Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193877
Published : 21/5/2018 11:5

فکر قرآنی:

شجرہ ممنوعہ کونسا درخت تھا؟

حقیقت امر یہ ہے کہ آدم نے بعض روایات کی بنیاد پر دو درختوں سے تناول کیا ایک درخت تو وہ تھا جو ان کے مقام سے نیچے تھا، اور انہیں مادی دنیا میں لے جانے والا تھا اور وہ ’’گندم‘‘ کا پودا تھا دوسرا درخت معنوی تھا، جو مخصوص اولیائے الہی کا درجہ تھا اور آدم کے مقام و مرتبہ سے بالاتر تھا آدم نے دونوں پہلوؤں سے اپنی حد سے تجاوز کیا اس لئے انجام میں گرفتار ہوئے۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے گذشتہ مضمون میں یہ عرض کیا تھا کہ اللہ تعالٰی نے آدم(ع) کو خلق فرما کر فردوس میں رکھ دیا لیکن ساتھ ہی ایک شرط بھی لگائی کہ تم فلاں درخت کے قریب مت جانا لیکن شیطان کہ جسے آدم(ع) کو سجدہ نہ کرنے کے سبب اپنے مقام سے ہاتھ دھونا پڑا تھا اس نے یہ قسم کھائی تھی کہ میں آدم اور اولاد آدم کو بہکاتا رہوں گا چنانچہ  آدم کو اس شجر ممنوعہ کے قریب لے گیا۔اب سوال یہ ہے کہ وہ درخت جس سے اللہ تعالٰی نے منع فرمایا تھا اس کی حقیقت کیا ہے آئیے اس کالم میں پڑھتے ہیں لیکن ساتھ ہی نظر ڈالتے ہیں ہمار کل کے کالم پر:
شجر ممنوعہ کو چھونے کا انجام
گذشتہ سے پیوستہ: قرآن کریم میں بلا تفصیل اور بغیر نام کے چھ مقام پر ’’شجرہ ممنوعہ‘‘ کا ذکر ہوا ہے لیکن کتب اسلامی میں اس کی تفسیر دو قسم کی ملتی ہے ایک تو اس کی تفسیر مادی ہے جو حسب روایات’’گندم‘‘ ہے۔
اس بات کی طرف توجہ رہنا چاہیئے کہ عرب لفظ ’’شجرہ‘‘ کا اطلاق صرف درخت پر نہیں کرتے بلکہ مختلف نباتات کو بھی ’’شجرہ‘‘ کہتے ہیں چاہے وہ جھاڑی کی شکل میں ہوں یا بیل کی صورت میں۔
دوسری تفسیر معنوی ہے جس کی تعبیر روایات اہل بیت علیہم السلام میں ’’شجرہ حسد‘‘ سے کی گئی ہے ان روایات کا مفہوم یہ ہے کہ آدم نے جب اپنا درجہ اتنا بلند اور عظیم دیکھا تو یہ تصور کیا کہ ان کا مقام بہت ارفع و اعلٰی  ہے ان سے بلند کوئی مخلوق اللہ نے نہیں پیدا کی۔ اس پر اللہ نے انہیں بتلایا کہ ان کی اولاد میں کچھ ایسے اولیاء الہی(پیغمبر اسلام اور آپ کے اہل بیت(ع)) بھی ہیں جن کا درجہ ان سے بھی بہت بلند و بالا ہے اس وقت آدم میں ایک حالت، حسد سے مشابہ پیدا ہوئی اور یہی وہ ’’شجرہ ممنوعہ ‘‘ تھا،جس کے نزدیک جانے سے آدم کو روکا گیا تھا۔
حقیقت امر یہ ہے کہ آدم نے (ان روایات کی بنا پر) دو درختوں سے تناول کیا ایک درخت تو وہ تھا جو ان کے مقام سے نیچے تھا، اور انہیں مادی دنیا میں لے جانے والا تھا اور وہ ’’گندم‘‘ کا پودا تھا دوسرا درخت معنوی تھا، جو مخصوص اولیائے الہی کا درجہ تھا اور آدم کے مقام و مرتبہ سے بالاتر تھا آدم نے دونوں پہلوؤں سے اپنی حد سے تجاوز کیا اس لئے انجام میں گرفتار ہوئے۔
لیکن اس بات کی طرف توجہ رہے کہ یہ ’’حسد‘‘ حسد حرام کی قسم سے نہ تھا یہ صرف ایک نفسانی احساس تھا جبکہ انہوں نے اس طرف قطعاً کوئی اقدام نہیں کیا تھا جیسا کہ ہم نے بارہا کہا ہے کہ آیات قرآنی چونکہ متعدد معانی رکھتی ہیں لہذا اس امر میں کوئی مانع نہیں کہ ’’شجرہ‘‘ سے دونوں معنی مراد لے لئے جائیں۔
اتفاقاً کلمہ’’شجرہ‘‘ قرآن میں دونوں معنیٰ میں آیا ہے ، کبھی تو اسے عام درختوں کے معنیٰ میں استعمال کیا گیا ہے۔(۱) اور کبھی شجرہ معنوی کے معنیٰ میں استعمال ہوا ہے۔(۲)
لیکن یہاں پر ایک نکتہ ہے جس کی طرف توجہ دلانا مناسب ہے اور وہ یہ ہے کہ موجودہ خود ساختہ توریت میں، جو اس وقت کے تمام یہود و نصاریٰ کی قبول شدہ ہے اس شجرہ ممنوعہ کی تفسیر’’شجرہ علم و دانش اور شجرہ حیات و زندگی‘‘ کی گئی ہے چنانچہ توریت کہتی ہے:
’’قبل اس کے آدم شجرہ علم و دانش سے تناول کریں ، وہ علم و دانش سے بے بہرہ تھے حتی کہ انہیں اپنی برہنگی کا بھی احساس نہ تھا جب انہوں نے اس درخت سے کھایا اس وقت وہ واقعی آدم بنے اور بہشت سے نکال دیئے گئے کہ مبادا درخت حیات و زندگی سے بھی کھالیں اور خدا کی طرح حیات جاویدانی حاصل کرلیں۔(۳)
یہ عبارت اس بات کی کھلی ہوئی دلیل ہے کہ موجودہ توریت آسمانی کتاب نہیں ہے بلکہ کسی ایسے کم اطلاع انسان کی ساختہ و پرداختہ ہے جو علم و دانش کو آدم کے لئے معیوب سمجھتا ہے اور آدم کو علم و دانش حاصل کرنے کے جرم میں خدا کی بہشت سے نکالے جانے کا مستحق سمجھتا تھا،اس کی نظر میں بہشت گویا فہمیدہ انسان کے لئے نہیں ہے۔(۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔جیسے’’و شجرۃ تخرج من طور سیناء تنبت بالدھن‘‘ کہ جس سے مراد زیتون کا درخت ہے۔
۲۔جیسے ’’والشجرۃ الملعونۃ فی القرآن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ جس سے مراد مشرکین یا یہودی یا دوسری باغی قومیں(جیسے بنی امیہ )ہیں۔
۳۔سفر تکوین،فصل دوم،۱۷۔
۴۔قابل توجہ بات یہ ہے ڈاکٹر ولیم میلر(جسے عہدین خصوصاً انجیل کا ایک مقتدر مفسر مانا گیا ہے) اپنی کتاب’’مسیحیت چیست‘‘ میں یہ تفسیر رقم کی ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21