Tuesday - 2018 Dec 11
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195655
Published : 8/10/2018 18:55

کربلا کا غیور و دلیر سورما؛زہیر بن قین بجلی(1)

زہیر نے کہا: "آیا میرا یہاں ہونا میرے ان کے ساتھ ہونے کی نشانی نہیں ہے۔ خدا کی قسم!جان لو میں نے ہرگز حسین بن علی(ع) کو کوئی خط نہیں لکھا اور نہ ہی کوئی قاصد ان کی طرف بھیجا اور نہ کبھی ان کی مدد کرنے کا وعدہ کیا لیکن راستے نے مجھے اور ان کو ایک ساتھ جمع کیا اور جب میں نے ان کو دیکھا تو رسول خدا(ص) اور ان کے ہاں امام حسین(ع) کے مقام و منزلت کی یاد تازہ ہوگئی اور مجھے معلوم ہوا کہ وہ دشمن کی طرف جا رہے ہیں تو میں نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ ان کی مدد کی جائے اور ان کے ساتھ رہا جائے اور اپنی جان ان کی جان پر قربان کردوں جس چیز کیلئے تم لوگوں نے خدا اور رسول خدا(ع) کا حق ضایع کیا ہے‘‘۔

ولایت پورٹل: زہیر بن قین بجلی "قبیلہ بجلیہ" کے بزرگان میں سے تھے جو کوفہ میں زندگی گزارتے تھے۔(1) آپ کوفہ کے بہادر اور شریف افراد میں شمار ہوتے تھے اور مختلف جنگوں اور فتوحات میں حصہ لینے کی وجہ سے ایک خاص سماجی شخصیت کا حامل تھے۔(2) بعض تاریخی منابع میں "قین" -زہیر کے والد- کو رسول خدا(ص) کے اصحاب میں شمار کیا گیا ہے۔(3) زہیر امام حسین(ع) کے باوفا اصحاب میں سے تھے اور کربلا کے مقام پر واقعہ عاشورا میں بہادری کے جوہر دکھاتے ہوئے شہادت کے عظیم مقام پر فائز ہوئے۔(4)
واقعہ کربلا سے پہلے کی زندگی
زہیر عثمان کے حامیوں میں سے تھے۔ سن 60 ہجری کو زہیر اپنی بیوی اور بعض دوسرے رشتہ داروں کے ساتھ مناسک حج سے واپس آرہے تھے کہ کوفہ کے راستے میں کسی مقام پر امام حسین(ع) کے ساتھ ان کا آمنا سامنا ہوا۔ "دینوری" کے بقول یہ ملاقات "زَرُود" نامی جگہ پر ہوئی تھی۔(5)
امام حسین(ع) نے کسی شخص کو زہیر کے پاس بھیجا اور ان سے ملاقات کی خواہش کا اظہار کیا۔ زہیر نے ابتداء میں اس ملاقات میں کوئی خاص دلچسپی کا اظہار نہیں کیا لیکن اپنی بیوی "دیلم" یا "دلہم" کے کہنے پر اس ملاقات پر راضی ہو گئے۔(6) اور امام حسین(ع) کے محضر مبارک میں حاضر ہوئے۔ اس ملاقات نے زہیر کی زندگی کی کایہ ہی پلٹ کر رکھ دی۔ اس ملاقات کے بعد خوشی خوشی اپنے اہل عیال اور رشتہ داروں کے پاس لوٹ کر آئے اور حکم دیا کہ اس کا خیمہ بھی امام حسین(ع) کے خیمے کے نزدیک نصب کیا جائے۔(7)
زہیر نے اپنی بیوی سے وداع کیا اور ایک قول کی بناء پر اس نے بیوی کو طلاق دیا اور اس سے کہا: "میں امام حسین(ع) کے ساتھ شہادت کیلئے نکلتا ہوں، تم اپنے بھائی کے ساتھ اپنے والدین کے گھر چلی جاؤ کیونکہ میں نہیں چاہتا کہ  تم میری طرف سے کسی غم یا مصیبت میں گرفتار ہو‘‘۔(8)
زہیر کے امام(ع) کے ساتھ ملحق ہونے کی کیفیت کو قبیلہ بنی فزارہ اور بجیلہ کی ایک جماعت نے یوں نقل کیا ہے:’’ہم زہیر بن قین کے ساتھ مکہ سے حج کرکے واپس آرہے تھے اور جب بھی امام حسین(ع) کسی منزل پر پڑاؤ ڈالتے تو ہم کسی اور جگہ پڑاؤ ڈالتے تھے لیکن بعض اوقات ناچار ہوکر ہمیں بھی اسی جگہ پڑاؤ ڈالنا پڑتا تھا جس مقام پر امام حسین(ع) نے پڑاؤ ڈالا تھا۔ منزل زرود پر جب پہنچے تو امام حسین(ع) نے اپنا قاصد ہمارے پاس بھیجا۔(9)
ذو حسم کے مقام پر زہیر کی تقریر
