Wed - 2019 January 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193918
Published : 23/5/2018 13:59

ایک سعودی شہزادے نے رو روکر سنائی نظربندی کی داستان

یاد رہے کہ سعودی ولیعہد بن سلمان کے حکم پر بہت سے شہزادوں کو نظربند کردیا گیا تھا اور حکومتی اموال میں خرد برد کرنے کا الزام دیکر تقریباً ۱۰۰ ارب ڈالر وصول کئے گئے تھے۔
ولایت پورٹل: رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے ایک شہزادے خالد بن فرحان نے ہوٹل رہٹز کی دردناک داستان غم سنائی اس نے جرمنی کے ایک انگریزی اخبار کو دیئے مندرجہ ذیل چیزوں کا انکشاف کیا:کہ جب سعودی عرب میں تمام شہزادوں کو یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ شاہ سلمان بن عبدالعزیز تم لوگوں سے ملاقات کرنا چاہتے ہیں تو پھر کسی کی ہمت نہیں ہوتی کہ انکار کرسکے۔
چنانچہ آخری بار نومبر میں ایسا ہی ہوا جب شاہی فرمان پہونچا کہ شاہ سلمان سے ملاقات کو جانا ہے اس کے بعد سے کوئی شہزادہ مشکل سے ہی اپنے گھر پہونچ پایا بلکہ سب کو ریٹز ہوٹل میں نظر بند کردیا گیا۔
اور سعودی کے جدید ولیعہد بن سلمان نے سب سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنی اپنی دولت کے زیادہ ترحصہ سے چشم پوشی کرلیں،لہذا کئی شہزادوں کو تو اپنی جان بچانے کی خاطر اپنی تمام دولت سے ہاتھ دھونا پڑا۔
اس شہزدے کا کہنا ہے کہ اس ہوٹل میں ان شہزادوں کے ساتھ اس طرح کا برتاؤ کیا گیا کہ جیسا کسی مجرم کے ساتھ بھی نہیں ہوتا اور اب ان میں سے کچھ شہزادے اگرچہ اپنے گھروں کو واپس آچکے ہیں لیکن ان پر مکمل نظر رکھی جارہی ہے اور انہیں یہ اجازت نہیں ہے کہ وہ سعودی عرب چھوڑ کر بیرون ملک جاسکیں۔
یاد رہے کہ سعودی ولیعہد بن سلمان کے حکم پر بہت سے شہزادوں کو نظربند کردیا گیا تھا اور حکومتی اموال میں خرد برد کرنے کا الزام دیکر تقریباً ۱۰۰ ارب ڈالر وصول کئے گئے تھے۔

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2019 January 23