Friday - 2018 August 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194847
Published : 5/8/2018 17:46

اسلام نے غلامی کے سسٹم کو کیسے ختم کیا؟

اسلام کے یہ وہ بنیادی احکام اور رسول اسلام(ص) کی ان بنیادی تدابیر کا نتیجہ تھا کہ کچھ ہی عرصہ میں اسلامی دنیا سے غلامی کی لعنت اور شرافت انسانی کے پاؤں میں پڑی بردگی کی زنجیریں ہمیشہ کے لئے کٹ گئیں اور معاشرہ پر کوئی بوجھ بھی نہیں پڑا۔

ولایت پورٹل:غلامی اور بردگی کے بارے میں اسلام کا نظریہ جاننے سے پہلے غلامی کی تاریخ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ اچھی طرح یہ اندازہ لگایا جاسکے کہ غلامی کی جڑیں کہاں تک پھیلی ہوئی ہیں اور اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ تاریخ میں کوئی بھی ایسا زمانہ نہیں گذرا جس میں طاقت اور دولت کے بل پر انسان کو انسان نے غلام نہ بنایا ہو۔
غلامی کا یہ پہلو انسانی فطرت سے بہت قریب ہے چونکہ کوئی بھی انسان اپنے سارے کام از خود انجام نہیں دے سکتا اور ہر انسان مجبور ہے کہ وہ اپنی زندگی کے بہت سے امور میں کسی دوسرے کا سہارا لے اب اگر انسان شریف ہوتو وہ اس کام کرنے والے کو اپنا معاون و مددگار اور محسن تصور کرتا ہے اور اسے حد درجہ اہمیت دیتا ہے لیکن اگر بدطینت اور مکار ہو تو اپنے کو اس سے اعلٰی و بالا سمجھتے ہوئے اس سے نوکر اور مزدور کی طرح پیش آتا ہے چنانچہ انسان کی فطرت جب مصلحت پسندی کے گرداب میں جا پھنستی ہے تو وہیں سے غلامی کا تصور سامنے آجاتا ہے اور انسان اپنے محسن کو مزدور اور نوکر سمجھنے پر اکتفاء نہیں کرتا چونکہ مزدور سمجھنے پر تو اسے اس کی مزدوری اور اجرت دینا پڑے گی لہذا اپنی برتری بھی ظاہر ہوجائے اور سامنے والے کو کچھ دینا بھی نہ پڑے پس یہیں سے اور اسی ماحول میں غلامی اور بردگی کی تخم ریزی ہوئی کہ بہت سے بدطینتوں اور مکاروں نے اپنی طاقت و دولت کا بے جا استعمال کرکے اپنے کو مالک اور آقا فرض کرلیا اور دوسروں کو کمزور اور نادار ہونے کے سبب اپنا غلام و بردہ تسلیم کرلیا۔
اب آپ ملاحظہ کیجئے کہ جہاں انسانی کرامت و شرافت کی اتنی ناقدری ہوئی ہو بھلا اس دنیا میں کسی اچھائی کی کیا توقع کی جاسکتی ہے ؟
لیکن اللہ نے ہمیشہ اپنے بندوں کو طاغوتوں اور جابروں سے چھڑوانے کے لئے اور ان کے ظلم سے نجات دلوانے کے لئے ہر نبی کو اس اہم کام یعنی بردگی اور غلامی سے نجات دلوانے کی ذمہ داری دی چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو نمرودی غلامی سے نجات دلائی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو فرعونی  چنگل سے آزاد کروایا،اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے زمانے کی نابکار یہودیوں سے جم کر مقابلہ کیا اور اسی طرح آخری پیغمبر حضرت محمد مصطفیٰ(ص) نے اپنے دور کے ظالموں کے خلاف آواز اٹھائی اور عرب میں بردگی و غلامی کی ریگ تپاں پر تڑپتی انسانیت کو اپنے دامن رحمت کے سائے میں جگہ دی۔
اگرچہ عرب کا معاشرہ کہ جہاں پورا کاروبار زندگی اور روز مرہ کی زندگی غلام کے بغیر چلنا ناممکن تھی  چنانچہ اللہ کے رسول(ص) نے سب سے پہلے اس معاشرہ میں غلام و آقا کے حقوق کو تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا تاکہ آقا کو یہ احساس ہوجائے کہ صرف اللہ ہی سب کا حقیقی مالک ہے اور کوئی کسی کا غلام نہیں ہے ادھر غلام کو بھی یہ احساس رہے کہ جو شخص اس کی کفالت کررہا ہے تو اس کی گردن پر اس کا بھی کچھ حق بنتا ہے ۔
