Tuesday - 2018 Dec 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194865
Published : 6/8/2018 19:0

حج کا فلسفہ

اللہ کے گھر کا طواف زندگی کے مرکز اور محور کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی زندگی اور خاص طور پر ایک مسلمان کی زندگی اس گھر کے مالک کے محور پر گردش کررہی ہے اور اس کی زندگی کا کوئی دوسرا محور نہیں ہے۔ وہ اس گھر کا طواف کرکے خود کو دنیا کی دوسری چیزوں کے چکر کاٹنے سے محفوظ کرلیتا ہے اور پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوکر دنیا کی ہر بلندی اور کامیابی کو حاصل کرلیتا ہے۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! بنیادی طور پر حج دو اجزاء سے مل کر مکمل ہوتا ہے ایک کو عمرہ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو حج۔دونوں میں تقریباً 24 ارکان پائے جاتے ہیں جن میں کچھ ارکان تو دونوں میں مساوی ہیں اور کچھ ارکان یا عمرہ سے مخصوص ہیں یا صرف حج سے۔ جیسے احرام باندھنا،کعبہ کا طواف کرنا،نماز طواف پڑھنا،صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا اور اسی طرح تقصیر(بالوں کا کاٹنا) بھی وہ عمل ہے جو عمرہ میں ضروری ہے جبکہ اگر کسی کا دوسرا یا تیسرا حج ہو تو صرف تقصیر(بال کاٹنا ) ہوگا حلق(سر منڈوانا) ضروری نہیں ہے۔
غرض! عمرہ میں کوئی ایسا عمل اور رکن نہیں ہے جو حج میں نہ پایا جائے لیکن حج میں بہت سے ایسے ارکان ہیں جو عمرہ میں نہیں ہوتے جس کا واضح سا مطلب یہ ہے کہ عمرہ حقیقت میں خود کو حج کے لئے تیار کرنے کا نام ہے جس سے مسلمان اور حاجی کو یہ ذہن نشین رہے کہ آنے والے دنوں میں حج کے دوران اسے اور بھی بہت سے ایسے اعمال انجام دینا ہے یا ان اعمال کا مقصد ان مقدس مقامات اور ارکان کی اہمیت کا احساس دلانا ہوتا ہے جن سے حج کا گہرا رابطہ پایا جاتا ہے اور جن کے بغیرہ حج ادھورا ہے۔
1۔حج کا پہلا فلسفہ یہ ہے کہ یہ ایک عالمی اجتماع ہے جس میں پوری دنیا سے فرزندان توحید ایک  جگہ جمع ہوتے ہیں نہ ان میں کوئی کسی ملک کے سفیر کے طور پر شرکت کرتا ہے اور نہ کسی سیاسی جماعت کے سربراہ کے طور پر ،نہ کسی کا سیاسی کردار اس میں عیاں ہوتا ہے اور نہ کسی اختلاف کی اس میں کوئی گنجائش ہوتی ہے۔یہ ایسا اجتماع ہے جس میں ہر انسان اپنے ایمان اور اسلام کی وجہ سے پہچانا جاتا ہے اور اس کا مقصد، اللہ کی عبادت کے زیر سایہ دنیائے اسلام کے اہم معاملات پر گفتگو کرکے ان کا بہتر حل تلاش کرنا ہوتا ہے تاکہ وہ واپس آکراپنے علاقہ میں  اس راہ حل کو نافذ کر سکے۔
2۔حج کی دوسری حکمت یہ ہے کہ یہ صرف ایک دینی اور ایمانی تقاضے کو پورا کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہاں پر انسانی اقدار کا تحفظ حجاج کرام کے پیش نظر ہوتا ہے چونکہ اللہ نے تمام انسانوں کو حج کرنے کی دعوت دی ہے یعنی حج کرنا دلیل انسانیت ہے اور اس سے منھ موڑنا درحققت انسانی اقدار کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے چونکہ حج کے فوائد و برکات صرف ایمانی برادری اور دنیا تک ہی محدود نہیں رہتے بلکہ اس کے فوائد اور اس کے پیغام ساری انسانیت کے لئے ہیں۔
3۔حج کا تیسرا فلسفہ یہ ہے کہ یہ عمل’’ لَبَّیْکَ اللّهُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لا شَرِیکَ لَکَ لَبَّیْکَ ‘‘۔سے شروع ہوتا ہے اور رمی جمرات(شیطانی نماد کو کنکر مارنے) پر ختم ہوتا ہے لبیک کہنا، حضرت ابراہیم کی سنت ہے اور یہ ان کی اللہ کی نسبت محبت کی پہچان و علامت ہے اور اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ انسان نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت پر لبیک کہتے ہوئے اپنے گھر بار اور کاروبار زندگی کو چھوڑ دیا ہے اور رمی جمرات شیطان سے دوری کی نشانی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان جب تک اولیاء الہی سے محبت کا اظہار اور اللہ کے دشمنوں سے برات کا اعلان نہ کردے تو اس کا حج مکمل نہیں ہوتا۔
