Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194818
Published : 4/8/2018 15:12

اہل بیت(ع) سے کسب فیض کرنے کی دو بنیادی شرطیں

اہل بیت اطہار(ع) کے بابرکت وجود سے کسب فیض کرنے کی دو بنیادی شرطیں ہیں اگر ان میں سے ایک بھی شرط مفقود(کم) ہوئی تو ان مقدس ذوات کا فیض ہم تک نہیں پہونچ سکتاپہلے یہ کہ اپنے وجود میں ان بزرگوں سے کچھ سنخیت اور شباہت پیدا کرنا۔دوسرے یہ کہ ہمارے اور ان ذوات مقدسہ کے درمیان کوئی مانع،رکاوٹ وغیرہ حائل نہ ہو۔

ولایت پورٹل: اسلامی جمہوریہ ایران کے نامور مبلغ حجۃ الاسلام والمسلمین فاطمی نیا نے اپی ایک تقریر میں فرمایا تھا کہ اہل بیت اطہار(ع) کے بابرکت وجود سے کسب فیض کرنے کی دو بنیادی شرطیں ہیں اگر ان میں سے ایک بھی شرط مفقود(کم) ہوئی تو ان مقدس ذوات کا فیض ہم تک نہیں پہونچ سکتا۔
۱۔اپنے وجود میں ان بزرگوں سے کچھ سنخیت اور شباہت پیدا کرنا۔اگرچہ یہ امر مسلم ہے کہ کوئی بھی ان کی ہمتایی کا دعویٰ نہیں کرسکتا لیکن ہماری مراد سنخیت اور شباہت سے یہ ہے کہ کم از کم اپنے وجود میں ان کے وجود کی کچھ خوشبو اور عطر کو بسا لینا چاہیئے۔
۲۔کسب فیض کے لئے دوسری بنیادی شرط یہ ہے کہ ہمارے اور ان ذوات مقدسہ کے درمیان کوئی مانع،رکاوٹ وغیرہ حائل نہ ہو۔چونکہ بہت سے منحرف عقائد و افکار،اور بہت سے بُرے اعمال و عصیان اہل بیت اطہار(ع) سے صحیح کسب فیض کی راہ میں رکاوٹ ہوتے ہیں۔
اس کی سادہ سی مثال اس طرح دی جاسکتی ہے کہ ایک مقناطیس دو شرطوں کے ساتھ لوہے کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔پہلے تو یہ کہ مقناطیس صرف لوہے کو ہی اپنی طرف کھینچتا ہے چونکہ لوہے میں سنخیت و مشابہت پائی جاتی ہے ،پیتل یا دھات وغیرہ کو اپنی طرف جذب نہیں کرتا۔دوسرے لوہے پر کوئی ایسی رکاوٹ اور مانع حائل نہ ہو جو اسے مقناطیس کی طرف جذب ہونے سے روک دے مثلاً اس پر اس قدر گرد و غبار نہ ہو کہ لوہے کا وجود  ہی مضمحل ہوکر رہ جائے۔


 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22