Tuesday - 2018 August 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194803
Published : 2/8/2018 16:13

نماز میں سستی کرنے والے کے لئے 15 مصیبتیں

نماز خیمہ دین کا ستون ہے اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے نماز کو ایمان و کفر کی سرحد قرار دیا ہے لہذا اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں دین کا خیمہ برپا(کھڑا) کرنا چاہے تو اسے ہمیشہ اس ستون اور عمود کا خاص خیال رکھنا ہوگا جس پر یہ خیمہ استوار ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! دین اسلام میں نماز اس قدر اہم ہے کہ ہماری احادیث میں وارد ہوا کہ نماز خیمہ دین کا ستون ہے اور قیامت کے دن انسان سے جس چیز کے متعلق سب سے پہلے سوال کیا جائے گا وہ بھی نماز ہی ہے۔ اگر کسی کی نماز قبول ہوجائے اس کے سارے اعمال قبول ہوجائیں گے  لہذا جو شخص نماز کی نسبت سستی و کاہلی برتے گا دنیا و آخرت میں اس کے برے نتائج کا اس کو ضرور سامنا کرنا پڑے گا۔
نماز خیمہ دین کا ستون ہے اور امام جعفر صادق علیہ السلام نے نماز کو ایمان و کفر کی سرحد قرار دیا ہے لہذا اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں دین کا خیمہ برپا(کھڑا) کرنا چاہے تو اسے ہمیشہ اس ستون اور عمود کا خاص خیال رکھنا ہوگا جس پر یہ خیمہ استوار ہے۔
استاد شہید مطہری اپنی گرانقدر کتاب’’آزادی معنوی‘‘ میں رقمطراز ہیں: گناہوں میں سے ایک نماز کا ہلکا اور سبک شمار کرنا بھی ہے۔ نماز نہ پڑھنا ایک کبیرہ گناہ ہے لیکن نماز تو پڑھنا لیکن ہلکا سمجھ کر نماز پڑھنا یہ دوسرا گناہ ہے چنانچہ روایات میں ملتا ہے کہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی شہادت کے بعد ابوبصیر جناب ام حمیدہ کو تعزیت پیش کرنے کے لئے حاضر ہوئے۔جب ابوبصیر نے آکر تعزیت پیش کی تو ام حمیدہ رونے لگیں ابو بصیر بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے اگرچہ وہ آنکھوں سے نابینا تھے وہ بھی رونے لگے ام حمیدہ نے ابوبصیر سے فرمایا:ابو بصیر تم نہیں تھے اور تم نے آخری وقت میں اپنے امام کو نہیں دیکھا ایک عجیب اتفاق رونما ہوا اس طرح کہ امام پر ایک عجیب حالت طاری ہوئی کہ ظاہراً غشی کی کیفیت تھی اور جب افاقہ ہوا فرمایا: میرے تمام اعزاء و اقارب کو میرے قریب بلایا جائے، ہم نے امام علیہ السلام کے حکم کی تعمیل کی اور سب کو بلا بھیجا۔
جب سب جمع ہوگئے اس وقت امام علیہ السلام اپنی آخری سانسیں لے رہے تھے ایک مرتبہ آنکھوں کو کھولا اور حاضرین کی طرف رُخ کرکے صرف یہ ایک جملہ ارشاد فرمایا:’’ اِنَّ شَفاعَتَنا لا تَنالُ مُستَخِفّاً بِالصَّلوةِ‘‘ ہماری شفاعت ہرگز ان افراد کو نصیب نہیں ہوگی جو نماز کو ہلکا سمجھیں۔ حضرت نے بس  یہ جملہ ارشاد فرمایا اور آپ کی روح پرواز کرگئی۔
اسی طرح نماز کو ہلکا و سبک سمجھنے  کے برے أثار و انجام کے بارے میں حضرت صدیقہ طاہرہ سلام اللہ علیہا نے اپنے بابا رسول خدا (ص) سے ایک جھنجوڑ دینے والی روایت نقل فرمائی ہے۔ چنانچہ آپ نے اپنے بابا سے سوال فرمایا: ’’ فقالت: يا ابتاه ما لمن تَهاون بصلاته من الرجال و النساء‘‘۔بابا جو مرد اور عورتیں نماز کو ہلکا اور بے اہمیت سمجھتے ہیں ان کی سزا کیا ہوگی؟
اللہ کے رسول(ص) نے فرمایا:اے فاطمہ(س)!جو مرد یا عورت نماز کو ہلکا سمجھتا ہے خداوند عالم اسے 15 مصیبتوں میں مبتلا کردیتا ہے جن میں 6 مصیبتیں دنیا میں،3 مصیبتیں موت کے وقت،3 مصیبتیں اس کی قبر میں اور 3 مصیبتیں قیامت میں جب اسے قبر سے اٹھایا جائے گا۔
وہ مصیبتیں جن میں انسان اس دنیا میں مبتلاء ہوگا:
۱۔اللہ اس کی عمر سے برکت اٹھا لےگا
۲۔اس کی روزی  سے برکت اٹھا لی جائے گی۔
۳۔صالحین کی نشانی کو اس کے چہرے سے مٹا دے گا۔
۴۔اس کے ہر عمل پر ثواب اور جزا نہیں دی جائے گی۔
۵۔اس کی دعا آسمان تک نہیں پہونچے گی۔
۶۔صالحین کی دعاؤں میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔
وہ مصبتیں جن میں انسان موت کے وقت مبتلا ہوگا:
۷۔وہ ذلیل ہوکر دنیا سے جائے گا۔
۸۔بھوکا اس دنیا سے اٹھے گا۔
۹۔پیاسا اس دنیا سے جائے گا۔اگرچہ دنیا کی سب نہروں کا پانی بھی اگر اسے پلا دیا جائے وہ ہرگز سیراب نہیں ہوگا۔
قبر میں پیش آنے والی مصیبتیں:
۱۰۔اللہ تعالیٰ اس کی قبر میں ایک فرشتے کو معین کرے گا جو ہر آن اسے اذیت پہونچاتا رہے گا۔
۱۱۔اس کی قبر اس کے لئے تنگ ہوجائے گی۔
۱۲۔اس کی قبر میں بلا کا اندھیرا ہوگا۔
قبر سے اٹھتے وقت وہ جن مصیبتوں میں مبتلاء ہوگا:
۱۳۔اللہ ایک فرشتہ معین کرے گا جو اسے لوگوں کے سامنے سے،منھ کے بَل کھینچتا ہوا میدان حشر میں لائے گا۔
۱۴۔اس سے سختی سے پوچھ تاچھ کی جائے گی۔
۱۵۔خداوند عالم اس کی طرف نظر رحمت سے نہیں دیکھے گا، اسے پاک نہیں کرے گا بلکہ اس کے لئے دردناک عذاب ہوگا۔
............................................................................................................................................................................
منابع:
۱۔بحار الأنوار: ج 83 ص 21
۲۔آزادی معنوی. مرتضی مطهری



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 August 14