Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194863
Published : 6/8/2018 16:49

کیوں بہن بھائی آپس میں جھگڑتے ہیں؟(2)

بچے بہت حساس اور دقیق ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی کسی ایک بچے کو زیادہ دیر پیار کرنا یا گود میں لینا،کسی کو کوئی پیسہ وغیرہ دیدینا، یا دسترخوان پر بیٹھتے وقت ایک کو دوسرے سے زیادہ کھانا وغیرہ نکال دینا۔ یہ وہ سب چیزیں ہیں کہ شاید آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے لیکن آپ کے بچے ان سب چیزوں پر بہت توجہ دیتے ہیں اور اگر آپ ان کے درمیان کوئی امتیازی سلوک کرتے ہوں تو وہ جلد ناراض ہوجاتے ہیں اور یہ احساس کرنے لگتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ ہمارے فلاں بھائی یا بہن کو ہم سے زیادہ چاہتے ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام ہم نے کل یہ گذارش کی تھی کہ اکثر اوقات ایک ہی چھت کے نیچے پروان چڑھنے والے بہن بھائیوں میں کسی چھوٹی سی چیز کو لیکر اختلاف شروع ہوجاتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے یہ لڑائی جھگڑے میں تبدیل ہوجاتا ہے تو ایسی صورتحال اگر پیش آجائے تو والدین کی کیا ذمہ داری ہوتی ہے چونکہ بچوں کے درمیان جھگڑا اور اختلاف اپنے بُرے اثرات چھوڑتا ہے اور والدین کی ازدواجی زندگی کو بھی متأثر کرسکتا ہے لہذا کل ہم نے چند اہم چیزوں کا ذکر کیا تھا اور حسب وعدہ آج دیگر کچھ اہم چیزوں کا تذکرہ کررہے ہیں جو دو بھائی یا بہنوں کے درمیان اختلاف و کشیدگی کا سبب بن سکتی ہیں۔۔قارئین ہمارے اس عنوان کو مکمل پڑھنے کے لئے ان لنکس پر کلک کیجئے:
بچوں کے جھگڑے کو والدین کیسے نپٹائیں؟
کیوں بہن بھائی آپس میں جھگڑتے ہیں؟(1)

