Monday - 2019 January 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 193945
Published : 25/5/2018 18:32

عید سے پہلے باپ کو مسند سے ہٹا خود بیٹھ سکتے ہیں بن سلمان

کچھ سعودی ذرائع کے مطابق ابھی کچھ دن بعد ہی عید فطر سے پہلے بن سلمان کو بادشاہت دینے کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور کئی مہینہ پہلے ہی سے موجود بادشاہ سلمان بن عبد العزیز کا بیان بھی رکارڈ ہوچکا ہے تاکہ بوقت ضرورت مواصلاتی ذرائع کی وساطت سے دنیا کے سامنے پہونچایا جاسکے۔
ولایت پورٹل: اگر میزان نامی ٹویٹر اکاونٹ کی مانیں تو سعودی ولیعہد بن سلمان اپنے اطراف والوں سے بارہا یہ کہتے ہوئے نظر آئے ہیں کہ اس کے باپ کے مرنے کے بعد مسند بادشاہت پر بیٹھنا ایک پیچیدہ امر بن جائے گا تو کیوں نہ میں ان کے رہتے ہوئے ہی وہ منصب حاصل کرلوں۔
اس ٹوٹیر اکاونٹ نے یہ انکشاف ایسے وقت میں کیا ہے کہ جب ریاض کے شاہی محل میں ایک مہینہ پہلے ہونے والی فائرنگ میں بن سلمان کے زخمی ہونے کی اطلاعات بھی ہر طرف گونج رہی ہیں۔
جولائی ۲۰۱۷ میں رویٹرز نے یہ خبر بھی شائع کی تھی کہ سعودی فرمانروا سلمان بن عبدالعزیز اپنے بیٹے محمد بن سلمان کی خاطر بادشاہت سے استعفٰی دے سکتے ہیں تاکہ ان کے رہتے رہتے ان کا بیٹا اقتدار پر قابض ہوسکے۔
کچھ سعودی ذرائع کے مطابق ابھی کچھ دن بعد ہی عید فطر سے پہلے بن سلمان کو بادشاہت دینے کی تمام تیاریاں مکمل ہوچکی ہیں اور کئی مہینہ پہلے ہی سے موجود بادشاہ سلمان بن عبد العزیز کا بیان بھی رکارڈ ہوچکا ہے تاکہ بوقت ضرورت مواصلاتی ذرائع کی وساطت سے دنیا کے سامنے پہونچایا جاسکے۔
یاد رہے کہ بن سلمان اپنے باپ کا سترہواں بیٹا ہے جبکہ اس سے بڑے بڑے اس کے چچا جو ساٹھ برس سے ۷۶ برس تک کے ہیں وہ ابھی بادشاہ بننے کے خواب دیکھ رہے تھے لیکن بن سلمان نے اپنی ولیعہدی کا اعلان کرواکر سب کی آرزؤوں کا قتل عام کردیا۔


فارس


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2019 January 21