی واضح سی بات ہے اگرچہ کچھ لوگ اس نکتہ کی طرف متوجہ نہیں ہیں،چونکہ جیسے جیسے یہ سال،مہینے اور دن و گھنٹے گذرتے ہیں انسان کی طاقت و نشاط کا ایک حصہ فنا ہوجاتا ہے بالکل اسی طرح جیسے لباس، زمانے کے گذرنے کے ساتھ پُرانا اور میلا ہوجاتا اور یہ ایک ایسا قانون ہے جس میں کوئی استثناء بھی نہیں پایا جاتا۔
حضرت اس فرمان کے دوسرے فراز میں اس حقیقت کے طرف اشارہ فرماتے ہیں کہ:’’ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ آرزوئیں تازہ ہوجاتی ہے‘‘۔ تجربہ سے یہ امر ثابت ہوچکا ہے کہ بڑی عمر والے لوگوں میں مال جمع کرنے اور مناصب کے حصول کی تمنا جوانوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے اور شاید اس کی دلیل یہ ہو کہ انسان جتنا اپنے کو موت سے قریب دیکھتا ہے اسے یہ احساس ہوجاتا ہے کہ اپنی آرزوؤں تک پہونچنے کا وقت اس کے پاس بہت کم رہ گیا ہے جبکہ جوان یہ فکر کرتے ہیں کہ ابھی تو ہمارے پاس بہت طولانی وقت ہے اور ہم اپنی آرزؤوں تک بعد میں بھی پہونچ سکتے ہیں۔
حضرت اس فرمان کے تیسرے اور چوتھے فقرے میں انسان سے اس کی موت کے قریب ہونے اور اپنی امیدوں سے دور ہونے کے متعلق اشارہ فرماتے ہیں۔ چونکہ انسان کی عمر بہر حال محدود ہے اور یہ ایک سرمایہ ہے کہ جو زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ  ختم ہوتا چلا جاتا ہے اور انسان اپنی تمناؤں اور امیدوں سے دور ہوتا چلا جاتا ہے چونکہ اس کے پاس اپنے خوابوں کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے بہت کم وقت ہوتا ہے۔
اس کے بعد حضرت امیر(ع) پانچویں اور چھٹے نکتہ میں فرماتے ہیں کہ جس شخص کو اس دنیا خواہشیں نصیب ہوجاتی ہے اسے خستگی ستانے لگتی ہے اور جو حاصل نہیں کرپاتا وہ درد و الم میں گرفتار رہتا ہے شاید حضرت کی مراد یہ ہے کہ جنہیں دنیا مل جاتی ہے نہ تو انہیں سکون ملتا ہے اور نہ ہی انہیں چین میسر آتا ہے جو اسے حاصل نہیں کرپاتے،چونکہ جس طرح مادی لذات اور آسائش کا حصول مشکل آور ہوتا ہے انہیں باقی رکھنا اس سے بھی زیادہ سخت شمار ہوتا ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Saturday - 2018 Nov 17