Tuesday - 2018 Dec 18
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194913
Published : 12/8/2018 16:22

29ذیقعدہ 1439 ہجری پر خاص پیشکش:

امام جواد(ع) کا شیعوں سے رابطہ اور درپیش مشکلات کا حل

آج جو یہ قوم بڑی آسانی سے اپنے مراجع و فقہاء کے آگے تسلیم ہو جاتی ہے یہ سب کچھ ان محنتوں کا نتیجہ ہے جنہیں امام جواد علیہ السلام اور دیگر ائمہ طاہرین علیھم السلام میں اپنے دور میں وکالت کے سسٹم کو نافذ کر کے انجام دیا تھا۔ چنانچہ جب ہم آپکے وکالتی سسٹم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ امام جواد کی جانب سے (ع) نہ صرف آپکے نزدیکی علاقوں میں آپکے نمائندے تھے بلکہ بغداد، کوفہ، اہواز، بصرہ، ہمدان، قم، رے، سیستان اور بُست سمیت مختلف علاقوں میں مستقل نمائندے لوگوں کی ضرورتوں اور مسائل کو آپ تک منتقل کرکے آپکی جانب سے ہونے والی کاروائیوں کے نتائج اور مسائل کے جوابات کو لوگوں تک منتقل کر رتے تھے۔
ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہمارے اور آپ کے نویں امام حضرت محمد تقی علیہ السلام کا زمانہ بہت سخت اور جانفرسا تھا چونکہ آپ ہمہ وقت حکومت کے کارندوں کی نظروں میں رہتے تھے لیکن آپ نے اپنی مختصر سی زندگی میں  جہاں حکومت وقت کو موقع نہ دیا کہ وہ اپنی من مانی کر سکے وہیں خاص اہتمام اس بات کا بھی کیا کہ شیعوں کے مسائل کو زیادہ سے زیادہ حل کیا جائے۔اسکے لئے جو بھی اس دور کا ممکن وسیلہ تھا آپ نے استعمال کیا اگر  ضرورت پڑی تو شیعوں سے ملاقات کر کے انکے مسائل حل کئے، ضرورت پڑی تو حج کے دوران انکی مشکلات سنیں اور چارہ کار ڈھونڈ نکالا ، اور ضرورت پڑی تو مکاتبوں اور مراسلوں کو اپنے شیعوں سے جڑنے کا ذریعہ بنایا۔ تاریخ کہتی ہے کہ  آپ  نے ہمدان اور بست سمیت بہت سے شہروں میں اپنے کارگزاروں کے نام متعدد مراسلات لکھے اور بعض ایرانی شیعہ بھی مدینہ جاکر آپ(ع) سے ملے۔ یہ ملاقاتیں ان ملاقاتوں کے علاوہ تھیں جو ایام حج میں امام(ع) اور شیعیان اہل بیت(ع) کے درمیان انجام پاتی تھیں۔(۱) علاوہ ازیں    آپ نے دنیائے اسلام کے مختلف علاقوں میں وکیلوں کا ایسا  جال بچھادیا کہ  حکومت کی جانب سے لاکھ کوششوں کے بعد بھی  آپکا رابطہ شیعوں سے منقطع نہ ہوا با اینکہ آپ کی ہر نقل و حرکت پر حکومت کی   نظر تھی لیکن آپ ہر لحظہ و ہر گھڑی اپنے وکیلوں کے ذریعہ اپنے شیعوں سے رابطہ میں تھے البتہ آپ نے شیعوں سے براہ راست اس لئے رابطہ نہ رکھا کہ شیعہ حکومت کی نظر میں نہ آجائیں اور دوسری چیز جو اہم تھی وہ یہ کہ  آپ لوگوں کو غیبت امام زمانہ(عج) کے لئے تیار کررہے تھے چنانچہ یہ سلسلہ امام ہادی(ع) اور امام عسکری(ع) کے زمانے میں جاری رہا چنانچہ امام کاظم علیہ السلام کے دور سے وکالت کے جال کا جو سلسلہ شروع ہوا تو امام جواد و امام ہادی علیہ السلام سے ہوتا ہوا امام حسن عسکری علیہ السلام تک اس طرح پہنچا کہ اب غیبت امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے سلسلہ سے ایک بڑا نیٹ ورک بن چکا تھا اور ضروری تیاریاں ہو گئیں تھیں ایک امت کے ایک بڑے امتحان کے لئے ، آج جو یہ قوم بڑی آسانی سے اپنے مراجع و فقہاء کے آگے تسلیم ہو جاتی ہے یہ  سب کچھ ان محنتوں کا نتیجہ ہے  جنہیں  امام جواد علیہ السلام اور دیگر ائمہ طاہرین علیھم السلام میں اپنے دور میں وکالت کے سسٹم کو نافذ کر کے  انجام دیا تھا۔  