Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 194914
Published : 12/8/2018 17:40

بچے کے غلط رویہ پر والدین کی ہنسی تربیتی کمزوری ہے

کبھی کبھی ہم لوگ بچوں کے غلط کام یا بات پر منھ پھیر کر ہنستے ہیں تاکہ اسے احساس نہ ہو۔والدین کی رفتار میں یہ دوگانگی اور تعارض بچے میں یہ احساس پیدا کردیتا ہے کہ اس نے جو کچھ کہا یا جو کچھ کیا وہ سب صحیح تھا لہذا اسے آئندہ بھی یہ سب کرنا چاہیئے اور والدین کا یہ ہنسنا اس کی زندگی پر بُرے اور نامطلوب اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! بچپن بھی عجب دور ہے جب بچہ بولتا ہے تو اس کی زبان سے ادا ہونے والے تتلاہٹ کے ساتھ الفاظ والدین کے لئے بڑے ہی جاذب ہوتے ہیں کبھی کبھی وہ اس پیار میں یہ بھی بھول جاتے ہیں کہ ہمارے بچے نے کیا کہا ہے بلکہ ان کا سارا دھیان اس چیز کی طرف مرکوز ہوتا ہے کہ اس نے کچھ کہا ہے اور بس! لیکن اگر تربتی نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو جہاں بچے کا بولنا یا کوئی کام انجام دینا اہمیت رکھتا ہے وہیں یہ خیال بھی رہے کہ اس نے کیا بولا ہے اور کیا فعل انجام دیا ہے۔چونکہ انسان کا بچہ ہے اسے کل انسانی معاشرے میں جانا ہے اسے ابھی سے ہمیں سکھانا ہوگا۔
لہذا جب ہمارا بچہ کوئی منفی جملہ یا کلمہ زبان پر نکالے یا کوئی غلط کام انجام دے تو ہمیں مذاق پر حمل نہیں کرنا چاہیئے اور ویسے ہی ہنس کر نہیں ٹالنا چاہیئے۔ بلکہ ہمیں اس چیز کو معین کرنا چاہیئے کہ اس کی یہ بات اچھی نہیں تھی یا اس نے جو یہ کام کیا وہ اچھا نہیں تھا؟
پس اگر اس کا کام بُرا تھا تو اس پہ ہنسنے کا کیا مطلب؟ اور کبھی کبھی ہم لوگ بچوں کے غلط کام یا بات پر منھ پھیر کر ہنستے ہیں تاکہ اسے احساس نہ ہو البتہ اسے معلوم ہوجاتا ہے۔
والدین کی رفتار میں یہ دوگانگی اور تعارض بچے میں یہ احساس پیدا کردیتا ہے کہ اس نے جو کچھ کہا یا جو کچھ کیا وہ سب صحیح تھا لہذا اسے آئندہ بھی یہ سب کرنا چاہیئے  اور والدین کا یہ ہنسنا اس کی زندگی پر بُرے اور نامطلوب اثرات کا سبب بن سکتا ہے۔
پس ہمیں اپنے آپ اور اپنے بچوں کو دھوکہ نہیں دینا چاہیئے ۔بلکہ ہمیں ایک ایسا موقف اپنانا ہوگا جو قطعی ہو چونکہ ہمارا یہ بے جا ہنسنا،بچے کے مستقبل کے لئے خطرہ بن سکتا ہے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19