Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194895
Published : 11/8/2018 15:11

مامون کا اعتراف کہ اہل بیت(ع) عام مخلوق نہیں ہیں

مامون نے اپنے قبیلے والوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا:آگاہ ہوجائو کیا تم نہیں جانتے کہ اہل بیت(ع)عام مخلوق نہیں ہیں ؟رسول اللہ(ص) نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی بچپن میں ہی بیعت کی ہے اور ان دونوں بچوں کے علاوہ کسی اور کی بیعت نہیں کی ہے، کیا تمھیں نہیں معلوم کہ حضرت علی(ع) نو سال کے سن میں رسول اللہ(ص) پر ایمان لائے اور اللہ و رسول(ص) نے ان کا ایمان قبول کیا اور ان کے علاوہ کسی اور بچہ کا ایمان قبول نہیں کیا ۔

ولایت پورٹل:مامون نے امام محمد تقی علیہ السلام سے اس مسئلہ کی وضاحت طلب کی جو آپ نے یحییٰ بن اکثم سے پوچھا تھا تو آپ نے یوں وضاحت فرمائی :’’اگر حالت ِ احرام میں حدود حرم سے باہر شکارکیا ہے اور شکار پرندہ ہے اور بڑا بھی ہے تو اس کا کفارہ ایک بکری ہے ،اگر یہی شکار حدود حرم کے اندر ہوا ہے تو کفارہ دُوگنا (یعنی دو بکریاں ) اگر پرندہ چھوٹا تھا تو دنبہ کا وہ بچہ جو ماں کا دودھ چھوڑ چکا ہو کفارہ کے طور پر دے،اگر یہ شکار حرم میں ہوا ہے تو اُس پرندہ کی قیمت اور ایک دنبہ کفارہ دے ،اگر شکار وحشی گدھا ہے تو کفارہ ایک گائے ہے اوراگر شکار شتر مُرغ ہے تو کفارہ ایک اونٹ ہے اور اگرشکاری کفارہ دینے پر قادر نہیں ہے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور اگر اس پر بھی قادر نہیں ہے تو اٹھارہ دن روزے رکھے، اگر اس نے گائے کا شکار کیا ہے تو اس کا کفارہ بھی ایک گائے ہے اور اگر اس کفارہ کو دینے پر قادر نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے اور اگر اس پر بھی قادر نہ ہو تو نو دن کے روزے رکھے ،اگر شکار ہرن ہے تو اس کا کفارہ ایک بکری ہے اور اگر وہ اس کفارہ کو دینے پر قادر نہ ہو تو دس مسکینوں کو کھانا کھلائے اور اگر یہ بھی نہ دے سکے تو تین دن کے روزے رکھے ،یہ شکار اگر حدود حرم میں ہوا ہے تو کفارہ دوگُنا ہوگا :{ھَدْیاًبَالِغَ الْکَعْبَۃِ}اگر احرام حج کا ہے تو قربانی منیٰ میں کرے گا جس طرح دوسرے حاجی کرتے ہیں اور اگر احرام عمرہ کا ہے تو کفارات کو خانۂ کعبہ تک پہنچانا ہوگا اور قربانی مکہ میں ہوگی ،اور بکری کی قیمت کے مانند صدقہ دینا ہوگا۔
اگر اس نے حرم کے کسی کبوتر کا شکار کیا ہے تو وہ ایک درہم صدقہ دے گا اور ایک درہم سے حرم کے کبوتروں کے لئے دانہ خریدے گا ،بچہ کا شکار کرے تو آدھا درہم صدقہ دے گا اور اگر بیضہ(انڈا) توڑدے تو ایک چوتھائی درہم صدقہ دے گا ،محرم کو ہر حال میں کفارہ ادا کرنا ہوگا چاہے وہ جان بوجھ کر شکار کرے یا بھول کر شکار کرے ،چاہے وہ اس مسئلہ سے واقف ہو یا ناواقف ،غلام کا کفارہ مالک کو ادا کرنا ہوگا چونکہ غلام خود بھی مالک کی ایک ملکیت ہی شمار ہوتا ہے ،اگر حالت احرام میں شکار کا پیچھا کرے اور شکار مرجائے تو اس کو فدیہ دینا ہوگا ،اگر اپنے اس فعل پر اصرار کرے گا تو اُس پر آخرت میں بھی عذاب ہوگا اور اگر اپنے اس فعل پر پشیمان و شرمندہ ہوگا تو وہ آخرت کے عذاب سے بچ جائے گا ،اگر وہ رات میں غلطی سے اس کا گھونسلا خراب کردے تو اُس کو کچھ نہیں دینا ہوگا جب تک کہ وہ شکار نہ کرے ،اگر وہ رات یا دن میں اس کا شکار کرلے تو فدیہ دینا ہوگا ،اور اگر احرام حج کا ہے تو فدیہ کو مکہ پہنچانا ہوگا ...‘‘۔
مامون ایمان لے آیاکہ ائمۂ اہل بیت(ع) کا اسلام میں بہت ہی بلند و بالا مقام ہے اور اُن کے چھوٹے بڑے فضیلت میں برابر ہیں ۔
مامون نے اس مسئلہ کو لکھنے کا حکم دیا اس کے بعد عباسیوں سے مخاطب ہو کر یوں گو یا ہوا: کیا تم میں کوئی اس مسئلہ کا جواب دے سکتا ہے ؟
نہیں ،خدا کی قسم قاضی بھی اس کا جواب نہیں دے سکتا ۔
اے امیر المو منین! آپ بہترجانتے ہیں ...
آگاہ ہوجائو کیا تم نہیں جانتے کہ اہل بیت(ع)عام مخلوق نہیں ہیں ؟رسول اللہ(ص) نے امام حسن اور امام حسین علیہما السلام کی بچپن میں ہی بیعت کی ہے اور ان دونوں بچوں کے علاوہ کسی اور کی بیعت نہیں کی ہے، کیا تمھیں نہیں معلوم کہ حضرت علی(ع) نو سال کے سن میں رسول اللہ(ص) پر ایمان لائے اور اللہ و رسول(ص) نے ان کا ایمان قبول کیا اور ان کے علاوہ کسی اور بچہ کا ایمان قبول نہیں کیا ؟ نہ ہی رسول اللہ(ص) نے آپ(ع) کے علاوہ کسی اور بچہ کو دعوت تبلیغ دی اور کیا تمھیں نہیں معلوم کہ اس ذریت میں جو حکم پہلے پر نافذ ہوگا وہی حکم آخری پر نافذ ہوگا۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19