Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195608
Published : 6/10/2018 19:41

ہند و ایران مشترکہ ثقافتی میراث

ان دونوں قوموں نے ایک دوسرے کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور دونوں قومیں باہمی تعلقات کی وسعت ومضبوطی کی خواہاں ہیں بالخصوص دور حاضر میں اس کی ضرورت کچھ اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ مادیت پرستی کی تبلیغ و اشاعت کا دور ہے اور مادیت کے علمبردار مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعہ پوری دنیا پر اپنا تسلط و غلبہ قائم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کی نظر میں اعلیٰ انسانی قدروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے
ولایت پورٹل: ہر قوم کی بقاء و ترقی کا انحصار عالمی سطح پر دنیا کی دیگر اقوام کے ساتھ اس کے خوشگوار تعلقات اور باہمی تعاون پر ہوا کرتا ہے اور اس قسم کے تعلقات و تعاون کو عملی جامہ پہنانے کے لئے یہ لازمی ہے کہ دو یا متعدد قوموں کے درمیان مختلف النوع مشترکات بھی موجود ہوں جو ان قوموں کو باہمی قربت و نزدیکی کے بندھن سے باندھ سکیں۔ واضح رہے کہ ان مشترکات کے درمیان ثقافتی اشتراکات کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہوا کرتی ہے کیونکہ یہ ایک طویل مدت کے بعد ظاہر ہوتے ہیں اور ان کی جڑیں انتہائی مضبوط اور دیرپا ہونے کے ساتھ ہی ساتھ لوگوں کی زندگی وشخصیت کی گہرائی میں پھیلی ہوتی ہیں۔
ایرانی و ہندستانی قوم مشرقی اور ایشیائی ہونے کے ساتھ ہی ساتھ متعدد مشترکات کی حامل ہے۔ اقتصادی،سیاسی اور علاقائی تعلقات کے علاوہ ثقافتی اعتبار سے دونوں قوموں کے درمیان ایسے محکم اور گہرے مشترکات موجود ہیں جن کی مثال دنیا کی دیگر اقوام کے درمیان کم دکھائی دیتی ہے۔ یہ اشتراکات گذشتہ صدیوں کے دوران کی گئی کوششوں کا نتیجہ ہیں، تقریباً ہزار سال یا اس سے زیادہ طویل مدت کے دوران سکندر کے بعد برسر اقتدار آنے والے سلاطین کے دور حکومت میں ہمیں ایران بالخصوص اس ملک کے شمالی اور مشرقی علاقوں میں بودھ مذہب کے نمایاں اور وسیع اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ عبادت خانوں کے علاوہ بودھ مذہب سے متاثر علمی مراکز اور مبلغین اور مروّجین کی ایک بڑی تعداد دکھائی دیتی ہے اور ان میں سے اکثر افراد کا تعلق ہندستان اور ایران کے نامور گھرانوں سے رہا ہے اور اس کے بعد بھی ایران کے سرکاری مذہب مانی اور مزدائی پر بودھ مذہب کی گہری چھاپ دکھائی دیتی ہے اور ایران کے دیگر تمام مذاہب کے مقابلے میں ان دونوں مذاہب کو زیادہ عالمی وسعت و مقبولیت حاصل ہوئی... جیسا کہ ساسانی دور حکومت میں ایران کے مشہور دانشمند بُرزوَیہ طبیب نے ہندستان کا سفر کیا اور’’ کلیلہ و دمنہ‘‘ نامی کتاب بطور تحفہ اپنے ساتھ ایران لے گیا جس کو اس نے پہلے پہلوی زبان میں ترجمہ کیا اور اس کی مدد سے ابن مقفّع نے عربی میں ترجمہ کیا، پھر اس عربی ترجمہ کی مدد سے ’’نصر اللہ منشی‘‘نے فارسی زبان میں ترجمہ کیا اور آج بھی اس کتاب کا فارسی ترجمہ ہمارے درمیان موجود ہے اور اس کا شمار اہم اور گرانقدرترین ادبی متون میں کیا جاتا ہے۔
اسلامی دور حکومت میں بھی ایک طرف تو ہم لوگوں کو ابوریحان بیرونی ابوالقاسم فندرسکی اور عاقل خان رازی جیسے عظیم ایرانی مفکرین اور دانشوروں کا سفرِ ہندستان دکھائی دیتا ہے۔ درحقیقت ان دانشوروں نے دنیا والوں بالخصوص ہم وطن ایرانیوں کو ہندستانی تہذیب وثقافت سے متعارف کرانے میں گرانقدر خدمت انجام دی ہے اور دوسری طرف ہندستانی علماء و دانشوروں نے فارسی تہذیب وثقافت کی ترویج و اشاعت کے سلسلے میں جو کوششیں کی ہیں انھیں فراموش اور نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے۔ ان ہندستانی دانشوروں نے علمی و ادبی و دینی وتاریخی، سماجی و اخلاقی، عرفانی و ہنری موضوعات پر فارسی زبان میں جو یادگار تصانیف پیش کی ہیں وہ مجموعی اعتبار سے تعداد میں ایران میں تألیف شدہ کتابوں سے کم نہیں ہیں بلکہ بعض شعبوں میں ان کی تعداد ایران سے زیادہ اور ان کی کیفیت بھی بہتر ہے۔مثلاً ہندستان میں فارسی متون کی شرح لغت اور فرہنگ ناموں کی تألیف فارسی شعراء کے حالات پر مشتمل تذکروں اور تنقیدی کتابوں کی ترتیب اور طرز نگارش و قواعد کی کتابوں کی تألیف و اشاعت کا اہتمام ایران سے کہیں زیادہ ہے اور ان کے نتائج بھی بہتر اور زیادہ کارآمد ہیں۔ اس کے علاوہ فارسی کتابوں کی طباعت و اشاعت کا کام بھی ہندستان میں ایران سے پہلے اور بڑے وسیع پیمانے پر شروع ہوچکا تھا۔
بہرحال، ان گرانقدر فکری اور ثقافتی نعمتوں کے ساتھ گزرنے والی صدیوں میں ملت ایران و ہندستان کے لئے گرانقدر مشترکہ میراث کی حفاظت دونوں ملتوں کا فریضہ ہے کیونکہ یہ میراث ہندستانی قوم کو اس کی ہزار سالہ تاریخ اور ادب و معرفت و سیاست کی داستان سناتی ہے۔ فقط یہی نہیں بلکہ یہ ہندستان کا ایسا عظیم قومی سرمایہ ہے جس کے ذریعہ ان لوگوں کی ثقافتی شناخت کی نشاندہی بھی ہوجاتی ہے۔اکبر اعظم اور اس کے اخلاف جہانگیر، شاہ جہاں اور داراشکوہ کی یادگار اور ابوالفضل، امیر خسرو،بیدل، غالب،خان آرزو جیسے نامور مفکرین اور شعراء کی یادگار اور مسلمان ہی نہیں بلکہ گرونانک جیسے دیگر غیر مسلموں کی یاگاریں اس فارسی۔ ہندی میراث کا ایک عظیم حصہ ہیں اور یہ میراث انہیں ماہرین علوم وفنون کی لگاتار کوششوں کا نتیجہ ہے اور اگر یہ میراث ہاتھ سے چلی گئی تو ان کے قومی شعور میں اختلال و گڑبڑی پیدا ہوجائے گی اور ان کی اولاد کی قومیت کے بنیادی اصولوں پر بھی گہری چوٹ لگے گی۔ ہندستانی عوام کے لئے اس عظیم میراث کی حفاظت اس پل کی حفاظت کے مترادف ہے جو ہزاروں سال سے اس قوم کو ایک ایسی قوم سے جوڑے ہوئے ہے جس کی نظر میں باہمی تعلقات کی غیر معمولی اہمیت ہے۔ ان دونوں قوموں نے ایک دوسرے کی نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور دونوں قومیں باہمی تعلقات کی وسعت ومضبوطی کی خواہاں ہیں بالخصوص دور حاضر میں اس کی ضرورت کچھ اور بڑھ جاتی ہے کیونکہ یہ مادیت پرستی کی تبلیغ و اشاعت کا دور ہے اور مادیت کے علمبردار مختلف ہتھکنڈوں کے ذریعہ پوری دنیا پر اپنا تسلط و غلبہ قائم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور ان لوگوں کی نظر میں اعلیٰ انسانی قدروں کی کوئی اہمیت نہیں ہے بلکہ یہ تمام دنیا کے انسانوں کو غلامی کی زنجیروں سے جکڑ دینا چاہتے ہیں۔ مادیت کے علمبرداروں کی نظر میں ان کے ناپاک مقصد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ معنویت و ایمان و روحانی اعتقادات کا وجود ہے اور یہ لوگ اس کی نابودی کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں ایسے حالات میں معنویت و روحانیت پر مبنی ثقافت کی حامل ایرانی اور ہندستانی قوموں کے لئے اس سے بڑا کوئی دوسرا فریضہ نہیں ہے کہ مشترک ثقافتی روایت کی حفاظت و نگہداشت اور اس کی بنیادی تقویت کی کوشش کریں اور اس طرح باہمی تعاون کے ذریعہ ان کی آزادی کے لئے جو خطرہ لاحق ہو گیا ہے اسے دور کرلیں اور جہاں تک ممکن ہو اپنی عظیم اخلاقی وانسانی قدروں اور اپنی حقیقی بلند مرتبہ ثقافت کی پیروی کریں اور معنویت و روحانیت سے خالی مغرب جس محرومیت و اجنبیت سے دوچار ہے اس سے نجات حاصل کریں اور معنویت کی راہ پر گامزن اپنے پرانے دوستوں کے ساتھ پہلے کی طرح ایک جان دو قالب ہوجائیں اور اپنے آباء و اجداد کی روحانی میراث کی تلاش میں نکل پڑیں۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19