Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195626
Published : 7/10/2018 18:17

امام حسین(ع) اور حریت کا سبق

امام حسین(ع) کی نگاہ میں آزاد وہ انسان ہے کہ جس کی پوری زندگی عزت کے ساتھ بسر ہو یہی وجہ ہے کہ سید الشہداء(ع) کربلا میں اپنی اور اپنے باوفا اصحاب کو عزت تک پہونچانا چاہتے تھے چونکہ حضرت جانتے تھے کہ عزیز وہ ہے کہ جو ثابت قدم رہے اور جسے کوئی طاقت زیر نہ کرسکے اور جسے موت کا خوف اور زندہ رہنے کا لالچ نہ ہو وہ سربلند ہے لہذا امام حسین علیہ السلام کی تحریک ان لوگوں کے لئے بہترین سرمشق ہے جو عزت،سربلندی اور آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
ولایت پورٹل: اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک مختار اور آزاد مخلوق بناکر پیدا کیا ہے جس کے سبب اسے غیر خدا اور غیر دینی حکومت کے قبول کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے چونکہ غیر اللہ کی حاکمیت انسان سے اس کی آزادی اور اختیار چھین لیتی ہے:’’ لاتکن عبد غیرک و قد جعلک الله حراً‘‘۔اے میرے بندے تو کسی کا غلام مت بننا جبکہ اللہ نے تجھے آزاد پیدا کیا ہے۔
لہذا انسان کی پوری زندگی میں آزادی سایہ فگن ہونا چاہیئے یعنی اس کی انفرادی، اجتماعی،ثقافتی اور اقتصادی زندگی پر آزادی ضو فگن ہونا چاہیئے اب جبکہ خود امام حسین(ع) آزادی و حریت کے سب سے بڑے مظہر ہیں آپ کے کلمات اور فرامین میں آزادی کے مفہوم اور معانی پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔لہذا اگر ہم امام حسین علیہ السلام کے کلمات گہربار کا مطالعہ کریں تو ہمیں وہ معیار اور ملاک نظر آئیں گے جو آپ نے آزادی کے لئے بیان فرمائے ہیں:
حریت کا پہلا معیار:ظلم و ظالم سے ساز باز نہ کرنا
امام حسین(ع) کی تحریک کا آغاز ہی حکومت جور کی نفی و انکار سے شروع ہوتا ہے اور ہمیں امام حسین علیہ السلام کی پوری زندگی میں یہ عنصر و معیار بڑے وضوح و طمطراق سے نظر آتا ہے چنانچہ جب ’’عمر اطرف‘‘ نے آپ سے عرض کیا:’’فرزند رسول! وقت کے ظالم و جابر حکمراں یزید سے صلح کرلیجئے آپ نے اس کے جواب میں فرمایا:’’میرے جد نامدار نے میرے شہید ہونے کی خبر دے رکھی ہے خدا کی قسم ہم اپنے سے کسی ذلت و پستی کا مظاہرہ نہیں کریں گے‘‘۔
آپ نے خود مدینہ منورہ میں اپنے برادر جناب محمد حنفیہ سے جو طویل گفتگو فرمائی اس کے دوران فرمایا:’’میرے بھائی اگر روئے زمین پر میرے لئے کوئی محفوظ ٹھکانہ بھی باقی نہ بچے تب بھی میں یزید کی بیعت نہیں کرسکتا‘‘۔
اسی طرح جب قیس بن اشعث نے آپ کو یزید کی بیعت کرنے کا مشورہ دیا تو فرمایا:’’نہیں! ہرگز میں ایسا نہیں کرسکتا، خدا کی قسم! میں اپنے ہاتھ کو ذلیل و رسوا ہوکر یزید کے ہاتھ میں نہیں دوں گا اور نہ ہی غلاموں کی طرح میدان جنگ سے فرار کروں گا میری سب سے بڑی پناہ گاہ اللہ تعالٰی ہے‘‘۔
اور اس سے بھی عجیب بات یہ کہ صرف امام حسین(ع) ظالم حکومت کے پرچم تلے رہنا ہی پسند نہیں کرتے بلکہ ایسے حالات میں مؤمنین کے لئے موت کی تمنا کرتے ہیں چنانچہ آپ فرماتے ہیں:’’ہم پر ایسے حوادث ٹوٹ پڑے اور دنیا نے ہم سے منھ موڑ لیا ہے ،آج نیکیاں اور فضائل رخت سفر باند چکی ہیں اور کچھ خوبیاں صرف تہہ میں باقی رہ گئی ہیں زندگی کی چراگاہ ایک وحشتناک دیار میں تبدیل ہوچکی ہے کیا تم نہیں دیکھ رہے ہو کہ حق پر عمل نہیں کیا جارہا ہے اور باطل سے دوری اختیار نہیں کی جارہی ہے لہذا ایسے حالات و شرائط میں مؤمنین اپنے پروردگار سے ملاقات کرنے کی آرزو کرتے ہیں۔
حریت کا دوسرا معیار: ذلت سے انکار
