Wed - 2018 Oct. 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194897
Published : 11/8/2018 17:3

۲۸ ذیقعدہ شیخ کے یوم وفات کے موقع پر:

مجدد علم اصول آقا ضیاء الدین عراقی

جب بھی علم اصول کی ظرافتوں اور باریکیوں کا تذکرہ ہوتا ہے ناگہاں اس مرد خدا اور میدان علم کے شہسوار کا نام ذہن میں خطور کرتا ہے جسے اہل علم و فضل آقا ضیاء الدین عراقی کے نام سے پہچانتے ہیں۔آفتاب فقاہت آقا ضیاء الدین عراقی کا شمار اپنے زمانہ کے ان برجستہ علماء میں ہوتا ہے جس کے سامنے ایسے عظیم المرتبت شاگردوں نے زانوئے تلمذ تہہ کئے جن کے نام رہتی دنیا تک آسمان حوزہ پر آفتاب عالمتاب کی طرح چمکتے رہیں گے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! جب بھی علم اصول کی ظرافتوں اور باریکیوں کا تذکرہ ہوتا ہے ناگہاں اس مرد خدا اور میدان علم کے شہسوار کا نام ذہن میں خطور کرتا ہے جسے اہل علم و فضل آقا ضیاء الدین عراقی کے نام سے پہچانتے ہیں۔
آفتاب فقاہت آقا ضیاء الدین عراقی کا شمار اپنے زمانہ کے ان برجستہ علماء میں ہوتا ہے جس کے سامنے ایسے عظیم المرتبت شاگردوں نے زانوئے تلمذ تہہ کئے جن کے نام رہتی دنیا تک آسمان حوزہ پر آفتاب عالمتاب کی طرح چمکتے رہیں گے۔
آیت اللہ العظمٰی آقا ضیاء الدین عراقی سن 1278 ہجری کو ایران کے مشہور شہر اراک میں پیدا ہوئے آپ بچپن ہی سے بہت ہوشیار اور نکتہ سنج تھے آپ نے اپنا بچپن اپنے والد ماجد ملا محمد کبیر سلطان آبادی کے زیر سایہ گذارا کہ جو خود اپنے زمانہ کے مشہور عالم و فقیہ تھے اور تقویٰ و پاکیزگی میں ایک مقام رکھتے تھے۔
مرحوم آیت اللہ العظمیٰ محمد علی اراکی(قدس سرہ) آقا ضیاء الدین عراقی کے سلسلہ میں فرماتے ہیں کہ:آیت اللہ ضیاء الدین عراقی کے والد ماجد نے جب 80 برس کے سن میں وفات پائی تو اس وقت آپ کی عمر 12 برس کی تھی۔ اصفہان کے ایک باحیثیت شخص الحاج صمصام الملکی کہ جس کے ملا سلطان آبادی کے ساتھ گہرے روابط تھے اور جو کبھی ان کے درس اخلاق میں شرکت بھی کرتے تھے ایک عرصہ کے بعد وہ آقا ضیاء کے گھر آئے اور ان سے کوئی علمی مسئلہ دریافت کیا لیکن آقای ضیاء الدین اس کا جواب نہ دے سکے اس تاجر نے ایک جملہ کہا: میں نے تو سوچا تھا کہ آغا کا بیٹا ان کی جگہ لے لیگا لیکن ایسا لگتا ہے کہ اب تو یہ در علم ہمیشہ کے لئے بند ہوچکا ہے۔
بس یہ جملہ سننا تھا کہ آقا ضیاء الدین عراقی اصفہان چلے گئے اور محنت و لگن کے ساتھ علم حاصل کرنا شروع کردیا 6 سال بڑی لگن سے اصفہان میں پڑھا اور اس کے بعد باب مدینۃ العلم کے جوار کے راہی ہوئے۔
چنانچہ اس واقعہ کی حکایت کرتے ہوئے خود آقا ضیاء الدین فرماتے ہیں: الحاج صمصام الملکی کا یہ جملہ میرے لئے ایسا تھا جیسے میرے سر پر کسی نے کھولتے ہوئے پانی گھڑا گرا دیا ہو۔
آقا ضیاء الدین عراقی اپنے استاد مرحوم آخوند خراسانی کے بعد نجف اشرف میں سب سے نابغہ استاد تھے۔ آپ نے تقریباً 30 برس تک نجف اشرف کی علمی فضا میں سینکڑوں شاگردوں کی تربیت فرمائی کہ جو خود اپنے آپ میں علم کے ٹھاٹے مارتے ہوئے سمندر تھے۔
آپ ویسے تو بہت سے علوم میں ماہر تھے لیکن علمی حلقے میں آپ کو علم اصول فقہ کے مجدد کے طور پر پہچانا جاتا ہے اور  ہمارے زمانے میں جب بھی کسی اصولی نظریہ کی وضاحت و تفسیر کی بات آتی ہے تو ممکن ہی نہیں کہ آقا ضیاء الدین عراقی کا نظریہ پیش نہ کیا جائے چنانچہ آپ نے شرح التبصره، حاشیه کفآیة الاصول،حاشیه المکاسب، حاشیة العروة الوثقی، حجیة القطع وغیرہ کتابیں تحریر فرمائیں۔
اساتید
آقا ضیاء الدین عراقی نے جن بزرگوں سے استفادہ اور کسب فیض کیا ان میں کچھ کے اسماء مندرجہ ذیل ہیں:
آخوند ملا محمد کاشی، جهانگیرخان قشقائی، میرزا حبیب اللّه رشتی، آخوند خراسانی، سید محمد کاظم یزدی وغیرہ بہت مشہور ہیں۔
شاگرد
حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید محسن حکیم، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید محمد تقی خوانساری، حضرت آیت اللہ العظمیٰ  سید ابوالقاسم خویی، حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید شهاب الدین مرعشی نجفی، حضرت آیت اللہ العظمیٰ شیخ محمد تقی بهجت وغیرہ۔
وفات
آقا ضیاء الدین عراقی نے 28 ذیقعدہ سن 1361 ہجری کو 83 برس کی عمر میں وفات پائی جب حوزہ علمیہ نجف اشرف میں خبر وفات پھیلی تو پورے حوزے پر غم کے بادل چھاگئے اور 3 دن تک عام سوگ کا اعلان کیا گیا اور آپ کا جنازہ بڑی شان سے اٹھا اور آپ کو صحن حرم امیر المؤمنین(ع) میں دفن کیا گیا۔

سلام علیہ یوم وُلد و یوم مات و یوم یُبعثُ حیاً




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 24