امام حسین(ع) نے حر کے لشکر کے ساتھ آمنا سامنا ہونے کے بعد ذو حُسَم نامی جگہ پر ایک خطبہ دیا جس میں دنیا کے حالات اور اس  معاشرے پر حاکم حکمرانوں کی غلط پالیسیوں اور دنیاوی زندگی کے پست اور حقیر ہونے کی طرف اشارہ فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: "...کیا نہیں دیکھتے ہو کہ حق پر عمل نہیں ہو رہا اور باطل سے منع نہیں کیا جا رہا، ایسے میں مؤمن کو حق کا حامی اور اپنے پروردگا کی ملاقات کیلئے تیار ہونا چاہئیے۔ میں موت کو شہادت کے سوا کچھ نہیں سمجھتا اور ظالموں کے ساتھ زندگی گزارنے کو ذلت اور رسوائی کے علاوہ کچھ نہیں جانتا ہوں۔"(10)
امام(ع) کی تقریر ختم ہونے کے بعد زہیر وہ پہلا شخص تھا جس نے امام عالی مقام کی فرمائشات پر عمل پیرا ہونے کیلئے اپنی آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا:"یابن رسول اللہ! ہم نے آپ کے کلام میں موجود بلند و بالا معارف کو سنا، اے فرزند رسول خدا(ص)! اگر ہمیں معلوم ہوتا کہ ہم ہمیشہ اس دنیا میں زندہ رہیں گے اور اس کے تمام سہولیات سے مستفید ہونگے تو پھر ہھی ہم آپ کے رکاب میں شہید ہونے کو ترجیح دیتے"۔ اس موقع پر امام حسین(ع) نے ان کے حق میں دعا فرمائی ۔(11)
حر کے ساتھ جنگ کی تجویز
امام حسین(ع) کا قافلہ جمعرات کے دن 2 محرم کو سرزمین نینوا پر پہنچا اور اُدھر حر بن یزید ریاحی کے پاس عبیداللہ بن زیاد کا خط آیا جس لکھا تھا:"جب میرا قاصد تہمارے پاس پہنچے تو تم حسین(ع) کے ساتھ سختی سے پیش آنا اور انہیں کسی بیابان میں قیام کرنے پر مجبور کرنا۔ میں نے قاصد کو حکم دیا ہے کہ تم سے جدا نہ ہو یہاں تک کہ میرے احکامات کے اجراء کرنے کی خبر مجھ تک پہنچائے"۔
حر نے خط کے مضمون سے امام حسین(ع) کو آگاہ کیا تو امام(ع) نے اس سے فرمایا:"مجھے سرزمین "نینوا" یا غاضریہ یا شُفَیہ میں قیام کرنے دے‘‘۔
حر نے کہا:" یہ نا ممکن ہے، کیونکہ عبیداللہ نے اس خط لانے والے قاصد کو مجھ پر جاسوس مقرر کیا ہے"۔
زہیر نے کہا: "خدا کی قسم ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اس کے بعد ہمارے اوپر مزید عرصہ تنگ ہوجائیگا۔ یابن رسول اللہ(ص)! ابھی اس مختصر جماعت [حر کے لشکر] کے ساتھ جنگ کرنا ہمارے لئے آسان ہے اس جنگ سے جو ان کے بعد ہم سے لڑنے آئینگے۔ میری جان کی قسم ان کے بعد ایک ایسی جماعت آ رہی ہے جس سے جنگ کرنا ہماری بس کی بات نہیں ہے۔ امام(ع) نے فرمایا: "ہم جنگ میں پہل کرنے والے نیہں بننا چاہتے‘‘۔
زہیر نے کہا:"یہاں سے نزدیک فرات کے کنارے ایک آبادی ہے جو قدرتی طور پر ایک مستحکم جگہ ہے ہم وہاں پڑاؤ ڈالیں گے۔ امام حسین(ع) نے اس جگہ کا نام پوچھا تو زہیر نے کہا اس کا نام عقر ہے۔ امام(ع) نے فرمایا:’’میں خدا کی پناہ مانگتاہوں ’’عقر‘‘سے۔(12)
زہیر تاسوعا کے دن
تاسوعا کے دن عصر کو جب عمر بن سعد کی فوج امام حسین(ع) کے خیموں کی طرف ہجوم کرکے آئی اور انہوں نے جنگ کا آغاز کرنا چاہا تو امام حسین(ع) نے اپنے بھائی حضرت عباس(ع) کو بلایا اور فرمایا کہ ان کے پاس جا کر ان کا مقصد دریافت کریں کہ یہ لوگ کیا چاہتے ہیں۔حضرت عباس(ع) تقریباً 20 افراد منجملہ زہیر بن قین اور حبیب بن مظاہر وغیرہ کو لے کر دشمن کی فوج کی طرف گئے اور ان سے کہا کہ تم لوگ کیا چاہتے ہیں۔انہوں نے کہا: اگر آپ لوگ یزید کی بیعت نہ کریں تو ہمیں آپ لوگوں کے ساتھ جنگ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔حضرت عباس(ع) نے فرمایا: مجھے مہلت دے دو تاکہ میں تمہارا پیغام امام حسین (ع) تک پہنچا دوں۔انہوں نے قبول کیا اور جواب کا انتظار کرنے لگے۔