یہ اللہ کے رسول (ص) کی طرف سے غلامی کے لئے اٹھایا جانے والا پہلا قدم تھا چونکہ آپ جانتے تھے کہ غلامی کے سائے میں پروان چڑھنے والا معاشرہ اتنی آسانی سے آزاد نہیں ہوسکتا اور ساتھ ہی یہ بھی جانتے تھے کہ غلامی کا معاملہ کوئی انفرادی عمل نہیں ہے کہ جسے حرام قرار دیدیا جائے چونکہ غلامی کی جڑیں زندگی کی ہر شعبہ میں اس طرح پھیلی ہوئی تھیں کہ انہیں آسانی سے ختم کرنا ممکن نہیں بلکہ اس کے لئے ایک سسٹم اور نظام کی ضرورت  تھی لہذا آپ نے اس لعنت سے معاشرہ کو آزاد کرانے کے لئے دو اہم طریقے اپنائے:
1۔غلامی اور بردگی ایجاد کرنے کے تمام راستوں کو بند کردیا جائے اور اس کا معاملہ صرف میدان جنگ تک ہی محدود کردیا جائے۔چونکہ انسانیت کے دشمن اگر میدان جنگ میں اپنے ساتھ عورتوں اور بچوں کو لے آئیں تو جنگ کے بعد عورتوں کو کنیز اور بچوں کو غلام بنا لیا جائے۔
درحقیقت یہ کسی کو غلام بنایا جانا نہیں ہے  بلکہ حق و حقیقت کے خلاف جنگ چھیڑنے والوں کے خلاف ایک محکم جواب ہے جسے کسی بھی طرح عدالت و انصاف کے منافی عمل قرار نہیں دیا جاسکتا ہے۔چونکہ حق کے خلاف جنگ چھیڑنے والوں کو ضرور سزا ملنی چاہیئے اگر وہ مرد ہیں اور بالغ ہیں اور حق کے مقابل جنگ میں شامل ہوئے ہیں تو ان کی سزا موت ہے لیکن اگر نابالغ اور عورتیں ہیں اور انہوں نے جنگ میں حصہ تو نہیں لیا لیکن اپنے لشکر کے ساتھ آئے ہیں تو ان کو مارنا عدالت کے خلاف ہے لیکن سزا بہر حال ضروری ہے تاکہ اسلام اور دین کے خلاف جنگ چھیڑنے والوں کو یہ احساس رہے کہ جنگ کی گرد صرف سپاہیوں کے دامن تک ہی محدود نہیں  رہے گی بلکہ اس کا اثر آنے والی نسلوں کے سروں تک بھی پہونچتا ہے اگرچہ یہ اور بات ہے کہ اسلام نے عورتوں اور بچوں کی کمزوری کو دیکھتے ہوئے ان کے ساتھ اچھے سلوک کو واجب قرار دیا ہے اور ان کے حق میں کسی بُرے سلوک کی ہرگز اجازت نہیں دی ہے ۔
2۔سرکار ختمی مرتبت(ص) نے آزادی کے متعدد راستہ کھول دیئے:
**اگر کوئی انسان فی سبیل اللہ محض ثواب کے لئے کسی غلام کو آزاد کرنا چاہے تو وہ آزاد ہوجائے گا۔
**اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں غلام کو آزاد کرنے کے بجائے یہ کہہ دے کہ تو میرے مرنے کے بعد آزاد ہے تو مالک کے مرتے ہی غلام آزاد ہوجائے گا اور اسے مرحوم کے ورثہ میں داخل نہیں کیا جائے گا۔
**اگر کوئی شخص اپنے غلام سے یہ شرط کرلے کہ اگر تم نے اتنی مقدار میں پیسہ کما کر ہمارے حوالے کیا تو تم آزاد ہوجاؤگے بس جیسے ہی وہ رقم دے گا وہ اس سے آزاد ہوجائے گا۔
**اگر کوئی شخص اپنے غلام کا ایک حصہ آزاد کردے تو وہ مکمل طور پر آزاد ہوجائے گا اور اگر ایک غلام میں دو لوگ شریک ہوں اور ایک اپنے حصہ کو آزاد کردے تو دوسرا شخص اسے غلام بنانے پر اصرار نہیں کرسکتا بلکہ اپنے حصہ کا پیسہ لے کر اسے اپنے حصہ سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
**اسلام نے اپنے بہت سے احکام میں غلام کی آزادی کو سرفہرست قرار دیا ہے جیسا کہ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر روزہ چھوڑ دے تو اس پر واجب ہے کہ وہ غلام آزاد کرے لیکن اگر اس امر پر قادر نہ ہو تو دیگر کفارے ادا کرے۔
چنانچہ اسلام کے یہ وہ بنیادی احکام اور رسول اسلام(ص) کی ان بنیادی تدابیر کا نتیجہ تھا کہ کچھ ہی عرصہ  میں اسلامی دنیا سے غلامی کی لعنت اور شرافت انسانی کے پاؤں میں پڑی بردگی کی زنجیریں ہمیشہ کے لئے کٹ گئیں اور معاشرہ پر کوئی بوجھ بھی نہیں پڑا۔
اگرچہ بعض مستشرقین اور غرب زدہ لوگ غلامی کے اختتام کو امریکہ کے سابق صدر ابرہام لنکن کی طرف نسبت دیتے ہیں کہ انہوں نے 1862ء میں امریکی سنیٹ میں یہ قانون پاس کروایا کہ اب بردگی کا دور ختم ہوچکا ہے لیکن اگر غور سے مطالعہ کیا جائے تو ابرہام لنکن نے صرف امریکہ اور غرب میں چلی آرہی ہزاروں سال کی بردگی پر بریک ضرور لگایا جو آہستہ آہستہ مغربی ممالک سے ختم ہوئی جبکہ اس سے کئی صدی قبل اسلام میں بردگی اور غلامی کا سسٹم دم توڑ چکا تھا۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 August 17