Wed - 2018 Oct. 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194839
Published : 5/8/2018 15:46

کیوں بہن بھائی آپس میں جھگڑتے ہیں؟(1)

اکثر و بیشتر دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی بچے کے انفرادی ٹیلنٹ کے سبب والدین اس کے دیگر بہن بھائیوں سے اس کا موازنہ کرنے لگتے ہیں اور یہ کام اکثر اوقات بچوں کے درمیان حسد اور کینہ کا بیج بودینے کے لئے کافی ہوتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ اگر کسی بچے میں حسد پیدا ہوجائے اور وہ باقی رہ جائے تو وہ پوری زندگی دوسروں کے ساتھ اچھے روابط بحال رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام ہم نے کل یہ گذارش کی تھی کہ اکثر اوقات ایک ہی چھت کے نیچے پروان چڑھنے والے بہن بھائیوں میں کسی چھوٹی سی چیز کو لیکر اختلاف شروع ہوجاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ لڑائی جھگڑے میں تبدیل ہوجاتا ہے تو ایسی صورتحال اگر پیش آجائے تو والدین کی کیا ذمہ داری ہوتی ہے چونکہ بچوں کے درمیان جھگڑا اور اختلاف اپنے بُرے اثرات چھوڑتا ہے اور والدین کی ازدواجی زندگی کو بھی متأثر کرسکتا ہے۔۔قارئین ہمارے گذشتہ کالم کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے:
بچوں کے جھگڑے کو والدین کیسے نپٹائیں؟
آج ہم آپ کی خدمت میں کچھ ایسی چیزوں کا تذکرہ کررہے ہیں جن کو نظر انداز کردینا اکثر و بیشتر بہن اور بھائیوں کے درمیان اختلاف کا سبب بن جاتا ہے لہذا وقت رہتے ان کو رفع دفع کرنے کی کوشش والدین کی سب سے پہلی ترجیح ہونا چاہیئے:
انفرادی خصوصیات
ہر بچے میں کچھ نہ کچھ ایسے خصوصیات پائے جاتے ہیں جو اس کے دوسرے بھائی اور بہنوں میں نہیں ہوتے مثال کے طور ایک بچہ پڑھنے میں بہت تیز و ہوشیار ہے جبکہ دوسرا کھیل کود میں اس سے آگے چونکہ کوئی ایسی منطقی دلیل موجود نہیں ہے جس کی بنیاد پر یہ کہا جاسکے کہ ایک گھر کے تمام بچے ہر خصوصیت میں ایک جیسے ہوں لہذا بہن و بھائیوں کے درمیان یہ انفرادی خصوصیات کبھی امتیاز کا سبب بن جاتے ہیں۔
اور یہ بھی اکثر و بیشتر دیکھنے میں آتا ہے کہ کسی بچے کے انفرادی ٹیلنٹ کے سبب والدین اس کے دیگر بہن بھائیوں سے اس کا موازنہ کرنے لگتے ہیں اور یہ کام اکثر اوقات بچوں کے درمیان حسد اور کینہ کا بیج بودینے کے لئے کافی ہوتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ اگر کسی بچے میں حسد پیدا ہوجائے اور وہ باقی رہ جائے تو وہ پوری زندگی دوسروں کے ساتھ اچھے روابط بحال رکھنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔
کیوں بہن بھائی آپس میں جھگڑتے ہیں؟
یہ امر بہت اہم ہے کہ والدین کو اپنے ہر بچے کے انفرادی خصوصیات و امتیازات سے آگاہ ہونا چاہیئے اور ان کو انہیں خصوصیات کے ساتھ محبت کرنا چاہیئے اور کبھی بھول کر بھی یہ کوشش نہ کریں کہ وہ اپنے تمام بچوں کو ایک دوسرے کے جیسا بنائیں اور کبھی ان سے یہ نہ چاہیں کہ وہ اپنے دوسرے بھائی یا بہن کی مانند ہوجائیں۔ کبھی اپنے بچوں کا ایک دوسرے سے تقابل و موازنہ نہ کریں چونکہ والدین کا یہ تقابلی مزاج ہی اکثر اوقات بچوں میں نفرت کا بیج بودیتا ہے بلکہ انہیں یہ سکھانا چاہیئے کہ وہ ہر صورت ایک دوسرے کا احترام کریں اور اپنے درمیان موجود اختلاف کو سکون کے ساتھ  بیٹھ کر بات چیت کے ذریعہ حل کریں۔
آپ کے بچے ہمیشہ آپ کو اپنی زندگی میں سب سے بڑا آئیڈیل مانتے ہیں اگر وہ دیکھیں گے کہ گھر میں والدین ہمیشہ اختلاف کو منطقی اور صلح آمیز طریقہ سے حل کرتے ہیں تو وہ بھی کبھی جھگڑا نہیں کریں گے اور ہمیشہ ایک دوسرے کی عزت کریں گے کبھی کسی کی توہین کرنا پسند نہیں کریں گے اور انہیں یہ امر ذہن نشین کرانا ہوگا کہ اختلاف کبھی غصہ اور حسد سے حل نہیں ہوتے بلکہ صبر و تحمل و بردباری سے حل ہوتے ہیں۔


انشاء اللہ اس کی دوسری قسط جلد نذر قارئین کی جائے گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 24