Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193880
Published : 21/5/2018 11:27

روزہ کو روزہ ہی رہنے دیجئے صاحب!

روزہ رکھئے تو چپ رہنا بهی سیکھئے اور جھوٹ سے دوری رکھنے کی عادت ڈالئے آپ اپنی اس مشق کی وجہ سے جگمگانے لگئے گا آپ کی زبان سے علم و معرفت کے موتی جهڑنے لگیں گے بشرطیکہ آپ کے پاس پہلے سے کچھ علم بهی ہو فرصت ملے تو قرآن کو جزدان سے باہر نکال کر کچھ آیتوں کی تلاوت بهی کر لیں اور وقت ملے تو اس کا ترجمہ بهی نظر نواز کریں وہ روحانی لذت ملےگی کہ قابل بیان نہیں ۔
ولایت پورٹل: یہ انسان کمزور اور اپنے ارادہ میں نہایت ڈهیلا ڈھالا اور ضعیف ہے آپ اپنی زندگی میں روزانہ یہ تماشہ دیکھتے ہوں گے کہ ایک کام ضروری ہونے کے باوجود ارادہ کی کمزوری کے سبب ٹال مٹول میں پڑا رہتا ہے آخرکار وہ کام نہیں ہو پاتا پکا ارادہ بهی کوئی چیز ہے صاحب  یہ تو دنیا کے کاموں کا حال ہے حدیث میں آیا ہے. جو دنیا کے کاموں میں سستی کرتا ہے وہ آخرت کے کاموں میں اور سستی کرے گا روزہ ان گنی چنی بڑی عبادت سے متعلق ہے کہ اگر انسان عبادت اسے نہ بهی سمجھے اور یوں ہی روزہ رکھتا رہے تو اس کے فائدہ سے لطف اندوز ہو سکتا ہے کوئی پانچ سال پہلے ایک انگریز رائٹر کی ایک کتاب پڑھی جو روزہ کے میڈیکل فوائد کے سلسلہ سے تهی وہ رائٹر خود سال کے چھ مہینے روزہ رکھتا ہے روزہ بهی برصغیر کے مسلمانوں کے طرز کا نہیں جس میں مزہ دار رنگ برنگی سحری اور وقت غروب چٹپٹی افطار پارٹیاں ہوتی ہیں بلکہ چوبیس گھنٹہ کچھ کهائے پئے بغیر فقط پانی پر گزارا کرنا ہے یہاں تک کہ ان کے اس نسخہ کو استعمال کرنے والوں کے انٹرویو بهی کتاب میں درج تھے جنہوں نے کینسر جیسے ظالم مرض سے روزہ کی بدولت چھٹکارا پایا تها۔
خیر مطلب یہ ہے کہ آپ روزہ کو اسلامک طرز پر اگر رکھیں تو ایک ایسی عبادت ہے جو قرب خداوندی کا ذریعہ ہونے کے ساتھ ساتھ جسمانی امراض سے بهی بچاتا ہے اور روزہ دار کو صحت و تندرستی عطا کرتا ہے روزہ میں اسلامک طرز کا اگر لحاظ ہو تو اندازہ ہوگا روزہ دوا بهی ہے عبادت بهی، خوشگوار کیپسول بهی ہے اور قلب و جگر کی قوت و طاقت کا ایک معجون بهی، ایسی ٹانک جس میں کوئی ملاوٹ نہیں بشرطیکہ خود روزہ دار ماحولیاتی آلودگی کا الگ سے اس میں کوئی اضافہ نہ کرے اب ذرا اسلامی طرز کا روزہ بهی دیکھئے مگر ارادہ پکا اور سستی اور کاہلی کا دخل نہ ہونے پائے۔
اسلامی طرز پر روزہ:
پہلے تو روزہ کی نیت کیجئے تاکہ وہ عبادت ہی رہے پھر سحری میں اٹھئے اور سحری کهائیے جو خود ایک مستحب عمل ہے مقوی چیز کا استعمال کیجئے جیسے شہد ،دودھ ،نشاستہ، روٹی ،سوپ،ایسے پهل فروٹ جس میں پانی کی مقدار زیادہ ہو. سیب ، سنترہ ، مسمی، انناس وغیرہ .البتہ نمکین کھانوں اور تلی ہوئی چیزوں کے استعمال میں سخاوت نہ دکھائیں ورنہ دن کے کسی حصہ میں پیاس حملہ آور ہو سکتی ہے اس وقت ڈر ہے کہ خود کی خطا اسلام کے سر ٹھوک دے!؟
