Monday - 2018 Oct. 22
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194912
Published : 12/8/2018 15:27

فکر قرآنی:

امت کی موت کے اسباب؟

زندگی اور موت صرف انسان سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ اقوام،جماعتیں،امتیں اور معاشرے بھی کبھی زندہ ہوتے ہیں اور انہیں زندہ کہا جاتا ہے اور کبھی مرجاتے ہیں انہیں مردہ کہا جاتا ہے۔اس فرق کے ساتھ کہ انسان کے اعضاء جب ضعیف ہوجاتے ہیں اور انہیں بیماری لاحق ہوجاتی ہے تو انسان مرجاتے ہیں جبکہ امتوں کی بیماری یا ضعف اکثر ان کا راہ حق و عدالت سے منحرف ہوجانے اور ظلم و ستم میں ملوث ہوجانے نیز دریائے شہوت و عیش و نوش میں مبتلاء ہوجانے میں ہے جس کے سبب معاشرے اور امتیں مرجایا کرتی ہیں۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! قرآن مجید میں بارہا موت و حیات کا تذکرہ ہوا ہے کہیں تخلیق کے بعض اسرار کی طرف اشارہ ہوا ہے تو کہیں راز بقا بتایا گیا ہے چنانچہ جہاں انسان کی موت و حیات کا تذکرہ ملتا ہے وہیں قرآن مجید میں امتوں،قوموں،افراد،معاشروں کی زندگی اور موت کے بارے میں بھی فرمان موجود ہے۔یعنی قرآن مجید نے واضح الفاظ میں بتادیا ہے کہ جس طرح فرد کی موت واقع ہوتی ہے اسی طرح امت بھی مرسکتی ہے ۔ارشاد پروردگار عالم ہورہا ہے:’’وَ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ فَإِذا جاءَ أَجَلُهُمْ لايَسْتَأْخِرُونَ ساعَةً وَ لا يَسْتَقْدِمُونَ‘‘۔(۱)
ترجمہ: ہر قوم کے لئے ایک وقت مقرّر ہے جب وہ وقت آجائے گا تو ایک گھڑی کے لئے نہ پیچھے ٹل سکتا ہے اور نہ آگے بڑھ سکتا ہے۔
لفظ امت کے معنیٰ گروہ،جماعت اور قوم کے ہیں اور مذکورہ آیت امت اور اس کے تمدن کی موت و حیات کے بارے میں اشارہ کررہی ہے ۔
چنانچہ اگر آیت میں تھوڑا غور و خوض کیا جائے تو امت کی موت سے مراد اس کی نابودی،عذاب،یا ان کی عزت اور شان و شوکت کا ختم ہوجانا ہے۔ لہذا دنیا کی تمام قومیں افراد کی طرح مرتی اور زندہ ہوتی ہیں۔ پس ہمارے سامنے زندہ مثالیں ان  امتوں کی ہے کہ جو روئے زمین سے ختم کردی گئیں اور ان کی جگہ دوسری قومیں آباد ہوگئیں لہذا اس سے معلوم ہوتا ہے زندگی اور موت صرف انسان سے ہی مخصوص نہیں ہے بلکہ اقوام،جماعتیں،امتیں اور معاشرے بھی کبھی زندہ ہوتے ہیں اور انہیں زندہ کہا جاتا ہے اور کبھی مرجاتے ہیں انہیں مردہ کہا جاتا ہے۔
اس فرق کے ساتھ  کہ انسان کے اعضاء جب ضعیف ہوجاتے ہیں اور انہیں بیماری لاحق ہوجاتی ہے تو انسان مرجاتے ہیں جبکہ امتوں کی بیماری یا ضعف اکثر ان کا راہ حق و عدالت سے منحرف ہوجانے اور ظلم و ستم میں ملوث ہوجانے نیز دریائے شہوت و عیش و نوش میں مبتلاء ہوجانے میں ہے جس کے سبب معاشرے اور امتیں مرجایا کرتی ہیں۔