اس فرصت سے استفادہ کرتے ہوئے حبیب بن مظاہر اور زہیر بن قین نے عمر سعد کی فوج کو نصیحت کرنا شروع کیا۔حبیب بن مظاہر نے ان سے عترت پیغمبر(ص) اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ جنگ کرنے سے پرہیز کرنے کو کہا۔عزرہ بن قیس- جو عبیداللہ بن زیاد کی فوج میں سے تھا- نے حبیب سے مخاطب ہو کر کہا: جتنا ہو سکے اپنی تعریف کرلو!
زہیر بن قین نے اس کے جواب میں کہا:’’اے عزرہ! اللہ تعالٰی نے انہیں پاکیزہ اور ان کی ہدایت فرمائی ہے خدا سے ڈرو اور یہ جان لو کہ میں تمہارا خیر خواہ ہوں۔ خدا کیلئے نیک اور صالح بندوں کو قتل کرنے میں گمراہوں اور ظالموں کی مدد کرنے والے افراد میں سے مت بنو‘‘۔
عزرہ نے کہا: اے زہیر! تم تو اس خاندان کے شیعہ اور پیروکاروں میں سے نہیں تھے بلکہ تم تو عثمان کے پیروکارں میں سے تھے۔
زہیر نے کہا: "آیا میرا یہاں ہونا میرے ان کے ساتھ ہونے کی نشانی نہیں ہے۔ خدا کی قسم!جان لو میں نے ہرگز حسین بن علی(ع) کو کوئی خط نہیں لکھا اور نہ ہی کوئی قاصد ان کی طرف بھیجا اور نہ کبھی ان کی مدد کرنے کا وعدہ کیا لیکن راستے نے مجھے اور ان کو ایک ساتھ جمع کیا اور جب میں نے ان کو دیکھا تو رسول خدا(ص) اور ان کے ہاں امام حسین(ع) کے مقام و منزلت کی یاد تازہ ہوگئی اور مجھے معلوم ہوا کہ وہ دشمن کی طرف جا رہے ہیں تو میں نے مصلحت اسی میں سمجھی کہ ان کی مدد کی جائے اور ان کے ساتھ رہا جائے اور اپنی جان ان کی جان پر قربان کردوں جس چیز کیلئے تم لوگوں نے خدا اور رسول خدا(ع) کا حق ضایع کیا ہے‘‘۔(13)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
1۔تنقیح المقال ج۱، ص۴۵۲-۴۵۳۔
2۔السماوی، محمد، ابصارالعین فی انصار الحسین(ع)، ص۱۶۱.
3۔السماوی، محمد، ابصارالعین فی انصار الحسین(ع)، ص۱۶۱.
4۔انساب الاشراف، ج۳، ص۱۸۷؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۲۰؛ الارشاد، ج۲، ص۹۵؛ الاخبار الطوال، ص۲۵۶.؛ الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۵۹.
5۔الاخبار الطوال، ص۲۴۶.
6۔انساب الاشراف ج۳، ص۱۶۷؛ تاریخ الطبری ج۴، ص۲۹۸.
7۔انساب الاشراف، ج۳، ص۱۶۷-۱۶۸؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص ۲۹۸؛ تنقیح المقال، ج۱، ص۴۵۲-۴۵۳.
8۔تاریخ الطبری، پیشین، ص ۳۹۶ و شیخ مفید، پیشین، ص ۷۲ - ۷۳ و فتال نیشابوری، محمد بن حسن؛ روضۃ الواعظین، ج ۲، ص ۱۷۸ و حلی، ابن نما؛ مثیر الاحزان، صص ۴۶ - ۴۷.
9۔تاریخ الطبری، ص۳۹۶؛ شیخ مفید، ص۷۲-۷۳؛ فتال نیشابوری، روضة الواعظین، ج۲، ص۱۷۸؛ حلی، ابن نما؛ مثیر الاحزان، ص۴۶-۴۷.
10۔تاریخ الطبری، ص۳۹۶.
11۔انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۱؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۰۵؛ الملہوف، ص۱۳۸.
12۔انساب الاشراف، ج۳، ص۱۷۶؛ الكامل فی التاریخ ج۴، ص۵۱-۵۲. الاخبار الطوال، ص۲۵۱-۲۵۲؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۰۹؛ ارشاد، ج۲، ص۸۳-۸۴.
13۔الفتوح، ج۵، ص۱۷۷-۱۷۸؛ انساب الاشراف ج۳، ص۱۸۴؛ مقتل الحسین خوارزمی ج۱، ص۳۵۳-۳۵۴؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۱۵-۳۱۶.

 


آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Dec 11