افطاری میں احتیاط :
وقت افطار بهوکهے شیر کی طرح افطار پر نہ ٹوٹئے ٹھنڈا پانی فوراً نہ پیجئے اور اگر بھوک پیاس میں زیادہ ہی شدت ہے تو چند لمحے اور صبر کیجئے کہ روزہ خود صبر کا نام ہے گرم پانی یا نمک سے منھ نمکین کریں سستی مل جائے تو دو چار کھجوریں لے لیں اور اگر آپ کی جیب اجازت دے اور اصلی شہد مل جائے تو شہد گرم پانی کا شربت نوش کیجئے  پہر دیکھئے ذرا سی احتیاط سے آپ کے جسم مبارک پر کیا خوشگوار اثر پڑتا ہے اور روزہ کتنا خوبصورت اور فائدہ مند نسخہ ثابت ہوتا ہے حقیقت میں ایک روزہ دار کو وقت افطار کهانے پینے میں بڑھ چڑھ کر جو لذت ملتی ہے وہ دن بهر کهانے والوں کو نہیں ملتی کیونکہ ترک لذت خود لذت کا وسیلہ ہے البتہ افطار میں تلے بهنے پکوان کو ذرا دور ہی رکھئے یہی تو میدے کی آلودگی کو بڑھاتا ہے اور روزہ کے طبعی اثرات سے روکتا ہے خدا کے واسطے روزہ کو روزہ ہی رہنے دیجئے اور اپنے نرم و نازک مبارک بدن پر ترس کهائیے۔
دل کی نورانیت :
روزہ رکھئے تو چپ رہنا بهی سیکھئے اور جھوٹ سے دوری رکھنے کی عادت ڈالئے آپ اپنی اس مشق کی وجہ سے جگمگانے لگئے گا آپ کی زبان سے علم و معرفت کے موتی جهڑنے لگیں گے بشرطیکہ آپ کے پاس  پہلے سے کچھ علم بهی ہو  فرصت ملے تو قرآن کو جزدان سے باہر نکال کر کچھ آیتوں کی تلاوت بهی کر لیں اور وقت ملے تو اس کا ترجمہ بهی نظر نواز کریں وہ روحانی لذت ملےگی کہ قابل بیان نہیں ۔
چنانچہ یہی روزہ علاج جسم و جان کا ذریعہ اور روحانیت و نورانیت کا سبب ہے "مانو تو دیو نہیں تو پتھر " دین اسلام تو ہر طرح ایمان والوں کو فائدہ پہنچانے پر بضد ہے لیکن " گر گدا کاہل بود تقصیر صاحب خانہ چیست " یہ تو ایک فارسی محاورہ ہے یعنی اگر فقیر خود مانگنے میں کاہل ہو تو دینے والے کا کیا قصور ۔
خیر ماہ مبارک رمضان کوئی معمولی مہینہ نہیں جسے باآسانی گنوا دیا جائے یہ مہینہ روزہ سے پہچانا جاتا ہے اگر آپ مجبوراً روزہ نہ بهی رکھ سکیں تو روزہ دار کی طرح ہی رہیں کہ اس میں بهی آپ کی بهلائی ہے۔
افطار کا اہتمام کریں
مسجد کو آباد کریں
صدقہ اور خیرات دیں
متقی او پرہیز گاروں کا احترام کریں
مؤمن کی دستگیری کریں
نیک کاموں میں پیش پیش رہیں
بچوں کو سلام کریں
بوڑھوں کو عزت دیں
انشا اللہ ماہ صیام کے آخرآخر تک آپ بهی ان نیک بندوں میں ہوں گے جن سے اللہ تعالی محبت کرتا اور ان کی مغفرت کا دوستدار ہے۔
خداوند ہم سب کو روزہ داروں نمازگزاروں اور محمد و آل محمد کے چاہنے والوں میں شمار کرے آمین

تحریر:سید مشاهد عالم رضوی تنزانیہ




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21