4۔یہ لبیک کہنا اس بات کی علامت بھی ہے کہ ہم لوگ حالانکہ  حضرت ابراہیم علیہ السلام کی امت میں نہیں ہیں لیکن چونکہ آپ نے اللہ کی طرف سے انسانیت کو پیغام حج دے کر بلایا تھا لہذا ہم آپ کی دعوت پر لبیک کہنے کے لئے آئے ہیں اس کا مطلب یہ ہے کہ ہماری نظر میں اللہ کا فرستادہ اور رسول ہمیشہ عزت و احترام کے لائق ہے چاہے وہ بقید حیات ہو یا اپنا فریضہ ادا کرکے اپنے رب کی بارگاہ میں لوٹ چکا ہو اور ہم ان لوگوں میں سے نہیں ہیں کہ جن کا نبی انہیں بلارہا تھا وہ منھ موڑ کر دوڑے جارہے تھے۔
5۔حج کا لباس(احرام) انسان کی زندگی میں سادگی کی نشانی ہے اور یہ لباس انسان کی توجہ کو اس امر کی جانب مرکوز کردیتا ہے کہ اگر اللہ تعالٰی لاکھوں کے مجمع میں بھی ہم سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ ہم ایک چادر اور لنگی میں  اپنی دولت و شہرت اور دنیاوی حیثیت و مقام کو بالائے طاق رکھ کر حاضر ہوجائیں تو ہم تعمیل حکم  کے لئے کھڑے ہیں اور اسی جذبہ کو پروان چڑھانا بندگی ہے اور اسی کا نام حج ہے۔
6۔حالت احرام میں جن چیزوں کو حرام اور منع کیا گیا ہے ان سے دوری اس بات کی علامت ہے کہ اس انسان(حاجی) نے اللہ کے حکم پر عمل کرکے اپنے نفس کو اس طرح پاک بنا لیا ہے کہ اب اسے کسی چیز کی پراہ نہیں رہی۔ اب وہ خوشبو پر اپنی ناک بھی بند کرسکتا ہے اور بدبو کو برداشت بھی کرسکتا ہے۔ وہ اب انسان تو انسان جانور اور حشرات الارض کو بھی اذیت نہیں پہونچائے گا غرض وہ ہر طرح کی زینت و آرائش سے دور اور ہر سختی اٹھانے کے لئے اپنے کو تیار کررہا ہے اور یہی حج کی معراج ہے کہ انسان اللہ کے حکم کا لحاظ کرتے ہوئے خود کو ہر طرح کے دنیاوی معاملات سے دور کرلے اس طرح کہ اب اس کے سامنے حکم خدا اور اس کی مرضی کے حصول کے علاوہ ہر چیز بے قیمت و اہمیت بن جائے۔
7۔اللہ کے گھر کا طواف زندگی کے مرکز اور محور کی طرف اشارہ ہے کہ انسان کی زندگی اور خاص طور پر ایک مسلمان کی زندگی اس گھر کے مالک کے محور پر گردش کررہی ہے اور اس کی زندگی کا کوئی دوسرا محور نہیں ہے۔ وہ اس گھر کا طواف کرکے خود کو دنیا کی دوسری چیزوں کے چکر کاٹنے سے محفوظ کرلیتا ہے اور پھر اللہ کے حضور سجدہ ریز ہوکر دنیا کی ہر بلندی اور کامیابی کو حاصل کرلیتا ہے۔
8۔حجر اسود کو چومنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جنت کی چیزیں احترام کے لائق ہوتی ہیں ان کا احترام کرنا چاہیئے چاہے وہ پتھر ہو یا کوئی انسان!
9۔مقام ابراہیم،حضرت ابراہیم علیہ السلام  کی زحمات کی یادگار ہے کہ آپ نے کس طرح اللہ کے گھر کو تعمیر کیا اور اس مقدس عمارت کو مکمل فرمایا۔چنانچہ اس مقام کو اللہ کی عبادت کرنے کی جگہ قرار دیا گیا تاکہ حج پر آنے والوں کے سامنے وہ خلوص کا مرکز رہے جو آج تک آواز دے رہا ہے کہ اللہ کی راہ میں کام کرنے والے دنیا کی چیزوں کے محتاج نہیں ہوتے اور وہ جب کوئی خدمت کرتے ہیں تو اللہ اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے باقی رکھتا ہے ۔
10۔صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا حضرت ہاجرہ کی یادگار ہے جو درحقیت مرد اور عورت کے درمیان ہر امتیاز کی نفی کی علامت ہے یعنی جو بھی اللہ کی راہ میں کوئی خدمت سرانجام دے اللہ اس کے عمل اور یاد کو باقی رکھتا ہے چاہے وہ مرد ہو یا عورت۔
11۔عرفات اور مزدلفہ کے میدان میں جمع ہونا اللہ کی راہ میں اپنے وطن اور آبادی کو چھوڑ دینے کے جذبہ کو پیدا کرتا ہے اور مزدلفہ سے کنکریوں کو جمع کرنا اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان جہاں رہے اور جس حال میں بھی رہے دشمن سے کبھی غافل نہ ہو اور اس سے مقابلے کے لئے ہمیشہ اور ہر طرح تیار رہے۔
12۔قربانی انسان کی زندگی میں وہ جذبہ پیدا کرتی ہے جس سے انسان اللہ کی راہ میں اپنے سر کے خوبصورت بال بھی کاٹ سکتا ہے اور اپنا قیمتی جانور بھی۔ غرض! اللہ کے حکم کے سامنے کسی بھی چیز کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 18