اور جب امتیں منحرف اور ٹیڑھے راستوں پر چلنے لگے اور تخلیق کے مسلم قوانین میں خرد بُرد کرنے لگیں تو یکے بعد دیگرے وجود کا سرمایہ ان کے ہاتھوں سے نکل جاتا ہے اور وہ گڑھے میں گر جاتی ہیں۔ چنانچہ سابقہ اقوام اور ان کے تمدن کے کشف شدہ دفینوں کو اگر دیکھا جائے جیسا کہ بابل کی تہذیب،فراعنہ و مصر کا تمدن،قوم سبا،کدانیان،آشوریان،اندلس کے مسلمان،یا ان جیسی دیگر امتتیں۔ ان سب کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان سب کی نابودی کا فرمان اس وقت جاری ہوا جب وہ فسق و فجور اور فساد کے اوج پر اس طرح پہونچے کہ پھر ان سے اپنی تہذیب و تمدن کی بساط کو بچایا نہ جاسکا۔(۲)
سابقہ بیان کی روشنی میں ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ کوئی بھی معاشرہ عذاب،اور الہی عقاب کی گرفت میں آسکتا ہے اور اس کی شان و شوکت و حشمت کے فلک بوس محل زمیں بوس ہوسکتے ہیں اگرچہ دین اسلام ایک ہمیشہ رہنے والا اور جاوید دین ہے لیکن مسلمان معاشرہ بھی اس قانون سے مستثنٰی نہیں ہیں اور صرف ایک موقع وہ ہے کہ جب مسلمانون پر عذاب نہیں ہوسکتا کہ جب خود پیغمبر اکرم(ص) ان کے درمیان موجود ہوں یا خود امت استغفار اور توبہ کرکے الہی تعلیمات  کے طرف لوٹ جائیں چنانچہ اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:’’ وَ ما كانَ اللَّهُ لِيُعَذِّبَهُمْ وَ أَنْتَ فيهِمْ وَ ما كانَ اللَّهُ مُعَذِّبَهُمْ وَ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ‘‘۔(۳) حالانکہ اللہ ان پر اس وقت تک عذاب نہ کرے گا جب تک’’ پیغمبر‘‘ آپ ان کے درمیان ہیں۔ اور خدا ان پر عذاب کرنے والا نہیں ہے اگر یہ توبہ اور استغفار کرنے والے ہوجائیں۔ توجہ رہے! اس آیت میں عذاب سے مراد(ليعذبهم و انت فيهم ...) عام عذاب ہے اس طرح کہ جو پوری امت کو اپنی چپیٹ میں لے سکتا ہے۔
اس آیت کریمہ کا مفہوم زمانہ پیغمبر اکرم(ص) سے مخصوص نہیں ہے بلکہ اس آیت میں ایک عام قانون تمام بشریت کے لئے بیان کیا گیا ہے لہذا ایک معروف حدیث میں کہ جو شیعہ منابع میں حضرت علی علیہ السلام سے اور اہل سنت کی کتابوں میں آپ کے شاگرد ابن عباس سے نقل ہوئی ہے:’’ كان في الارض امانان من عذاب اللَّه و قد رفع احدهما فدونكم الآخر فتمسكوا به و قرأ هذه الاية‘‘۔(۴)
روئے زمین پر الہی عذاب سے بچانے اور محفوظ رکھنے کے دو وسیلے ہیں ان میں ایک خود پیغمبر اکرم(ص) کا وجود مبارک کہ جو ان کے درمیان اٹھ گیا لیکن ابھی دوسرا وسیلہ (یعنی استغفار)  ان کے درمیان موجود ہے وہ اس سے تمسک کریں اور پھر اس آیت کریمہ کی تلاوت فرمائی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔سورہ اعراف:34
2۔آيت الله مكارم شيرازي ، تفسير نمونه، تهران، دار الكتب الإسلامية ، 1374ش، ج‏6، ص: 157
3۔سورہ أنفال: 33
4۔طبرسي، فضل بن حسن، مجمع البيان في تفسير القرآن، تهران، انتشارات ناصر خسرو، 1372 ش، ج‏4، ص 829



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Oct. 22