Sunday - 2019 January 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193837
Published : 18/5/2018 16:4

ترکی صدر کے عثمانی تیور

اردغان کے خطاب سے صاف ظاہر ہے کہ اب عالم عرب مرچکا ہے اور ان کے نزدیک فلسطین اور قدس کا مدعیٰ کوئی موضوعیت نہیں رکھتا لہذا اسی وجہ سے اردغان اپنے کو جہان اسلام کے ناجی کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق کل بروز جمعہ ترکی کے صدر رجب طیب اردغان نے استنبول میں ایک عظیم الشان احتجاج کو خطاب کیا کہ جس میں ترکی کے بہت سے ذی وقار مہمان بھی موجود تھے اس احتجاج کا عنوان تھا’’ظلم کی مذمت اور قدس کی حمایت‘‘ ترکی کے صدر نے اس احتجاج میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قدس ایک امتحان ہے اور اس میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا فیل(مردود) ہوگئی۔
ترکی کے صدر نے اس خطاب میں فلسطین کے ان مظلوم عوام کی حمایت اور قدردانی کی جنہوں نے فلسطین کی آزادی اور استقلال کا پرچم اٹھا رکھا ہے۔ انہوں نے کہا: قدس صرف ایک شہر نہیں ہے بلکہ یہ امتحان اور قبلہ کا مشترکہ سنبل ہے۔
اردغان نے یہ بھی اظہار کیا: اگر ہم اپنے قبلہ اول کی حفاظت نہ کرسکے تو  اپنے موجودہ قبلہ(خانہ کعبہ ) کے مستقبل سے بھی ہم پُر امید نہیں رہ سکتے۔
ترکی صدر نے اقوام متحدہ کے کردار پر بھی سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ جب ۱۹۶۷ میں قدس پر زبردستی قبضہ کیا جارہا تھا اور جب قانون کی دھجیاں اڑائی جارہی تھیں اس وقت اقوام متحدہ پر سکوت طاری تھا جس کا مطلب یہ ہے کہ اقوام متحدہ بھی شریک جرم ہے۔
انہوں نے اقوام متحدہ میں صرف ۵ ممالک کو ویٹو کے حق رکھنے پر سوال کھڑا کرتے ہوئے کہا: اس دنیا میں ۵ سے زیادہ ممالک پائے جاتے ہیں ۔ اور جس دنیا میں امریکہ کی بات سنی جائے اس میں ظلم کے علاہ کچھ اور نہیں مل سکتا۔
ترکی کے صدر نے امریکہ کے تل ابیب سے قدس اپنی سفارتی عملے کو منتقل کرنے کے فیصلے پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے قدس کے وقار پر دراندازی کی ہے اور ہم مسلمان صرف مذمت کرکے خاموش ہوجاتے ہیں اور کچھ دوسری چیز نہیں کرسکتے۔
اردغان نے اپنے احتجاج میں یہ بھی کہا: ترکی ایسا ملک ہے جو تمام ڈپلومیسی راستوں اور قدس سے متعلق ہر ملموس قدم اٹھانے کے لئے تیار ہے۔
اردغان کے خطاب سے صاف ظاہر ہے کہ اب عالم عرب مرچکا ہے اور ان کے نزدیک فلسطین اور قدس کا مدعیٰ کوئی موضوعیت نہیں رکھتا لہذا اسی وجہ سے اردغان اپنے کو جہان اسلام کے ناجی کی حیثیت سے پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
 یاد رہے کہ ترکی اور مصر ہی دو ایسے اسلامی ممالک ہیں جن سے رسمی طور پر اسرائیل کے سفارتی تعلقات ہیں اور دونوں ممالک میں اسرائیل کا سفارتی عملہ بھی موجود ہے اگرچہ خفیہ طور پر تو اس وقت عرب امارت،سعودی عرب،بحرین اور قطر وغیرہ نے بھی اسرائیل سے وسیع تعلقات قائم کررکھے ہیں لیکن یہ سب قانونی حیثیت نہیں رکھتے اور صرف دونوں ممالک کے سیاسی لوگ ایک دوسرے کے یہاں مہمان بن کے آتے جاتے رہتے ہیں۔
لیکن ابھی چند دن پہلے اسرائیل کے یوم تاسیس پر ہوئے حملات میں بہت سے فلسطینی شہید جبکہ کئی ہزار زخمی ہوگئے تھے اسی کے بعد سے ترکی میں دوسرے اسلامی ممالک کی طرح اسرائیل کے خلاف ایک الگ جذبہ دیکھنے کو ملا ہے جس کے چلتے ترکی نے اپنی ملک سے اسرائیلی سفیر کو بھی واپس بھیج دیا تھا۔
لیکن مزے کی بات یہ ہے  کہ جناب اردغان ایک کھٹی میٹھی شخصیت کے مالک ہیں کبھی وہ تل ابیب کا دورہ بھی کرتے ہیں تو کبھی انہیں ترکی میں وہ خلافت عثمانیہ کا عروج نظر آنے لگتا ہے لہذا اگر یہ صرف وقتی جذبات نہ ہو بلکہ ایک عملی قدم کی نوید ہو تو فلسطین کی اسلامی مزاحمت اور وہاں کے مظلوم عوام کو مزید سہارا مل سکتا ہے۔





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2019 January 20