Wed - 2018 Oct. 24
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195645
Published : 8/10/2018 15:31

نماز کو خفیف اور ہلکہ سمجھنے سے کیا مراد ہے؟

ایسی نماز کہ نہ جس کے مقدمات صحیح طریقہ سے انجام پائے ہیں اور نہ مؤخرات،نہ جس میں اطمینان ہے اور نہ حضور قلب و خشوع،گویا اپنے سر سے بوجھ اتارنے کے لئے نماز پـڑھی جارہی ہے جس طرح انسان کے ذمہ دیگر کام ہوتے ہیں اسے بھی ایک کام سمجھ کر سر سے اتارا جارہا ہے۔یہی مطلب ہے نماز کو سبُک اور ہلکہ سمجھنے کے۔

ولایت پورٹل: نماز کا سبُک اور ہلکہ شمار کرنا ایک گناہ ہے،نماز نہ پڑھنا یہ ایک الگ قسم کا گناہ کبیرہ ہے۔لیکن نماز پڑھنا لیکن نماز کو ہلکہ اور سبُک شمار کرنا ،خفیف سمجھتے اور بے اہمیت جانتے ہوئے تاخیر و دیری سے پڑھنا ایک الگ گناہ ہے۔
نماز کو ہلکہ سمجھنے کا مطلب کیا ہے؟ یعنی انسان کے پاس اتنا وقت اور فرصت ہے کہ وہ آرام و اطمینان سے بہتر طور پر نماز پڑھ سکتا ہے لیکن وہ اس کے وقت پر نہ پڑھ کر مثلاً نماز و ظہر و عصر کو غروب کے قریب پڑھے،اور جیسے ہی غروب کا وقت ہوا چاہتا ہے وہ جلدی سے وضو کرتا ہے پھر سجدہ گاہ رکھ کر بڑی جلدی اور عُجلت میں نماز پڑھنے لگتا ہے۔ایسی نماز کہ نہ جس کے مقدمات صحیح طریقہ سے انجام پائے ہیں اور نہ مؤخرات،نہ جس میں اطمینان ہے اور نہ حضور قلب و خشوع،گویا اپنے سر سے بوجھ اتارنے کے لئے نماز پـڑھی جارہی ہے جس طرح انسان کے ذمہ دیگر کام ہوتے ہیں اسے بھی ایک کام سمجھ کر سر سے اتارا جارہا ہے۔یہی مطلب ہے نماز کو سبُک اور ہلکہ سمجھنے کے۔
لہذا اس نماز کا مقائسہ و موازنہ اس نماز سے نہیں کیا جاسکتا کہ جس کے استقبال کے لئے انسان شوق سے جاتا ہے ۔جیسے ہی ظہر کا وقت ہوتا ہے انسان بڑے خلوص کے ساتھ تمام آداب و مستحبات کے ساتھ وضو بجالاتا ہے اس کے بعد مصلے پر آکر اذان پڑھتا ہے اور اقامت کہتا ہے اور نہایت خاضعانہ انداز میں اپنے رب کے لئے نماز بجا لاتا ہے۔
اور جیسے ہی’’ السّلام عليكم‘‘ کہا فوراً مصلٰی نہیں چھوڑتا بلکہ کچھ دیر تک اطمینان سے تسبیح پڑھتا ہے،تعقیبات اور ذکر خدا کرتا ہے۔یہ علامت ہے اس چیز کی کہ اس گھر میں اور اس میں رہنے والوں کے یہاں نماز بااحترام اور  پُروقار عبادت ہے۔

منبع:آزادی معنوی،شہید مطہری،ص۸۵۔۸۷





آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Oct. 24