چنانچہ جب ہم آپکے وکالتی سسٹم کو دیکھتے ہیں تو ہمیں نظر آتا ہے کہ امام جواد  کی جانب سے (ع)  نہ صرف آپکے نزدیکی علاقوں میں آپکے نمائندے تھے بلکہ بغداد، کوفہ، اہواز، بصرہ، ہمدان، قم، رے، سیستان اور بُست سمیت مختلف علاقوں میں مستقل نمائندے لوگوں کی ضرورتوں اور مسائل کو آپ تک منتقل کرکے آپکی جانب سے ہونے والی کاروائیوں کے نتائج اور مسائل کے جوابات کو لوگوں تک منتقل کر رہے تھے۔(۲)
اور ایسا  نہیں تھا کہ محض وکلاء پر آپ نے سب کچھ چھوڑ دیا ہو بلکہ  وکیلوں کے  علاوہ خط و کتابت کے ذریعے بھی اپنے پیروکاروں کے ساتھ رابطے میں تھے  چنانچہ آپ   کے ہم تک پہنچنے والے بہت سے معارف و تعلیمات آپکے ان خطوط میں موجود ہیں جنہیں  مختلف موقعوں پر آپنے اپنے معتمد شیعوں کو ارسال کیا تھا ۔(۳) خط و کتابت کے ذریعہ آپ شیعوں کے فقہی مسائل کا جواب عنایت فرمایا کرتے تھے بعض ایسے خطوط معتبر  مآخذ میں موجود ہیں جن میں مسائل کے ساتھ خط و کتابت کرنے والوں کے نام بھی درج ہیں ۔(۴)جبکہ  بعض ایسے خطوط و  مراسلات بھی ہیں جن میں دریافت کیا گیا مسئلہ تو ہے لیکن خط کس کی جانب سے روانہ کیا گیا ہے اسکا نام واضح نہیں ۔(۵) اور بعض ایسے بھی خطوط  و مراسلے ہیں جنہیں آپ نے اپنے پیروکاروں  کے ایک خاص گروہ کو ارسال کیا ہے اور ان پر اس خاص گروہ کا نام درج ہے۔(۶)موسوعۃ الامام الجواد میں امام(ع) کے والد اور فرزند کے علاوہ 63 افراد کے نام حدیث و رجال کے مآخذ سے اکٹھا  کئے گئے ہیں جن کا خط و کتابت کے ذریعے امام(ع) کے ساتھ رابطہ رہتا تھا۔(۷)  آپکے خطوط و مکاتبات دیکھ کر انسان انداہ لگا سکتا ہے کہ کس قدر آپ اپنے شیعوں سے جڑے ہوئے تھے اور حکومت کی سختیوں کی باوجود اسقدر مراسلوں کا آپ تک آنا اور آپکا اپنے شیعوں سے خط وکتابت رکھنا نیز اپنے وکیلوں کے ذریعہ شیعوں کی خبر گیری کرنا یہ بتاتا ہے کہ کس طرح دشوار ترین دور میں آپ شیعوں کی رہنمائی سے غافل نہ تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1 ۔ جعفریان، رسول، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، صص492و 493۔
2 ۔ جاسم، حسین، تاریخ سیاسی غیبت امام دوازدہم، ص79۔
3۔  رسول جعفریان ، حیات فکری و سیاسی امامان شیعہ، ص 489۔
4۔ كلینی،  اصول کافی  ، ج 3، ص 399، ج 4، ص 275، 524، ج 5، ص 347۔
5 ۔ كشّی ، الرجال، ص610- 611
6 كلینی ، الکافی، ج 3، ص331، 398، ج 5، ص394 ، ج 7، ص163 ۔ كشّی ، رجال، ص 606، 611۔
7 ۔ موسوعہ الامام الجواد علیه السلام ، ج 2، ص 416ـ 508 قم : مؤسسه ولی العصر علیہالسلام للدراسات الاسلامیہ، 1419ق

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 18