Tuesday - 2018 August 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194876
Published : 7/8/2018 15:50

فکر قرآنی:

حضرت آدم(ع) کا ماجرا اور اُس جہان پر ایک طائرانہ نظر

اس حسی و عینی واقعہ میں انسان کی آئندہ زندگی کے متعلق بھی اشارے ہوسکتے ہیں۔یعنی انسان کی اس پُر جنجال زندگی میں بہت ایسے واقعات ہیں جو قصہ آدم علیہ السلام و حوا سلام اللہ علیہا سے مشابہت رکھتے ہیں ، اس کی مثال یوں سمجھنا چاہیئے کہ ایک طرف تو وہ انسان ہے جو قوت ، عقل اور ہوا و ہوس سے مرکب ہے، یہ دونوں طاقتیں اسے مختلف جہتوں میں کھینچ رہی ہیں ، دوسری طرف کچھ ایسے جھوٹے رہبر ہیں جن کا ماضی شیطان کی طرح جانا پہچانا ہے اور وہ انسان کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ عقل پر پردہ ڈال کر ہوا و ہوس کو اختیار کرلو تاکہ یہ بے چارہ انسان پانی کی امید میں ’’سراب‘‘ کو آب سمجھ کر ریگستانوں میں بھٹک کر اپنی جان گنوا بیٹھے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے اپنے گذشتہ کالم میں یہ عرض کیا تھا جیسا کہ بہت مفسرین نے نقل کیا اور طرق اہل بیت علیہم السلام سے منقول بہت سی روایات میں جس چیز کا تذکرہ ملتا ہے کہ  وہ کلمات جو اللہ نے حضرت آدم علیہ السلام کو تعلیم کئے تھے ان  سے مراد خدا کی بہترین مخلوق کے ناموں کی تعلیم تھی یعنی محمد علی، فاطمہ حسن حسین علیہم السلام اور آدم نے ان کلمات کے وسیلے سے درگاہ الہی سے بخشش چاہی اور خدا نے انہیں بخش دیا۔چنانچہ ہمارے گذشتہ کالم کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
آدم (ع) کی توبہ کن ہستیوں کے طفیل قبول ہوئی؟

گذشتہ سے پیوستہ: اگرچہ بعض مفسرین نے جو افکار غرب سے بہت زیادہ متأثر ہیں، اس بات کی کوشش کی ہے کہ حضرت آدم علیہ السلام اور ان کی زوجہ کی داستان کو اول سے لے کر آخر تک تشبیہ، مجاز اور کنایہ کا رنگ دیں اور آج کی اصطلاح میں یوں کہیں  کہ یہ ایک سمبولک(SIMBOLIC) ماجرا و واقعہ تھا لہذا انہوں نے اس پوری بحث کو ظاہری مفہوم کے خلاف لیتے ہوئے معنوی کنایہ مراد لیا ہے۔
لیکن اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں کہ ان آیات کا ظاہر ایک ایسے واقعی اور حقیقی قصہ پر مشتمل ہے جو ہمارے اولین ماں، باپ کے لئے پیش آیا تھا چونکہ اس پوری داستان میں ایک مقام بھی ایسا نہیں ہے جو ظاہری عبارت سے میل نہ کھاتا ہو یا عقل کے خلاف ہو، اس لئے اس بات کی کوئی ضرورت نہیں کہ اس کے ظاہری مفہوم پر یقین نہ کیا جائے یا جو اس کے حقیقی معنٰی ہیں ان سے پہلو تہی کی جائے۔
لیکن در این حال اس حسی و عینی واقعہ میں انسان کی آئندہ زندگی کے متعلق بھی اشارے ہوسکتے ہیں۔یعنی انسان کی اس پُر جنجال زندگی میں بہت ایسے واقعات ہیں جو قصہ آدم علیہ السلام و حوا سلام اللہ علیہا سے مشابہت رکھتے ہیں ، اس کی مثال یوں سمجھنا چاہیئے کہ ایک طرف تو وہ انسان ہے جو قوت ، عقل اور ہوا و ہوس سے مرکب ہے، یہ دونوں طاقتیں اسے مختلف جہتوں میں کھینچ رہی ہیں ، دوسری طرف کچھ ایسے جھوٹے رہبر ہیں جن کا ماضی شیطان کی طرح جانا پہچانا ہے اور وہ انسان کو اس بات پر اکسا رہے ہیں کہ عقل پر پردہ ڈال کر ہوا و ہوس کو اختیار کرلو تاکہ یہ بے چارہ انسان پانی کی امید میں ’’سراب‘‘ کو آب سمجھ کر ریگستانوں میں بھٹک کر اپنی جان گنوا بیٹھے۔
ایسے شیطانوں کے بہکاوے میں آجانے کا پہلا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان کے جسم سے ’’لباس تقوٰی‘‘ گرجاتا ہے اور اس کے اندرونی عیوب ظاہر و آشکارا ہوجاتے ہیں، دوسرا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مقام قرب الہی سے دور ہوجاتا ہے اور انسان اپنے بلند مقام سے گرجاتا ہے اور سکون و اطمینان کی بہشت سے نکل کر حیات مادی کی مشکلات و آفات کے جنگلوں میں گھر جاتا ہے اس موقع پر بھی عقل کی طاقت اس کی مدد کرسکتی ہے اور اسے نقصان کی تلافی کا موقع فراہم کرسکتی ہے اور اسے خدا کی بارگاہ میں دوبارہ بھیج سکتی ہے تاکہ جرأت و صراحت کے ساتھ اپنے گناہ کا اعتراف کرے ، ایسا اعتراف جو اس کی زندگی کی تعمیر نو کا ضامن ہو اور اس کی زندگی کا ایک نیا موڑ بن جائے ، یہی وہ موقع ہوتا ہے جب کہ دست رحمت الہی بار دیگر اس کی طرف دراز ہوتا ہے تاکہ اسے ہمیشہ کے انحطاط اور تنزل سے نجات دے اگرچہ اپنے گذشتہ گناہ کا تلخ مزہ اس کے کام و دہن میں باقی رہ جاتا ہے جو اس کا اثر وضعی ہے لیکن یہ ماجرا اس کے لئے عبرت بن جاتا ہے کیونکہ وہ اس کے شکست کے تجربہ سے اپنی حیات ثانیہ کی بنیاد مستحکم کرسکتا ہے اور اس کے نقصان و زیان کے ذریعہ اسے آئندہ کی خوشی میسر ہوسکتی ہے۔



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 August 14