تحریک عاشورا میں آزادی کا سب سے بڑا نعرہ ذلت کا انکار تھا یعنی آزاد اور حر انسان کبھی ذلت کے سائے میں نہیں جاتا یہی وجہ ہے کہ امام حسین(ع) فرماتے ہیں:’’ هیهات منّا الذّلۃ‘‘۔ذلت ہم سے دور ہے۔
آزادی کی طلب ذلت کے ساتھ جمع نہیں ہوسکتی اور ایک کو قبول کرنا یعنی دوسرے کی نفی کرنا ہے اگر انسان اپنے سے ذلت کو دور کردے تو گویا وہ خود بخود آزادی کے راستہ پر گامزن ہوچکا ہے چنانچہ امام حسین(ع) فرماتے ہیں:’’ موت فی عز خیر من حیوۃ فی ذّل‘‘۔عزت کی موت ذلت کے ساتھ زندہ رہنے سے بہتر ہے۔
ستمگر اور ظالم کے پرچم تلے زندہ رہنا عین ذلت ہے اور ایسی حالت میں موت انسان کے لئے سب سے بڑی سعادت ہے چنانچہ آزاد منش لوگوں کا پیشوا فرماتا ہے:’’ انی لا اری الموت الا سعادۃ و الحیاۃ مع الظالمین الا برماً‘‘مجھے موت ایک سعادت دکھائی دیتی ہے اور ظالموں کے ساتھ زندگی گذارنا رنج و ملال کے سوا کچھ اور نہیں ہے۔
آزادی کا تیسرا معیار:عزت
آزادی کا تیسرا معیار جو ہمیں امام حسین(ع) کے کلمات گہربار میں نظر آتا ہے وہ عزت ہے،چنانچہ اہل لغت نے عزت کے چند ایک معنٰی بیان کئے ہیں: محبوب ،طاقت،شرافت اور بزرگواری کہ اسی معنٰی میں’’عزیز‘‘ خداوند عالم پر اطلاق ہوتا ہے اور اصطلاح میں عزت دار یا عزیز ایک خاص روحی بلندی رکھنے والے کو کہتے ہیں یعنی ایسا شخص جو بلندی روح کے اعتبار سے دوسروں کے یہاں لائق تکریم ہو اور جس کا ہاتھ ہر کس و ناکس کے سامنے نہ پھیلے۔ چنانچہ امام حسین(ع) کی نگاہ میں آزاد وہ انسان ہے کہ جس کی پوری زندگی عزت کے ساتھ بسر ہو یہی وجہ ہے کہ سید الشہداء(ع) کربلا میں اپنی اور اپنے باوفا اصحاب کو عزت تک پہونچانا چاہتے تھے چونکہ حضرت جانتے تھے کہ عزیز وہ ہے کہ جو ثابت قدم رہے اور جسے کوئی طاقت زیر نہ کرسکے اور جسے موت کا خوف اور زندہ رہنے کا لالچ نہ ہو وہ سربلند ہے لہذا امام حسین علیہ السلام کی تحریک ان لوگوں کے لئے بہترین سرمشق ہے جو عزت،سربلندی اور آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
آزادی کا چوتھا معیار:دنیا طلبی اور حُب دنیا سے گریز
امام حسین(ع) کے کلام میں آزادی کا ایک معیار یہ ہے کہ انسان خود کو دنیا اور اس کی لذتوں اور تعلقات سے دور کرلے پس جو انسان اپنے دل سے حُب دنیا اور اس کی خواہشات کو ترک کردے گا وہ امام حسین(ع) کی نظر میں آزاد ہے چنانچہ امام حسین علیہ السلام فرماتے ہیں:’’إِنَّ النَّاسَ عَبِيدُ الدُّنْيَا، وَالدِّينُ لَعْقٌ عَلَى أَلْسِنَتِهِمْ‏ يَحُوطُونَهُ مَا دَرَّتْ مَعَايِشُهُمْ فَإِذَا مُحِّصُوا بِالْبَلَاءِ قَلَّ الدَّيَّانُونَ‘‘۔
بے شک لوگ دنیا کے غلام ہیں اور صرف ان کی زبانوں پر اس وقت تک دین کا نام رہتا ہے جب تک ان کی زندگی خوشگوار ہو لیکن جیسے ہی انہیں امتحان میں مبتلاء کردیا جائے  تو دینداروں کی تعداد مختصر رہ جاتی ہے۔
گویا امام حسین(ع) یہ بتلانا چاہتے ہیں کہ جو انسان اپنے گلے میں دنیا کی بندگی و بردگی کا قلادہ ڈال لیتا ہے وہ درحقیقت آزاد نہیں ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں: اے بندگان خدا! خدا سے ڈرو،اور دنیا سے پرہیز کرو اگر عالم میں یہ مقدر ہوتا کہ یہ دنیا کسی کے لئے باقی رہے یا کوئی اس دنیا کے لئے باقی رہے وہ پیغمبران الہی تھے کہ جو سب سے زیادہ مناسب اور با عظمت تھے۔لیکن اللہ نے اس دنیا کو امتحان کے لئے خلق کیا ہے اور اس کے رہنے والوں کو فنا کے لئے۔ پس اس دنیا سے اپنی آخرت کے لئے توشہ فراہم کرلو اور بہترین توشہ تقوا ہے اور خدا سے ڈرتے رہو تاکہ کامیاب ہوجاؤ۔

 



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19