Monday - 2018 Dec 17
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195630
Published : 7/10/2018 19:45

اربعین کی زیارت کو کیسے معنوی بنائیں؟

جتنا غور ہوگا وہ اتنا ہی اپنی روح کو امام حسین(ع) سے نزدیک کرسکتا ہے تاکہ وہ کربلا سے لوٹ کر معاشرے میں غیرجانبدارانہ رویہ اختیار نہ کرے بلکہ اپنے اندر خدمت خلق،برائیوں کا خاتمہ کی فکر لیکر لوٹے، اور اپنے اندر نور کی شمع روشن کرکے اس عالمی انقلاب کا حصہ بن جائے اور کسی بھی انقلاب کاتقاضہ بھی یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنی وجود میں انقلاب محسوس کرے پھر دوسروں کو انقلاب کا حامی بنائے۔

ولایت پورٹل: انسان کی زندگی اکثر لمحات ایسے ہوتے ہیں جو ہوا کی طرح گذر جاتے ہیں لیکن کچھ لمحے زندگی میں یادگار ہوتے ہیں لہذا انسان کو چاہیئے جتنا ہوسکے ان لمحات سے فائدہ اٹھائے جیسا کہ سرکار ختمی مرتبیت(ص) کی حدیث ہے کہ:’’ بے شک تمہاری زندگی میں نسیم الہی کے جھونکے آئیں گے لہذا ان لمحات میں خود کو انہیں کے درمیان رکھنا‘‘۔
اربعین کا سفر اپنی تمام تر خصوصیات کے ساتھ ایک شاندار اور لاجواب سفر ہے اور اگر یہ سفر ایک خاص مقصد اور خاص معنویت کے ساتھ ہو تو اسکی برکتیں اس زائر کی زندگی میں مزید نظر آئیں گی جو اپنے وطن سے امام حسین(ع) کی زیارت کے قصد سے نکلا ہے لہذا ایک زائر کی کوشش یہ ہونا چاہیئے کہ جتنا ہوسکے اس پُر فیض سفر سے جتنی معنویت اور روحانیت اپنے لئے اکھٹا کرسکتا ہے کرلے۔قارئین کرام! ہم اس کالم میں کچھ ان اہم باتوں کی طرف اشارہ کررہے ہیں جس کے سبب ایک زائر زیادہ سے زیادہ معنویت و روحانیت حاصل کرسکتا ہے۔
اربعین کے سفر کی طرف خاص توجہ
اربعین کا سفر معنویت اور اہل بیت اطہار(ع) سے عشق کو مضبوط کرنے کا ایک بہترین ذریعہ ہے ،اربعین پر جانے والے زائرکو یہ خیال رکھنا چاہیئے کہ یہ سفر سال بھر میں صرف ایک بار نصیب ہوتا ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ زندگی کی مصروفیات اور دوسری بہت سے مشاغل کے پیش نظر ہر سال ہر کوئی زیارت سے مشرف نہیں ہوپاتا۔اور دوسرے یہ بھی ممکن ہے کہ اگلے برس تک یہ فانی زندگی انسان کے ساتھ وفا کرے یہ نہ کرے؟یا عراق کے حالات بگڑ جائیں اور انسان کو موقع میسر نہ آئے یا سب کچھ ہو لیکن انسان کی صحت اسے اربعین پر حاضر ہونے میں مانع ہو۔
غرض! بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ انسان ہر سال اربعین پر امام حسین(ع) کی بارگاہ میں حاضری دے ہی سکے لہذا ضروری ہے کہ انسان اسے آخری سفر تصور کرتے ہوئے جتنا ہوسکے اس سے فائدہ اٹھائے اور اپنے دامن کو معنویت اور روحانیت سے مالا مال کرنے کی فکر کرے۔
خود کو پہلے اس سفر کے لئے تیار کرنا
وہ زائر جو اربعین میں امام حسین(ع) کی زیارت سے فیضیاب ہونا چاہتا ہے اور زیادہ سے زیادہ معنوی فائدہ اٹھانا چاہتا ہے اسے پہلے ہی خود کو تیار و آمادہ کرنا پڑے گا ۔مثلاً اسے مسجد کوفہ،مسجد سہلہ،یا نجف سے کربلا تک پیدل مشی کرنا ہے تو اسے یہ طئے کرنا چاہیئے کہ فلاں جگہ وہ کتنا ٹہرے گا اور کہاں کتنا وقت دے گا اور روحانی و معنوی فائدے کے پیش نظر اسے اپنے کو اس سفر کے لئے تیار کرنا چاہیئے اور سمجھے کہ وہ کہاں جارہا ہے؟ کس کے لئے جارہا ہے؟ اور وہ کس پاک سرزمین پر قدم رنجہ ہورہا ہے؟
قرآن مجید کی تلاوت اور اسے امام حیسن(ع) و دیگر آئمہ(ع) کو ہدیہ کرنا
اس سفر میں زیادہ سے زیادہ معنویت اور روحانیت حاصل کرنے کا ایک طریقہ یہ ہے زائر امام حسین(ع)اور آپ کے با وفا اصحاب کے لئے قرآن مجید کی تلاوت کرکے ہدیہ کرے۔
ظاہر سی بات ہے کہ اس معنوی سفر میں زائر کو دعا پڑھنے اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے کا کافی وقت میسر ہوجاتا ہے لہذا بہتر ہے کہ وہ اپنے پروگرام کو اس طرح ترتیب دے کہ اس پورے سفر میں کامل ایک قرآن پڑھ کر آئمہ(ع) کی خدمت میں ہدیہ کرسکے۔
امام حسین(ع) اور کربلا کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا
زیارت پر جانے والے میں امام حسین(ع) کی جتنی معرفت زیادہ ہوگی اس سفر میں اسے اتنی ہی معنویت حاصل ہوگی لہذا ایک زائر کے لئے ضروری ہے کہ امام حسین(ع) سے متعلق زیادہ سے زیادہ لٹریچر پڑھے چونکہ معنویت کا تعلق معرفت سے ہے اگر معرفت کم ہوگی تو معنویت بھی زیادہ حاصل نہیں ہوسکتی۔
امام حسین(ع) کربلا اور اربعین کی عظمت کے بارے میں غور کرنا
کربلا ایک ایسا سانحہ ہے جس کا اثر طول تاریخ میں دیکھنے کو ملتا ہے اور دنیا کے کونے کونے میں اس کے آثار و برکات نظر آرہے ہیں ۔یہ تاریخ کا وہ واحد انقلاب ہے جس سے دنیا کی ہر قوم و ہر طبقہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہالہذا اس عظیم انقلاب اور اس کے اثرات کے بارے میں غور و خوض کرنا ایک زائر کے لئے حد درجہ ضروری ہے چونکہ جتنا غور ہوگا وہ اتنا ہی اپنی روح کو امام حسین(ع) سے نزدیک کرسکتا ہے تاکہ وہ کربلا سے لوٹ کر معاشرے میں غیرجانبدارانہ رویہ اختیار نہ کرے بلکہ اپنے اندر خدمت خلق،برائیوں کا خاتمہ کی فکر لیکر لوٹے، اور اپنے اندر نور کی شمع روشن کرکے اس عالمی انقلاب کا حصہ بن جائے اور کسی بھی انقلاب کاتقاضہ بھی  یہ ہے کہ انسان سب سے پہلے اپنی وجود میں انقلاب محسوس کرے پھر دوسروں کو انقلاب کا حامی بنائے۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Monday - 2018 Dec 17