مشترک سامان
گذستہ سے پیوستہ: بہن اور بھائیوں کے درمیان ایک وہ موقع جب اختلاف بڑھ جاتا ہے اور جھگڑا شدید ہوجاتا ہے ان کا کچھ سامان میں مشترک ہونا ہے جیسا کہ کھیل کود کا سامان، اسٹیشنری،اور کتاب یا ٹیلیویزن وغیرہ کہ جس کو بچے ایک ساتھ استعمال کرتے ہیں ۔اختلاف اس وقت شروع ہوتا ہے جب دو بچے ایک ساتھ اور ایک  ہی وقت ان چیزوں کو استعمال کرنا چاہیں یا ان میں سے کوئی ایک ان کو خراب کردے تو ایسے وقت میں ایک عظیم معرکہ بپا ہوجاتا ہے اور ان میں سے کوئی ایک بھی خراب کرنے کی ذمہ داری قبول کرنے کو تیار نہیں ہوتا بلکہ کوشش یہی ہوتی ہے کہ دوسرے کے سر یہ غلطی ڈال دی جائے۔
ایسے مواقع پر والدین کو بہت ہوشیاری کی ضرورت ہے اور انہیں چاہیئے کہ بچوں میں سے کسی کی بھی طرفداری نہ کریں بلکہ بچوں کے درمیان حل و فصل کرتے وقت عدالت کو ملحوظ رکھ کر انہیں آپس میں لڑنے سے بچائیں۔
عدم مساوات
اگر والدین اپنے بچوں کے درمیان برابری و مساوات قائم نہ کرسکیں تو بہت سی مشکلات وجود میں آسکتی ہیں۔آپ حضرات فرض کیجئے کہ اگر بچوں کے ذہن میں یہ بیٹھ جائے کہ آپ ان کے درمیان مساوات اور برابری کا رویہ نہیں اپناتے تو کیا یہ بُرا نہیں ہے ؟ آپ خود محسوس کیجئے اور فیصلہ کیجئے!
بچے بہت حساس اور دقیق ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی کسی ایک بچے کو زیادہ دیر پیار کرنا یا گود میں لینا،کسی کو کوئی پیسہ وغیرہ دیدینا، یا دسترخوان پر بیٹھتے وقت ایک کو دوسرے سے زیادہ کھانا وغیرہ نکال دینا۔ یہ وہ سب چیزیں ہیں کہ شاید آپ ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتے لیکن آپ کے بچے ان سب چیزوں پر بہت توجہ دیتے ہیں اور اگر آپ ان کے درمیان کوئی امتیازی سلوک کرتے ہوں تو وہ جلد ناراض ہوجاتے ہیں اور یہ احساس کرنے لگتے ہیں کہ ہمارے ماں باپ ہمارے فلاں بھائی یا بہن کو ہم سے زیادہ چاہتے ہیں۔
یہ سب وہ چیزیں ہیں کہ آپ کے بچے ناراض ہوجاتے ہیں اور اپنی ناراضگی کو آپ کے سامنے تو برملا نہیں کرپاتے لہذا اپنے غصے کی ساری خلش اپنے اس بھائی یا بہن سے نکالتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اپنے کو محروم سمجھ بیٹھتے ہیں اور اس کے ساتھ مار پیٹ تک پہ اتر آتے ہیں۔
عمر کا اختلاف
جیسا کہ آپ جانتے ہیں ہر عمر کے اپنے کچھ تقاضے ہوتے ہیں ان حالات میں اگر آپ کے بچے دو مختلف عمر کے ہوں تو یہ بھی بسا اوقات ان کے درمیان اختلاف اور جھگڑے کا سبب بن سکتا ہیں مثال کے طور پر آپ کا بڑا بچہ اکیلا ہی خریداری کے لئے مارکیٹ جاسکتا ہے جبکہ آپ کا چھوٹا بچہ یا بچی ابھی چھوٹی ہے اور اسے باہر تنہا جانے نہیں دیا جاسکتا لیکن وہ اس صورتحال کو ابھی درک کرنے سے قاصر ہے لہذا وہ یہ خیال کرتا ہے کہ آپ اس کے اور اس کے دوسرے بھائی بہن کے درمیان امتیازی سلوک کررہے ہیں یا اس کے برعکس بھی ممکن ہے کہ جب آپ کے چھوٹے بچے کو زیادہ نظارت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہو اور آپ اس پر توجہ دے رہے ہوں  تو بڑا بچہ یہ سمجھتا ہے کہ آپ اس کا حق ضائع کررہے ہیں۔
ایسے حالات میں والدین کو اپنے بچوں کی عمر و سن کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں مطمئن کرنے کی کوشش کرنا چاہیئے اور ایسے مواقع پر زیادہ کوشش کیجئے کہ ان کے درمیان مساوات کی رعایت کریں مثال کے طور پر اگر آپ اپنے چھوٹے بچے کو گود میں لیتے ہیں تو کچھ دیر بڑے بچے کو بھی آغوش میں لیکر محبت کا اظہار کیجئے !
تقابل و موازنہ
آپ کے بچے آپ سے اپنی تعریف سننا بہت پسند کرتے ہیں لیکن کبھی کبھی آپ کی کسی بچے کی تعریف بھی اختلاف کا سبب بن جاتی ہے اور اسی طرح ایک موضوع پر دو بھائی بہنوں کا تقابل اور موازنہ کرنا مثلاً یہ دیکھیں کہ کون زیادہ ہوشیار ہے،کون زیادہ تیز ہے کون زیادہ ذمہ داری سے اپنے کام کرتا ہے چنانچہ بہتر اور برتر ہونے کی یہ کوشش  کبھی اختلاف کا سبب بن جاتی ہے لہذا والدین کو حد درجہ کوشش کرنا چاہیئے  کہ وہ اپنے بچوں کی یکساں طور پر تعریف و تمجید کریں اور یہ کوشش کی جائے کہ ان کے درمیان تقابل اور موازنہ کی کوئی صورت پیدا نہ ہو۔
قارئین کرام ! یہ کچھ وہ اہم مواقع تھے جن کے سبب ایک ہی گھر کی چھت کے نیچے پروان چڑھنے والے بھائی بہنوں میں اختلاف پیدا ہوجاتا ہے اور جھگڑا ہونے لگتا ہے چونکہ بچپن میں ان کا دل شیسہ سے بھی زیادہ نازک ہوتا ہے اگر اس پر کوئی خراش آئی  تو کبھی صحیح نہیں ہوتی لہذا کوشش یہ کرنا ہوگی کہ بچوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون،مدد،اعتماد اور امید کی فضا ہموار کریں اور ہر اس چیز سے بچیں جس سے گھرکا ماحول خراب ہوتا ہو۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16