Sunday - 2019 January 20
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193939
Published : 24/5/2018 13:30

روزے تیرا بھلا ہو

روزہ عبادت ہے، علاج جسم و روح ہے،حکمت و دانائی کا سبب ہے، نورانیت قلب کا ذریعہ ہے ،الھی فریضہ ہے ، تقوی و طہارت تک پہونچاتا ہے اور آتش جہنم سے نجات دلاتا ہے بشرطیکہ ایمان ہو ، دل میں یقین ہو ،اپنی نجات کی فکر ہو اور صحت و تندرستی کا خیال ہو۔
ولایت پورٹل: سمجھدار اور محنتی آدمی تھے مگر ذرا دبلے پتلے تھے اس لئے ہر کوئی ان سے چھیڑخوانی کرتا ، میاں کھایا پیا کیجئے ہڈیوں کا ڈھانچا لگتے ہیں، جیسے بانس پر کپڑا لٹکا دیا ہو ،خیر سے وہ باتوں میں آنے والے آدمی نہیں تھے ،یوں ہی ایک حکیم صاحب سے اپنا درد دل بیان کر دیا ،حکیم صاحب جسے دیکھئے میرے دبلے پن پر پھبکی کستا ہے، میرا مذاق اڑاتا ہے ،ان کی بات سن کر حکیم صاحب مسکرا کر بولے آپ دلگیر نہ ہویئے دبلے کو تو صرف ایک بیماری کہ وہ دبلا ہے اور موٹے کو ہزار دکھ ہوتے ہیں۔موٹاپا کوئی اچھی چیز تھوڑی ہے ،صحت مند اور تندرست رہئیے بس یہی کافی ہے۔ پھر انھوں نے موصوف کے کھا نے کے چارٹ میں کچھ تبدیلی کر دی اور فرمایا : ہمارے پاس کئی ایک مریض آتے ہیں مگر ان کا مرض ایسا نہیں ہوتا جس کے لئے کوئی دوائی تجویز کی جائے وہ خود اپنی دوائی آپ ہوتا ہے کھانے میں زیادتی یا الّم غلّم کھانے کے سبب مرض پال لیتے ہیں۔ ارے بھائی بزرگوں نےتو پہلے ہی بتا دیا تھا (کم کھاوُ ،کم سوؤ،کم بولو) مگر آج کے دور میں کسی ایک پر بھی عمل کرنے والا شاید ہی کوئی ملے! موصوف کو حکیم صاحب کی یہ حکیمانہ باتیں سن کر ذرا تعجب ہوا تو انھوں نے مزید بتایا کبھی کبھی کھانے پینے کی اشیاء کی ترکیب میں الٹ پھیر سے بھی ہمیں بیماری لگ جاتی ہے ،ایک صاحب بتانے لگے کہ مغرب (America ) کے بعض ممالک میں میڈیکل مہنگا ہونے کے سبب بیشتر لوگ خود کو بیمار ہونے سے بچاتے ہیں اور کھانے پینے میں محتاط رہتے ہیں ،چنانچہ وہ صحت مند رہتے ہیں اور بیمار ہی نہیں ہوتے، تو یہ آدمی پر ہے بد احتیاطی کرے تو ڈاکٹر حکیم کے چکر لگائے ،نہیں تو بچا رہے۔اور سنئے ایک عالمی شہرت یافتہ نامور خطیب سے عرصہ دراز بعد ملاقات ہوئی تو گل کے آدھے ہو چکے تھے جبکہ بڑے موٹے اور جسیم تھے میں نے سلام و کلام کے بعد تعجب سے پوچھا ؛ سرکار آپ اتنے دبلے کیسے ہوگئے ؟ فرمایا فاقہ کیا ،ایک وقت کھانا چھوڑ دیا اور مقدار کھانے کی کم کردی ،عرض کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اسلام نے مسلمانوں پر روزہ فرض کیا،اسکے احکام بتائے مگر ہم نے روزہ کو روزی بنا لیا اسکی تاثیر ہی ختم کر دی ،  سحری میں ٹھاٹ سے کھاتے ہیں اور افطاری بھی خوب دبا کر لیتے ہیں ، لگتا ہے کسی ولیمہ میں پہونچ گئے ہوں۔
لطیفہ : کہتے ہیں ایک ملا جی سحری میں اٹھ کر سحر کرتے اور افطار کے وقت افطاری بھی نوش جان فرماتے اور روزانہ کی طرح دن میں عصرانہ بھی لیتے تو ان کی مؤمنہ بیوی نے ایک دن کہا یہ کون سا اسلام ہے ؟ تو انھوں نے جواب دیا کیا چاہتی ہو بالکل ہی کافر ہو جاؤں!!
کھٹی ڈکاریں :
بعض روزہ داروں کو کھٹی ڈکاروں کی شکایت ہوتی ہے، ارے بھائی روزہ دار کو کھٹی ڈکار آئے حیرت کی بات نہیں ہے ؟ ! سال بھر میں ایک بار یہ مبارک مہینہ معدہ کی اورھلنگ کے لئے آتا ہے ، خوراک پر قابو فرمائیں اور روزہ کو دوا سمجھیں تو سال بھر اس کے خوشگوار نتائج سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں بلکہ روزہ جسمانی اور روحانی بیماریوں سے جسم و جان کو بچانے کا ایک ٹیکہ ہے لگا کے تو دیکھئے ! اور جناب ایمان و یقین بھی ایک سچائی کا نام ہے چنانچہ ایسے بھی مؤمنین ہیں جو حرام روزوں (عید الفطر اور بقرہ عید ) کو چھوڑ کر پورا سال روزہ رکھتے ہیں ، جی ہاں یہ ایمان و یقین کا مسئلہ ہے اور جسے بھی کسی دوا سے ایک بار فائدہ ہو جاتا ہے وہ اسے بار بار آزماتا ہے یہی تو عقلمندی ہے ، روزہ عبادت ہے، علاج جسم و روح ہے،حکمت و دانائی کا سبب ہے، نورانیت قلب کا ذریعہ ہے ،الھی فریضہ ہے ، تقوی و طہارت تک پہونچاتا ہے اور آتش جہنم سے نجات دلاتا ہے بشرطیکہ ایمان ہو ، دل میں یقین ہو ،اپنی نجات کی فکر ہو اور صحت و تندرستی کا خیال ہو۔

تحریر: سید مشاہد عالم رضوی (تنزانیہ)




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2019 January 20