Sunday - 2019 January 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193868
Published : 20/5/2018 14:11

میت پر رونے کے سلسلہ میں وہابیوں کا نظریہ اور علماء اہل سنت کی طرف سے اس کی رد(2)

واقدی کہتے ہیں کہ جنگ احد میں سعد بن ربیع شہید ہوگئے، پیغمبر اکرم(ص) مدینہ تشریف لانے کے بعد ہم لوگوں کو لیکر سعد کے گھر گئے چنانچہ سب لوگ زمین پر بیٹھ گئے اس وقت رسول اکرم(ص) نے سعد بن ربیع کا ذکر کیا اور ان کے لئے خدا سے طلب رحمت کی اور فرمایا کہ میں نے خود دیکھا ہے کہ اس روز سعد کے بدن کو نیزوں نے زخمی کررکھا تھا، یہاں تک کہ ان کو شہادت مل گئی ، جیسے ہی عورتوں نے یہ کلام سنا تو رونا شروع کردیا، اس وقت پیغمبر اکرم(ص کی آنکھوں سے بھی آنسوجاری ہوگئے اور پیغمبر اکرم(ص)نے ان عورتوں کو رونے سے منع نہیں فرمایا۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے اس سلسسلہ کی پہلی کڑی کو آپ کی خدمت میں پیش کیا تھا جس میں یہ گذارش کی تھی کہ ابن تیمیہ اور وہابی مسلک کے ماننے والے میت پر رونے کو حرام ،شرک اور بدعت جیسے الفاظ سے یاد کرتے ہیں جبکہ خود علماء اہل سنت نے اپنی صحاح اور معتبر کتابوں میں میت پر رونے کو نہ صرف یہ کہ بدعت نہیں ہے بلکہ یہ ایک فطری امر کہہ کر تعبیر کیا ہے چونکہ جس کے دل پر چوٹ لگتی ہے یقینی طور پر اس کی آنکھوں سے اشکوں کا سیلاب بہہ نکلتا ہے۔
گذشتہ کڑی کو پڑھنے کے لئے اس لنک پرکلک کیجئے:
میت پر رونے کے سلسلہ میں وہابیوں کا نظریہ اور علماء اہل سنت کی طرف سے اس کی رد(1)
گذشتہ سے پیوستہ: واقدی کہتے ہیں کہ جنگ احد میں سعد بن ربیع شہید ہوگئے، پیغمبر اکرم(ص) مدینہ تشریف لائے اور وہاں سے ’’ حمراء الاسد‘‘ گئے ، جابر ابن عبد اللہ کہتے ہیں کہ ایک روز صبح کا وقت تھا میں آنحضرت کی خدمت میں بیٹھا ہوا تھا، چنانچہ جنگ احد میں مسلمانوں کے قتل و شہادت کی باتیں ہونے لگیں، منجملہ سعد بن ربیع کا ذکر آیا تو اس وقت پیغمبر اکرم(ص) نے فرمایا کہ اٹھو ! سعد کے گھر چلتے ہیں، جابر کہتے ہیں کہ ہم بیس افراد ہونگے جو آنحضرت(ص) کے ساتھ سعد کے گھر گئے وہاں پر بیٹھنے کے لئے کوئی فرش وغیرہ بھی نہ تھا چنانچہ سب لوگ زمین پر بیٹھ گئے اس وقت رسول اکرم(ص) نے سعد بن ربیع کا ذکر کیا اور ان کے لئے خدا سے طلب رحمت کی اور فرمایا کہ میں نے خود دیکھا ہے کہ اس روز سعد کے بدن کو نیزوں نے زخمی کررکھا تھا، یہاں تک کہ ان کو شہادت مل گئی ، جیسے ہی عورتوں نے یہ کلام سنا تو رونا شروع کردیا، اس وقت پیغمبر اکرم(ص کی آنکھوں سے بھی آنسوجاری ہوگئے اور پیغمبر اکرم(ص)نے ان عورتوں کو رونے سے منع نہیں فرمایا۔(۱)
اس سلسلہ میں شافعی کا نظریہ
کتاب ’’الاُم‘‘ تالیف شافعی میں’’بکاء الحیّ علی المیت‘‘ (زندہ کا میت پر گریہ کرنا)کے تحت اس طرح بیان ہوا ہے کہ جناب عبد اللہ ابن عمر کی طرف سے جناب عائشہ سے کہا گیا کہ کسی میت پر زندہ کا گریہ کرنا اس پر عذاب کا باعث ہوتا ہے، تو جناب عائشہ نے کہا کہ ابن عمر نے جھوٹ نہیں کہا لیکن ان سے غلطی، یا بھول چوک ہوئی ہے ، (یعنی اصل حدیث یہ ہے کہ )  پیغمبر اکرم(ص) کے سامنے جب ایک یہودی عورت کا جنازہ آیا در حالیکہ اس کے رشتہ دار اس پر روتے جارہے تھے تو آپ نے فرمایا کہ یہ لوگ رو رہے ہیں جبکہ ان کے رونے کی وجہ سے یہ قبر میں عذاب میں مبتلا ہے۔
ابن عباس کہتے ہیں کہ جب جناب عمر کو ضربت لگی اور ان کا غلام صُہیب رونے لگا اور کہنے لگا: ’’وا اخیاہ وا صاحباہ‘‘ تو حضرت عمر نے اس سے کہا تو روتا ہے جبکہ رسول اللہ(ص)نے فرمایا ہے میت پر اہل خانہ کا گریہ کرنا اس کے لئے عذاب کا باعث ہوتا ہے ، جناب ابن عباس کہتے ہیں کہ جب حضرت عمر اس دنیا سے چلے گئے تو میں نے اس بات کو جناب عائشہ سے دریافت کیا۔ عائشہ نے کہا خدا کی قسم پیغمبر اکرم(ص) نے اس طرح نہیں فرمایا بلکہ آپ نے یہ فرمایا ہے کہ کفار کی میت پر اس کے اہل خانہ کا گریہ اس کے عذاب کو زیادہ کردیتا ہے، اس کے بعد جناب عائشہ نے فرمایا کہ تمہارے لئے قرآن کافی ہے کہ جس میں ارشاد ہوتا ہے:’’ولا تزر وازرۃ  وزر اخریٰ‘‘۔(۲)۔ اور کوئی نفس دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
اس کے بعد جناب ابن عباس نے بھی کہا:’’واللہ اضحک وابکی‘‘۔(۳)
شافعی نے مذکورہ مطالب کو ذکر کرنے کے بعد آیات و روایات کے ذریعہ مذکورہ روایت ’’ان المیت لیعذب‘‘۔کے صحیح نہ ہونے کو ثابت کیا ہے۔(۴)
..........................................................................................................................................
حوالہ جات:
۱۔المغازی،ج۱،ص۳۲۹،۳۳۰۔
۲۔سورہ انعام:۱۶۴۔
۳۔یہ جملہ سورہ  والنجم،آیت ۴۴ سے اقتباس ہے :’’و انہ ھو اضحک و ابکی‘‘۔ اور یہ کہ اس نے ہنسایا بھی ہے اور رُلایا بھی ہے ۔۔
۴۔کتاب ’’الام‘‘ شافعی،ج۸،ص۵۳۷۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2019 January 20