Tuesday - 2018 Oct. 23
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195666
Published : 9/10/2018 6:12

ایران کے خلاف امریکی پابندیاں اور چیلنج(ایک تجزیہ)

امریکہ شور غل مچا کر اپنی طاقت اور ایران کے بارے میں غلط بیانی سے کام لے رہا ہے لیکن عظیم ایرانی قوم کے نوجوان یہ جانتے ہیں کہ دشمن کے آخری حربہ یعنی پابندیوں کو ناکام بنا کر امریکہ کے منہ پر ایک اور تھپڑ رسید کرنا ہے اور انشااللہ ایسا ہی کریں گے۔

ولایت پورٹل:حکومت امریکہ نے جامع ایٹمی معاہدہ سے نکلنے کے بعد ایران کے خلاف دباؤ بڑھانے کے لئے بھرپور مہم چلا رکھی ہے اور ایرانی قوم کے خلاف یک طرفہ پابندیوں کے سلسلہ میں وہ دیگر ممالک کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن آئیے دیکھتے ہیں کہ امریکہ کو اپنی اس کوشش میں کتنی کامیابی مل سکی ہے؟
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے گزشتہ 8 مئی کو یک طرفہ طور پر جامع ایٹمی معاہدے میں مذکور اپنی ذمہ داریوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امریکہ کو اس اہم معاہدے سے الگ کرلیا، امریکی وزارت خزانہ نے بھی اعلان کیا کہ جو پابندیاں اس معاہدے کی رو سے اٹھا لی گئی تھیں وہ 90 اور 180 دن کے اندر دوبارہ نافذ کردی جائیں گی اور گزشتہ 6 جولائی کو ٹرمپ نے ایران کے خلاف پابندیوں کے پہلے مرحلہ پر عمل درآمد کا صدارتی فرمان جاری کر دیا، ایران سے تیل کی خریداری پر بھی نومبر سے پابندی لگائی جائے گی لیکن ڈونالڈ ٹرمپ کے اس فیصلہ کی پوری دنیا میں بہت زیادہ مخالفت ہو رہی ہے اور غاصب اسرائیل اور بعض عرب ممالک کو چھوڑ کر پوری عالمی برداری نے ٹرمپ کے مذکورہ فیصلہ کی مخالفت کی ہے۔
فرانس کے وزیر خزانہ برونو لی مائر Bruno Le Maire نےاسلوواکیہ میں گزشتہ جمعہ کو منعقدہ ایک اجلاس میں کہا کہ اس بات کا فیصلہ امریکہ کو نہیں کرنا ہے کہ ہم ایران کے ساتھ تجارت کر سکتے ہیں یا نہیں؟ آسٹریا کے یورپی اور سیکورٹی پالیسی مطالعات کے ادارے، اے آئی ای ایس، کے سربراہ ورنر فاسلا بینڈ Warner Fasslabend نے بھی ہفتہ کے روز تہران میں اسلامی جمہوریۂ ایران کی خارجہ تعلقات کی اسٹریٹیجک کونسل کے سربراہ ڈاکٹر کمال خرازی سے ہونے والی ملاقات میں اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ٹرمپ نے یورپ کی پوزیشن کو کمزور کیا ہے کہا کہ امریکہ سے الگ  دفاعی اور سلامتی کی آزاد پالیسی کا فروغ اور یورپ کی کرنسی ̛یورو̒  کی مضبوطی ایسے موضوعات ہیں جو امریکی رویہ کے مقابلے میں یورپی یونین کے لئے اہمیت کے حامل ہیں۔
ان بیانات سے پتہ چلتا ہے کہ یورپ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ اس کا مستقبل امریکہ سے آزاد رہنے میں ہی مضمر ہے اور یہ وہی کام ہے جسے چین انجام دے رہا ہے۔ امریکی سینیئر صحافی اور تجزیہ کار ڈیوڈ اگناٹیئس David Ignatius ایران کے سلسلے میں ڈونالڈ ٹرمپ کی اسٹریجی کے منفی اثرات کے تئیں انتباہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”دنیا کے تمام ممالک کے لئے واضح ہوگیا ہے کہ شروع میں ٹرمپ حکومت کی اسٹریجی دھمکانا اور اس کے بعد ایک معاہدہ منظور کرانے کے لئے دباؤ ڈالنا ہے۔“ وہ مزید کہتے ہیں کہ ٹرمپ کا منصوبہ یہ ہے کہ ایرانی اقتصاد کو ایسے مقام تک پہنچادیا جائے کہ ایران مدد مانگنے لگے اور اس کے بعد علاقائی اور ایٹمی مسائل کے بارے میں ایک بہتر اور بڑے معاہدہ کے بارے میں مذاکرات کرے، ایک ایسا معاہدہ جسے ٹرمپ اپنی ایک نمایاں کامیابی بنا کر پیش کرسکیں۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے سعودی عرب کو عالمی منڈی میں زیادہ تیل فروخت کرنے پر مجبور کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں تاکہ ایران کے سامنے تیل کی برآمد  کے سلسلے میں مشکلات کھڑی ہوجائیں۔ سعودی عرب کے ولیعہد محمد بن سلمان نے بلومبرگ کو دیے گئے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ نے سعودی عرب اور اوپیک کے دیگر رکن ممالک سے اس بات کی یقین دہانی کرانے کو کہا ہے کہ ایرانی تیل پر پابندی سے پیدا ہونے والی کمی کا وہ ازالہ کریں گے، ایسا ہوا بھی ہم نے ایک بیرل ایرانی تیل کے مقابلے 2 بیرل تیل برآمد کیا۔
البتہ اس سب کے باوجود حالیہ چند دنوں میں تیل کی قیمت 90 ڈالر فی بیرل سے بھی زیادہ ہوگئی۔ ٹرمپ نے تیل کی قیمت میں ہونے والے اضافہ پر اپنے رد عمل میں ایک توہین آمیز بیان میں سعودی عرب کی سرزنش کی اور کہا کہ انہوں نے سعودی بادشاہ  شاہ سلمان سے کہا ہے کہ امریکہ کی طرف سے سعودی عرب کی فوجی حمایت بند ہوجانے کی صورت میں وہ  2 ہفتے بھی باقی نہیں رہ سکتے۔
 ان سب باتوں کا صرف ایک ہی نتیجہ نکل سکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ امریکہ حقائق قبول کرنے کے لئے خود کو آمادہ کرے،قابل ذکر ہے کہ رہبر معظم حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے جمعرات کے روز تہران کے آزادی اسٹیڈیم میں رضاکار فورس بسیج کے عظیم الشان اجتماع سے خطاب میں فرمایا  کہ ’’امریکہ شور غل مچا کر اپنی طاقت اور ایران کے بارے میں غلط بیانی سے کام لے رہا ہے لیکن عظیم ایرانی قوم کے نوجوان یہ جانتے ہیں کہ دشمن کے آخری حربہ یعنی پابندیوں کو ناکام بنا کر امریکہ کے منہ پر ایک اور تھپڑ رسید کرنا ہے اور انشااللہ ایسا ہی کریں گے۔‘‘
سحر



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Tuesday - 2018 Oct. 23