Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194835
Published : 5/8/2018 13:20

شہید راہ اتحاد بین المسلمین

اتحاد بین المسلمین کے علمبردار اور مظلومین کی حمایت بالخصوص فلسطین و انتفاضہ کی حمایت کے لئے موثر ترین آواز اور ضیاء کے بدترین آمریت میں فلسطین و القدس کے لئے رمضان کے آخری جمعے کو القدس ریلیاں نکالنے والے نڈراور بے باک عالم دین علامہ عارف حسین الحسینی کی شہادت کو دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے۔

ولایت پورٹل:آج5 اگست 2018 کو ملت اسلامیہ کے شہید قائد اور اتحاد بین المسلمین کے علمبردار علامہ سید عارف حسین الحسینی کی 30 ویں برسی ہے،شہید  قائد ملیت اسلامیہ علامہ سید عارف حسین حسینی پاکستان کے قبائلی علاقے کرم ایجنسی کے صدر مقام پارہ چنار سے چند کلومیٹر دور پاک افغان سرحد پر واقع گاؤں پیواڑ میں 25نومبر 1946ء کو پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق پارہ چنار کے معزّز سادات گھرانے سے تھا، جس میں علم و عمل کی پیکر کئی شخصیات نے آنکھیں کھولی تھیں،شہید عارف حسینی ابتدائی دینی و مروجہ تعلیم اپنے علاقے میں حاصل کرنے کے بعد پاکستان کے بعض دینی مدارس میں زیر تعلیم رہے اور علمی پیاس بجھانے کے لئے 1967ء میں نجف اشرف روانہ ہوئے، نجف اشرف میں شہید محراب آیت اللہ مدنی جیسے استاد کے ذریعے آپ، حضرت امام خمینی (رح) سے متعارف ہوئے ،آپ باقاعدگی سے امام خمینی (رح) کے دروس، نماز اور دیگر پروگراموں میں شرکت کرتے تھے، 1974 ء میں شہید عارف حسین حسینی پاکستان واپس آئے، لیکن ان کو واپس عراق جانے نہیں دیا گیا تو قم کی دینی درسگاہ میں حصول علم میں مصروف ہوگئے ،شہید عارف حسین حسینی 1977 ء میں پاکستان واپس گئے اور مدرسۂ جعفریہ پارہ چنار میں بحیثیت استاد اپنی خدمات انجام دیں، اس کے علاوہ آپ نے کرم ایجنسی کے حالات بدلنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ جب 1979ء میں انقلاب اسلامی ایران میں اسلامی انقلاب آیا  تو آپ نے پاکستان میں اسلامی انقلاب کے ثمرات سے عوام کو آگاہ کرنے اور حضرت امام خمینی (رح) کے انقلابی مشن کو عام کرنے کا بیڑا اٹھایا،شہید عارف حسینی نے پاکستان کی مسلمان ملت کو امریکی پٹھو و ڈکٹیٹر ضیا کے خلاف متحد و منظم کرنے کے لئے بھرپور کوششیں کیں اورامریکہ و ضیا مخالف تحریک کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔ اگست 1983ء میں تحریک کے قائد علامہ مفتی جعفر حسین کی وفات کے بعد 1984 ء میں پاکستان کے جیّد علما و اکابرین نے علامہ شہید عارف حسینی کو ان کی قائدانہ صلاحیتوں، انقلابی جذبوں اور اعلی انسانی صفات کی بناپر تحریک کا نیا قائد منتخب کیا گیا،علامہ عارف حسین حسینی نے پاکستان میں امریکی ریشہ دوانیوں کو نقش بر آب کرنے اور قوم کو سامراج کے ناپاک عزائم سے آگاہ کرنے کے لئے بھی موثر کردار ادا کیا، علامہ شہید عارف حسین حسینی اتحاد بین المسلمین کے عظیم علمبردار تھے، آپ فرقہ واریت اور مذہبی منافرت کے شدید مخالف تھے، اس سلسلے میں آپ نے علمائے اہل سنت کے ساتھ مل کر امت مسلمہ کی صفوں میں وحدت و یک جہتی کے لئے گرانقدر خدمات انجام دیں،علامہ شہید سید عارف حسین حسینی ایک عظیم قائد، نڈر اور بےباک رہنما، پر خلوص اور جذبۂ خدمت سے سرشار انسان اور باعمل عالم دین تھے، ان کی یاد تاریخ اور اسلام سے محبت کرنے والوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی،پاکستان میں اتحاد بین المسلمین کے علمبردار اور مظلومین کی حمایت بالخصوص فلسطین و انتفاضہ کی حمایت کے لئے موثر ترین آواز اور ضیاء کے بدترین آمریت میں فلسطین و القدس کے لئے رمضان کے آخری جمعے کو القدس ریلیاں نکالنے والے نڈراور بے باک عالم دین علامہ عارف حسین الحسینی کی شہادت کو دو دہائیوں سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے لیکن مظلوموں اور فلسطینیوں کی حمایت کی وجہ سے عارف حسین  الحسینی آج بھی مسلمانوں کے دلوں میں زندہ ہیں،ضیاء کی بدترین آمریت میں مظلوموں کے لئے آواز بلند کرنے والے مرد مجاہد علامہ عارف حسین الحسینی کو ضیامافیا نے سی آئی اے اور اسرائیلی موساد کی ایما پر5اگست 1988کی صبح پشاور میں واقع درسگاہ مدرسۂ جامعۃ المعارف الاسلامیہ میں نماز فجر کے وقت شہید کروا دیا،لیکن اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے اور مظلوم علامہ عارف حسین الحسینی کے خون کا معجزہ دیکھئے کہ شہید عارف حسین الحسینی کی شہادت کے صرف بارہ دن بعد بدترین ڈکٹیٹر ضیا اپنے امریکی ساتھیوں سمیت سترہ اگست سن انیس سو اٹھاسی کو بہاولپور کے مقام پر فضائی حادثے میں ہلاک ہوگئے،شہید عارف حسینی کی شہادت کی خبر پاکستان بھر میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی اسلامیان پاکستان میں صف ماتم بچھ گئی اور عالم اسلام کے گوشے گوشے میں اس بھیانک قتل پر غم و اندوہ کا اظہار کیا گیا،شہید عارف حسین الحسینی سے بچھڑنے کا غم بانی انقلاب اسلامی حضرت امام خمینی (رح) پر بھی گراں گذرا چنانچہ آپ نے اپنے تعزیتی پیغام میں فرمایا کہ میں اپنے عزیز فرزند سے محروم ہوگیاہوں،واقعا شہید عارف حسین الحسینی امام خمینی (رح) کے روحانی فرزند تھے، آپ کو امام امّت سے عشق کی حد تک لگاؤ تھا، شہید عارف نے انقلاب اسلامی کی کامیابی سے پہلے ہی نجف اشرف سے ہی اپنے مجتہد اور ولی فقیہ امام انقلاب خمینی بت شکن سے فیض حاصل کیاتھا، شہید عارف انہی ایام میں نجف پہنچے تھے، جب امام خمینی (رح) جلاوطن ہوکر عراق تشریف لے گئے تھے،علامہ عارف حسین الحسینی فرماتے تھے میں اپنا سب کچھ حتی کہ جان تک قربان کر سکتا ہوں لیکن ناب محمدی اسلام و نظریہ ولایت فقیہ سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹ سکتا۔
بقول شاعر؎
چھری کی دھار سے کٹتی نہیں چراغ کی لو
بدن کی موت سے کردار مر نہیں سکتا
سحر



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17