Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193836
Published : 18/5/2018 13:34

فکر قرآنی:

شجر ممنوعہ کو چھونے کا انجام

اس جملہ سے اچھی طرح ظاہر ہوتا ہے کہ آدم و حوا یہ مخالفت کرنے سے پہلے برہنہ نہ تھے بلکہ کپڑے پہنے ہوئے تھے اگرچہ قرآن مجید میں ان کپڑوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی لیکن جو کچھ بھی تھا وہ آدم و حوا کے وقار کے مطابق اور ان کے احترام کے لئے تھا جو ان کی نافرمانی کے باعث ان سے واپس لے لیا گیا ۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم گذشتہ مضمون میں عرض کیا تھا کہ جب حضرت آدم جنت میں رہنے لگے تو شیطان کہ جو آپ کا کھلا دشمن تھا آپ کو طرح طرح سے یہ بات سمجھانے میں لگ گیا کہ یہ ممنوعہ درخت آپ کی زندگی بدل سکتا ہے چنانچہ حضرت آدم نے اس درخت کے قریب چلے گئے اور اس کا پھل کھالیا۔
اگرچہ حضرت آدم کو چاہیئے تھا کہ شیطان کی سابقہ دشمنی اور خدا کی وسیع حکمت و رحمت کے علم کی بنیاد پر اس کے جال کو پارہ پارہ کردیتے اور اس کے کہنے میں نہ آتے لیکن جو کچھ نہ ہونا چاہیئے تھا وہ ہوگیا۔
چنانچہ ارشاد ہوتا ہے:’’فَدَلَّاهُمَا بِغُرُورٍ ۚ فَلَمَّا ذَاقَا الشَّجَرَةَ بَدَتْ لَهُمَا سَوْآتُهُمَا‘‘۔(۱)
ترجمہ: بس جیسے ہی آدم و حوا نے اس ممنوعہ درخت سے چکھا ،فوراً ہی ان کے کپڑے ان کے بدن سے نیچے گر گئے اور ان کے اندام ظاہر ہوگئے۔
مذکورہ بالا جملے سے یہ بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ درخت ممنوع سے چکھنے کے ساتھ ہی فوراً اس کا برا اثر ظاہر ہوگیا اور وہ اپنے بہشتی لباس سے جو در حقیقت خدا کی کرامت و احترام کا لباس تھا محروم ہوکر برہنہ ہوگئے۔
اسی سے مربوط پہلے آرٹیکل کو پڑھنےکے لئے یہاں کلک کیجئے:
آدم(ع) کے لئے شیطان کا وسوسہ
اس جملہ سے اچھی طرح ظاہر ہوتا ہے کہ آدم و حوا یہ مخالفت کرنے سے پہلے برہنہ نہ تھے بلکہ کپڑے پہنے ہوئے تھے اگرچہ قرآن مجید میں ان کپڑوں کی کوئی تفصیل بیان نہیں کی گئی لیکن جو کچھ بھی تھا وہ آدم و حوا کے وقار کے مطابق اور ان کے احترام کے لئے تھا جو ان کی نافرمانی کے باعث ان سے واپس لے لیا گیا ۔
لیکن خودساختہ توریت میں اس منظر کو اس طرح پیش کیا گیا ہے:
آدم و حوا اس موقع پر بالکل برہنہ تھے لیکن اس برہنگی کی زشتی کو نہیں سمجھتے تے لیکن جس وقت انہوں نے اس درخت سے کھایا جو درحقیقت’’ علم و دانش‘‘ کا درخت تھا تو ان کی عقل کی آنکھیں کھل گئیں اور اب وہ اپنے کو برہنہ محسوس کرنے لگے اور اس حالت کی زشتی سے آگاہ ہوگئے۔
جس’’ آدم‘‘ کا حال اس خود ساختہ توریت میں بیان کیا گیا ہے وہ درحقیقت وہ آدم نہ تھا جس کا ذکر قرآن مجید میں ہوا اور جو اللہ کا نبی تھا۔(بلکہ توریت میں اکثر تذکرے بھی خود ساختہ ہی ہوتے ہیں) بلکہ وہ تو کوئی ایسا نادان شخص تھا جو علم و دانش سے اس قدر دور تھا کہ اسے اپنے ننگا ہونے کا بھی احساس نہ تھا لیکن جس ’’آدم‘‘ کا تعارف قرآن کراتا ہے وہ نہ صرف یہ کہ اپنی حالت سے باخبر تھا بلکہ اسرار آفرینش(علم اسماء) سے بھی آگاہ تھا اور اس کا شمار معلم ملکوت میں ہوتا تھا اگر شیطان اس پر اثر انداز بھی ہوا تو یہ اس کی نادانی کی وجہ سے نہ تھا بلکہ اس نے ان کی پاکی اور صفائے نیت سے سوئے استفادہ کیا۔
اس بات کی تائید کلام الہی کے اس قول سے بھی ہوتی ہے:’’ يَا بَنِي آدَمَ لَا يَفْتِنَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ كَمَا أَخْرَجَ أَبَوَيْكُم مِّنَ الْجَنَّةِ يَنزِعُ عَنْهُمَا لِبَاسَهُمَا لِيُرِيَهُمَا سَوْآتِهِمَا‘‘۔(۲)
ترجمہ:اے اولاد آدم کہیں شیطان تمہیں اس طرح فریب نہ دے جس طرح تمہارے والدیں(آدم و حوا) کو دھوکہ دے کر بہشت سے باہر نکال دیا اور ان کا لباس ان سے جدا کردیا۔
اگرچہ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ آغاز میں حضرت آدم برہنہ تھے تو واقعاً یہ ایک واضح اشتباہ ہے جو توریت کی تحریر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔
بہر حال اس کے بعد قرآن کہتا ہے:’’وَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ’’۔(۳)جس وقت آدم و حوا نے یہ دیکھا تو فوراً بہشت کے درختوں کے پتوں سے اپنی شرمگاہ چھپانے لگے۔
اس موقع پر خدا کی طرف سے یہ ندا آئی:’’ وَنَادَاهُمَا رَبُّهُمَا أَلَمْ أَنْهَكُمَا عَن تِلْكُمَا الشَّجَرَةِ وَأَقُل لَّكُمَا إِنَّ الشَّيْطَانَ لَكُمَا عَدُوٌّ مُّبِينٌوَطَفِقَا يَخْصِفَانِ عَلَيْهِمَا مِن وَرَقِ الْجَنَّةِ’’۔(۴)کیا میں نے تم دونوں کو اس درخت سے منع نہیں کیا تھا کیا میں نے تم سے یہ نہیں کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے،تم نے کس لئے میرے حکم کو بھلا دیا اور اس پست گرداب میں گھر گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔سورہ اعراف:۲۲۔
۲۔سورہ اعراف:۲۷۔
۳۔سورہ اعراف:۲۲۔
۴۔ سورہ اعراف:۲۲۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21