Sunday - 2018 Oct. 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195617
Published : 7/10/2018 15:58

شہید مطہری کی نظر میں کسی بھی معاشرے کو لاحق سب سے بڑا خطرہ

کسی بھی معاشرے کے لئے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اس کے باشندے نادان اور بیوقوف ہوں،اگر دشمن ہوشیار ہو تو اسے باہر سے افرادی و نفری قوت اور اسلحہ کا ذخیرہ لانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ انہیں بیوقوف لوگوں کو اپنا آلہ کار بنالے گا،ایک افسانہ تراشے گا پھر اسی افسانے کو خود ان کی زبان پر لے آئے گا تاکہ یہ خود اپنے آپ اس کہانی اور اس بات میں کہ جو دشمن نے ان کے لئے گھڑی ہے الجھ جائیں گے۔اس کا اصلی سبب نادانی ہے۔

ولایت پورٹل: کسی بھی معاشرے کے لئے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اس کے باشندے نادان اور بیوقوف ہوں،اگر دشمن ہوشیار ہو تو اسے باہر سے افرادی و نفری قوت اور اسلحہ کا ذخیرہ لانے کی ضرورت نہیں ہوگی بلکہ وہ انہیں بیوقوف لوگوں کو اپنا آلہ کار بنالے گا،ایک افسانہ تراشے گا پھر اسی افسانے کو خود ان کی زبان پر لے آئے گا تاکہ یہ خود اپنے آپ اس کہانی اور اس بات میں کہ جو دشمن نے ان کے لئے گھڑی ہے الجھ جائیں گے۔اس کا اصلی سبب نادانی ہے لہذا لوگوں کو اتنا بیوقوف نہیں ہونا چاہیئے کہ جس جال کو دشمن نے ان کے لئے بچھایا ہے وہ خود اس میں پھنس جائیں چنانچہ ایک کہے میں نے تو اس طرح سنا ہے دوسرا کہے کہ نہیں! اصل واقعہ ایسے نہیں اس طرح ہے وغیرہ وغیرہ۔
ان نادانوں کو نہیں معلوم کہ ایسے موقعہ پر ان کی ذمہ داری کیا ہے؟ انہیں چاہیئے کہ وہ دشمن کی سازش کو وہیں زیر پا روند ڈالے اور دفن کردے،درحقیقت دشمن یہی چاہتا ہے کہ اس کا یہ افسانہ لوگوں میں پھیل جائے لہذا آپ کو اس افسانے کو قبر میں دفن کردینا چاہیئے تاکہ اس طرح کچھ عرصہ کے بعد دشمن بھی اپنے نقشہ کے ساتھ زمین دوز ہوجائے۔
ایسے موقعہ پر دین اسلام کا مطالبہ اپنے پیروکاروں سے یہ ہے کہ جب آپ ایسی چیز سنیں تو کسی صورت اسے زبان پر نہ لائیں،اگر آپ کو حقیقت جاننے کا شوق ہے تو خود جاکر تحقیق کرین،اور اگر آپ کو تحقیق کرنے کا حوصلہ نہیں ہے تو پھر دشمن کی پھیلائی ہوئی افواہ کو ہوا نہ دیں اس طرح وہ خود بخود ختم ہوجائے گی۔

منبع: آشنایی با قران،شہید مطہری، ج 4 ص 35



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Oct. 21