Sunday - 2018 Oct. 21
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195635
Published : 8/10/2018 9:58

امریکہ افغانستان میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا:امریکی عوام

افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت اس کی تاریخ کی سب سے لمبی جنگ بن گئی ہے۔

ولایت پورٹل:امریکی ریسرچ سینٹر پیو ریسرچ سینٹر کی جانب سے کیے گئے سروے میں زیادہ تر افراد نے اپنی رائے دی ہے کہ امریکا طالبان اور القاعدہ کے خلاف افغانستان میں جاری جنگ میں ناکامی سے دوچار ہوگیا ہے،گزشتہ ماہ 18 سے 24 ستمبر تک ہونے والے سروے میں 49 فیصد بالغ افراد کا کہنا ہے کہ امریکا 17 سال گزرنے کے باوجود اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے،سروے کے مطابق 35 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ امریکا افغانستان میں کامیاب ہوگیا ہے، جبکہ 16 فیصد کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں معلوم کہ امریکا کو کامیابی ملی ہے یا ناکامی ملی ہے،اسی طرح 2009 سے 2011 کے درمیان جب سروے کیے گئے تھے اور لوگوں سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا امریکا افغانستان میں کامیاب ہوجائے گا تو اکثریت کا ماننا تھا کہ اسے کامیابی مل جائے گی،تاہم جب یہ سروے 2014 اور 2015 کے درمیان کیا گیا تو اس کے نتائج مثبت سے زیادہ منفی میں تبدیل ہوچکے تھے،پیو کے حالیہ سروے کے مطابق ریپبلکنز اس معاملے میں پُر امید نظر آتے ہیں جبکہ اس کے برعکس اور ڈیموکریٹس کو اس سے امیدیں کم ہیں،سروے کے مطابق 48 فیصد ریپبلکنز کا ماننا ہے کہ افغانستان میں امریکی مشن کامیابی سے ہمکنار ہوگا، جبکہ صرف 28 فیصد ڈیموکریٹس اپنے حریفوں کا ساتھ دیتے نظر آتے ہیں،تین سال قبل باراک اوباما کے دورِ اقتدار میں جب یہ سروے کیا گیا تھا تو 42 فیصد ڈیموکریٹس نے جنگ کی جیت کی امید کا اظہار کیا تھا جبکہ 29 فیصد ریپبلکنز ان کے حامی نظر آئے تھے،افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت اس کی تاریخ کی سب سے لمبی جنگ بن گئی ہے، تاہم اسی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے امریکیوں کی آرا بھی ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے بارے میں تقسیم کا شکار ہے،آج، سروے کے مطابق، 45 فیصد امریکی کہہ رہے ہیں کہ امریکا نے دہشتگردوں کے خلاف لڑنے کے لیے افغانستان پر حملے کا جو فیصلہ کیا تھا وہ درست تھا، لیکن حیران کن طور پر 39 فیصد امریکی مانتے ہیں کہ واشنگٹن اور پینٹاگن نے ایسا کرکے بہت بڑی غلطی کی ہے۔
سحر




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Sunday - 2018 Oct. 21