Sunday - 2018 Dec 16
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194896
Published : 11/8/2018 16:3

تاریخ اسلام کا ایک ورق:

پیمان صلح حدیبیہ اور رسولخدا(ص) کی پیشین گوئی

صلح نامہ لکھتے وقت رسول خدا(ص) نے کچھ مصلحتوں کے پیش نظر جو اس عہدوپیمان میں پائی جاتی تھیں ،مجبور ہوکر موافقت کی اور علی(ع) رسول اللہ کا عنوان مٹانے سے کنارہ کش ہوگئے تو آپ نے فرمایا:’’ایسے حالات تمہارے لئے بھی پیش آئیں گے اور مجبور ہوکر تمہیں بھی ماننا پڑے گا اور یہ پیشین گوئی جنگ صفین میں مسئلۂ حکمیت کے موقع پر معاویہ کے اصرار پر علی (ع) کے نام کے آخر سے’’امیر المؤمنین کا عنوان ‘‘مٹانے پر،پوری ہوئی۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ ذیقعدہ سن ۶ ہجری میں پیغمبر اسلام(ص) نے قصد کیا کہ«عمرہ» کرنے کے لئے مکہ جائیں،ہجرت کے بعد سے اس دن تک مسلمان حج و عمرہ نہیں کرپائے تھے یہی وہ موقع تھا کہ جب قریش نے اللہ کے رسول کو مکہ میں داخل ہونے سے منع کردیا اور صلح کی پیش کش کی جس کے لئے آپ نے عثمان بن عفان کو اہل مکہ کے پاس بھیجا تاکہ وہ اس بارے میں کچھ بات کریں۔قارئین اس کی تفصیل پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
گذشتہ سے پیوستہ: غرض! عثمان سے کوئی بات نہ بنی اور ان  کے بے نتیجہ پلٹنے کے بعد آخر کار سہیل بن عمرو قریش کا نمائندہ بن کر پیغمبر اکرم(ص) کے پاس آیا اور آنحضرت(ص) سے مذاکرات کئے اور کہا کہ قریش کی طرف سے ہر طرح کی بات چیت کے لئے پہلی شرط یہ ہے کہ اس سال مسلمان عمرہ نہ کریں۔(۱)
اس گفتگو کے ذریعہ جو عہدوپیمان کیاگیا وہ’’صلح حدیبیہ ‘‘ کے نام سے مشہور ہوا،جس کی شرطیں یہ تھیں:
۱۔قریش اور مسلمان اس بات کا عہد کریں کہ دس سال تک ایک دوسرے سے جنگ نہیں کریں گے اور اجتماعی امن و امان برقرار رکھیں گے۔
۲۔محمد(ص) اور تمام مسلمان اس سال مکہ میں داخل نہیں ہوں گے لیکن آئندہ سال قریش اسی موقع پر مکہ سے باہر چلے جائیں گے اور مسلمان تین دن مکہ میں رہ کر عمرہ کریںگے اور مسافر جتنا ہتھیار لے کر چل سکتاہے اس سے زیادہ وہ اپنے ساتھ ہتھیار نہیں رکھیں گے۔(۲)
۳۔اگر قریش کا کوئی آدمی اپنے سر پرست کی اجازت کے بغیر محمد(ص) کے پاس چلا جائے تو اس کو مکہ واپس کیا جائے اور اگر محمد(ص) کے ساتھیوں میں سے کوئی قریش کے پاس آجائے تو قریش اس کوواپس نہیں کریں گے۔
۴۔ہرقبیلہ آزاد ہے چاہے وہ محمد(ص) کے ساتھ عہدوپیمان کرے یا قریش کے ساتھ(اس مقام پر قبیلۂ خزاعہ نے مسلمانوں کے ساتھ عہدوپیمان کا اعلان کیا اور بنوبکرنے قریش کے ساتھ عہدوپیمان کا اعلان کیا)۔
۵۔مسلمان اور قریش دونوں ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہیں کریں گے اور ان کے دشمن کا ساتھ نہیں دیں گے اور دشمنی کا اظہار نہیں کریںگے۔(۳)
