Tuesday - 2018 August 14
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194877
Published : 7/8/2018 15:53

مولانا ظفر مہدی صاحب جرولی

مولانا ظفر مہدی صاحب کو طب سے شغف تھا اور افاصل سے سندیں لی تھیں۔مطلب بھی کرتے تھے ،اثیم تخلص سے مرثیہ بھی کہتے تھے،مرزا دبیر سے تلمذ تھا، تاریخ و سیرت و اخلاق پر متعدد کتابیں لکھی تھیں جن کے مسودے کتب خانہ ناصر الملۃ لکھنؤ میں محفوظ ہیں۔کتابوں کی اشاعت کے لئے جرول ہی میں ایک پریس لگایا تھا جس سے بڑی نفیس کتابیں شائع کرکے بلا قیمت بانٹتے تھے۔

ولایت پورٹل:مولانا سید ظفر مہدی کاظمی سادات اور جرول ضلع بارہ بنکی یوپی سے تعلق رکھتے تھے ، علی نگر آپ کے اجداد کی جاگیر میں تھا۔مولانا موصوف ۱۰ رجب سن ۱۲۳۹ھ مطابق ۱۲ مارچ ۱۸۲۴ء کو پیدا ہوئے اور تاریخی نام ظفر مہدی رکھا گیا۔ وطن میں تعلیم و تربیت کے بعد لکھنؤ گئے اور مدرسہ سلطانیہ میں علوم دینیہ کی تکمیل کی۔مولانا مفتی محمد علی اور مولانا محمد حسین جائسی اور سلطان العلماء سید محمد صاحب سے درس لیا۔اجازے حاصل کئے اور فقہ و عقائد و حدیث و تفسیر میں سند تکمیل پائی۔
سنسکرت کے لئے ماہر فلکیات پنڈت ملازم رکھے اور ہندو جوتش میں مہارت تامہ حاصل کی، موصوف نے حضرت رسالتمآب(ص) اور آئمہ اثنا عشر(ع) کے زائچہ ہاے ولادت بنائے تھے اور عربی و ہندی اصول تقویم و زائچہ پر تحقیق کی تھی ، ان زائچوں میں سے زائچہ ولادت سرور دوعالم(ص) روض الصادقین میں قابل ملاحظہ ہے۔
طب سے شغف تھا اور افاصل سے سندیں لی تھیں۔مطلب بھی کرتے تھے ،اثیم تخلص سے مرثیہ بھی کہتے تھے،مرزا دبیر سے تلمذ تھا، تاریخ و سیرت و اخلاق پر متعدد کتابیں لکھی تھیں جن کے مسودے کتب خانہ ناصر الملۃ لکھنؤ میں محفوظ ہیں۔کتابوں کی اشاعت کے لئے جرول ہی میں ایک پریس لگایا تھا جس سے بڑی نفیس کتابیں شائع کرکے بلا قیمت بانٹتے تھے۔
وفات
مولانا موصوف نے ۱۷ صفر المظفر سن ۱۳۲۰ ھ مطابق مئی ۱۹۰۲ء میں رحلت کی۔
قلمی آثار
۱۔نخبۃ الاخبار(حدیث)
۲۔روض الصادقین(۷ جلدیں)
۳۔تاریخ آئمہ(ع)
۴۔تہذیب الخصائل(اخلاق)
۵۔معیار المحبۃ
۶۔عقائد حیدریہ
۷۔ھدأیث الانشاء
۸۔موتیوں کا ہار
۹۔جواہر منتشرہ(قطعات تاریخ)
۱۰۔اشک مسلسل(منظوم واقعہ کربلا)




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 August 14