۶۔مکہ میں اسلام کی پیروی آزاد رہے گی اور کسی بھی شخص کو ایک خاص دین کی پیروی کی خاطر اذیت نہیں دی جائے گی اوراس کی مذمت نہیں کی جائے گی۔(۴)
۷۔اصحاب محمد(ص) میں سے جو شخص حج یا عمرہ یا تجارت کے لئے مکہ جائے اس کی جان و مال امان میں رہے گی اور قریش میں سے جو شخص مصر یا شام جانے کے لئے مدینہ کے راستہ سے گزرے گا اس کی جان و مال امان میں رہے گی۔(۵)
پیغمبر اکرم(ص)کی پیشین گوئی
پیمان صلح کے اصول پر موافقت کے بعد، جس وقت پیغمبر اکرم(ص) کے کہنے پر علی مرتضٰی(ع) نے صلح نامہ کا مضمون لکھا تو نمائندۂ قریش نے صلح نامہ کے اوپر،بسم اللہ الرحمن الر حیم،اور نام محمد کے بعد ’’رسول اللہ‘‘ لکھنے کی مخالفت کی اور اس موضوع پر گفتگو کافی طولانی ہوگئی اور آخر کار رسول خدا نے کچھ مصلحتوں کے پیش نظر جو اس عہدوپیمان میں پائی جاتی تھیں ،مجبور ہوکر موافقت کی اور علی(ع) رسول اللہ کا عنوان مٹانے سے کنارہ کش ہوگئے تو آپ نے فرمایا:’’ایسے حالات تمہارے لئے بھی پیش آئیں گے اور مجبور ہوکر تمہیں بھی ماننا پڑے گا۔(۶)  اور یہ پیشین گوئی جنگ صفین میں مسئلۂ حکمیت کے موقع پر معاویہ کے اصرار پر علی (ع) کے نام کے آخر سے’’امیر المؤمنین کا عنوان ‘‘مٹانے پر،پوری ہوئی۔(۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔طبری،ایضاً،۷۸،ابن ہشام ،ایضاً،۳۳۱۔
۲۔ اس شرط کی رو سے ،پیغمبر اسلاؐم اور مسلمانوں نے ۷ ھ ؁میں عمرہ انجام دیا جس کو’’عمرۃ القضاء‘‘ کہاگیا ہے۔
۳۔پیمان کی اس شرط کا عربی متن یہ ہے:’’لااسلال ولا اغلال و ان بیننا و بینھم عیبۃ مکفوفۃ‘‘ اسلال کے معنی خفیہ چوری اور کسی کی حمایت ومدد کرنا اور نیز رات کو حملہ کرنے کے معنی میں ہے۔(ابن اثیر ، النہایۃ فی غریب الحدیث والا ثر،ج۲ص۳۹۲،مادہ ٔسل) قرائن کے حساب سے یہاں دوسرے معنی مراد ہیں (احمد میانجی ،مکاتیب الرسول ،ج۱،ص۲۷۷) اسی وجہ سے(بعض معاصر مورخین کے برخلاف) ہم نے اس کا ترجمہ چوری نہیں کیا ہے۔
۴۔طبرسی،ایضاً،ص۹۷،بلاذری ،ایضاً،ص۳۵۱۔۳۵۰،اور رجوع کریں:طبقات الکبریٰ ، ج۲،ص۹۷،۱۰۱ ۱۰۲۔
۵۔طبرسی،اعلام الوریٰ،ص۹۷،حلبی،السیرۃالحلبیہ،ج۲،ص۷۷،مجلسی،بحارالانوار،ج۲۰،ص۳۵۰اور ۳۵۲۔
۶۔ طبرسی،مجمع البیان ،ج۹،ص۱۱۸،مجلسی،ایضاً،ج۲۰،ص۳۵۰۔۳۳۴،صلح حدیبیہ کے سلسلہ میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لئے رجوع کریں:مکاتیب الرسول ،علی احمد میانجی،ج۱،ص۲۷۵ اور۲۸۷،کتاب وثائق، تالیف محمد حمید اللہ ،ترجمہ:محمود مہدوی دامغانی(تہران:ط ونشر بنیاد، ط۱، ۱۳۶۵) ص۶۶ و۶۸۔
۷۔ نصر بن مزاحم ،ایضاً،ص۵۰۹۔۵۰۸،طبرسی،ایضاً،ص۹۷، ابن واضح ،تاریخ یعقوبی ،(نجف :المکتبۃ الحیدریہ،۱۳۸۴ھ۔ق)ج۲،ص۱۷۹:ابو حنیفہ دینوری ،الاخبار الطوال،تحقیق :عدالمنعم عامر (قاہرہ: داراحیاء الکتب العربیہ ،۱۹۶۰)ص۱۹۴،ابن اثیر ،الکامل فی التاریخ (بیروت:دارصادر) ج۳، ص۳۲، حلبی،ایضاً، ص۷۰۸۔







آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Dec 16