Friday - 2018 Oct. 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195670
Published : 9/10/2018 15:26

کربلا کا غیور و دلیر سورما؛زہیر بن قین بجلی(2)

زہیر نے کہا:’’اے بندگان خدا، فاطمہ(س) کا لخت جگر دوستی اور حمایت کرنے میں سمیہ کے بیٹے سے زیادہ سزاوار ہے اور اگر اس کی مدد اور حمایت نہیں کرتے ہو تو خدا سے ڈرو اور ان کے خون سے اپنے دامن کو بچاؤ۔

ولایت پورٹل: قارئین کرام! ہم نے اس سلسلہ کے گذشتہ کالم میں جناب زہیر بن قین بجلی کی حیات طیبہ کے چند گوشوں کو آپ حضرات کی خدمت بابرکت میں پیش کرنے کی سعادت حاصل کی جس میں گذارش کیا تھا کہ جناب زہیر نے کس طرح اپنی تدبیر سے راہ حق کو اختیار کیا اور اپنے وقت کے امام کو پہنچانتے ہوئے صحیح موقف کو اختیار کیا آئیے آج کی اس کڑی میں کچھ اور باتیں اس غیور سورما کے لئے مطالعہ کرتے ہیں۔لیکن اس کی پہلی کڑی کو پڑھنے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے!
کربلا کا غیور و دلیر سورما؛زہیر بن قین بجلی(1)
گذشتہ سے پیوستہ:
زہیر اور شب عاشورا
شب عاشورا کو امام حسین(ع) نے جب اپنے اصحاب اور اپنے اہل بیت(ع) سے اپنی بیعت اٹھا لی اور انہیں امام(ع) کو چھوڑ کر جانے اور اپنی جان بچانے کی اجازت دے دی تو آپ کے باوفا اصحاب میں سے ہر ایک نے اپنی وفاداری اور ثابت قدمی کا اظہار کیا۔ آپ(ع) کے اہل بیت(ع) کی گفتگو کے بعد مسلم بن عوسجہ اور ان کے بعد زہیر بن قین کھڑے ہو کر عرض کیا:’’خدا کی قسم! مجھے مارا جائے پھر زندہ کیا جائے اور دوبارہ مارا جاؤں اس طرح ہزار مرتبہ بھی مجھے مارا جائے لیکن آپ(ع) اور آپ کے اہل بیت(ع) کو خدا محفوظ رکھے تو مجھے یہ چیز پسند ہے۔(۱)
روز عاشورا امام کے لشکر کی دائیں بازو کی قیادت
صبح عاشورا نماز فجر کی ادائیگی کے بعد امام حسین(ع) نے اپنے اصحاب اور لشکر کو منظم اور مرتب کیا۔ زہیر کو دائیں بازو اور حبیب بن مظاہر کو بائیں بازو کی قیادت اور اپنے بھائی حضرت عباس(ع) کو لشکر کا علم سونپ دیا۔(۲)
لشکر عمر سعد کو نصیحت
روز عاشورا جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوئے تو جنگ شروع ہونے سے پہلے امام(ع) نے دشمن کے سپاہیوں کو نصیحت کرنا شروع کیا۔
امام(ع) کی تقریر کے بعد زہیر بن قین نے امام(ع) سے کچھ گفتگو کرنے کی اجازت طلب کی اور کوفہ والوں سے مخاطب ہو کر کہا:’’اے کوفہ والوں! میں تمہیں خدا کے غذاب سے ڈراتا ہوں کیونکہ مسلمان کا دوسرے مسلمان پر جو حقوق ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ایک دوسرے کو نصیحت کریں اور ایک دوسرے کیلئے خیر اور نیکی طلب کریں۔ جب تک تلوار ہمارے اور تمہارے درمیان فیصلہ کرے ہم ایک دوسرے کے بھائی ہیں اور ایک دین کے پیروکار اور ایک ہی قوم ہیں اس بنا پر ہمارے اوپر تمہارا یہ حق ہے کہ تمہیں نصیحت کریں لیکن جب تلوار ہمارے اور تہمارے درمیان فیصلہ کرے اور ہمارے اور تمہارے درمیان موجود رشتے کو توڑ ڈالے تو اس وقت ہم ایک ملت ہیں اور تم دوسری ملت۔ جان لو کہ خدا نے ہمیں پیغمبر اکرم(ص) کے اہل بیت(ع) کے ذریعہ آزمایا ہے تاکہ یہ دیکھ لو کہ ہم ان کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں۔ میں تمہیں ان کی حمایت اور عبیداللہ بن زیاد کے خلاف بغاوت کی دعوت دیتا ہوں۔ تم لوگوں نے عبیداللہ بن زیاد اور ان کے والد کی حکومت سے برائی اور ظلم کے سوا کچھ نہیں پایا ہے۔ یہ وہی لوگ تھے جنہوں نے تمہاری آنکھیں نکال دی تھیں۔(۳) تمہارے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالے تھے، تمہیں مثلہ کر ڈالا تھا۔(۴) اور تمہارے بزرگوں اور قاریوں جیسے حجر بن عدی اور ان کے ساتھی ہانی بن عروہ اور ان کے دیگر ساتھیوں کو سولی پر چڑھا دیا تھا۔"
عمر سعد کی فوج نے زہیر کو گالیاں اور عبیداللہ بن زیاد کی تعریف کرتے ہوئے کہا: "خدا کی قسم ہم یہاں سے نہیں جائیں گے جب تک تمہارے مولا {امام حسین(ع)} کو قتل کریں یا انہیں عبیداللہ کے حوالے کریں‘‘۔
زہیر نے کہا:’’اے بندگان خدا، فاطمہ(س) کا لخت جگر دوستی اور حمایت کرنے میں سمیہ کے بیٹے سے زیادہ سزاوار ہے اور اگر اس کی مدد اور حمایت نہیں کرتے ہو تو خدا سے ڈرو اور ان کے خون سے اپنے دامن کو بچاؤ۔
کوفیوں کے نزدیک زہیر کی شہرت
کوفیوں کے نزدیک زہیر ایک دلیر اور ممتاز شخصیت کے حامل تھے۔ اسی وجہ سے روز عاشورا کی صبح اوائل جنگ میں جب ’’زیاد بن ابیہ‘‘اور ’’عبیداللہ بن زیاد‘‘کے دو غلام "سالم" اور "یسار" کی طرف سے مبارزہ کیلئے پکارا گیا اور ان کے ساتھ مقابلہ کیلئے جب عبداللہ بن عمیر کلبی چلا گیا تو انہوں نے کہا ہم تمہیں نہیں پہچانتے جاؤ زہیر بن قین یا حبیب ابن مظاہر میں سے کسی ایک کو ہمارے ساتھ جنگ کیلئے بھیجو‘‘۔(۵)
زہیر اپنی جگہ سے بلند ہوئے تاکہ ان دونوں کے جنگ طلبی کا جواب دیں لیکن امام حسین(ع) نے زہیر کو جنگ کی اجازت نہیں دی اور عبداللہ بن عمیر کو ہی ان کے ساتھ مقابلہ کیلئے بھیجا۔
خیمہ گاہ حسینی(ع) سے دشمن کے حملوں کی روک تھام
جنگ کے آغاز سے ہی شمر بن ذی الجوشن نے اپنے ساتھیوں سمیت خیموں کے پشت سے امام حسین(ع) کے خیموں پر حملہ کیا اس نے ایک نیزے کے ساتھ امام حسین(ع) کے خیمے پر وار کیا اور فریاد بلند کی: "آگ لے آؤ تاکہ اس گھر کو اس کے مکینوں سمیت جلا دیا جائے‘‘۔اس حالت کو دیکھ کر امام(ع) نے با آواز بلند فرمایا: "اے ذی الجوشن کے بیٹے! کیا تو آگ طلب کر رہا ہے تاکہ میرے گھر کو میرے خاندان سمیت جلا ڈالے ؟ خدا تجے آگ میں جلائے‘‘۔
اس وقت زہیر نے اپنے دس ساتھیوں سمیت شمر اور اس کے ساتھیوں پر حملہ کیا اور ان کو وہاں سے بھگا دیا۔(۶)
ظہر عاشورا نماز گزاروں کی حفاظت
ظہر کی نماز کے وقت جب امام حسین(ع) اپنے ساتھیوں کے ساتھ نماز خوف کیلئے کھڑے ہوئے تو زہیر بن قین اور سعید بن عبداللہ حنفی کو نماز گذاروں کی حفاظت کے واسطے تعینات کردیا۔ان دونوں سورماؤں نے بھی خود کو دشمن کے تیروں کے سامنے اس طرح سیسہ پلائی ہوئی دیوار بنادیا کہ کوئی بھی تیر نمازیوں تک آنے نہیں دیا۔ (۷)
شہادت
نماز ظہر کی ادائیگی کے بعد زہیر نے امام(ع) اجازت طلب کی اور میدان میں آکر یہ رجز پڑھا:
انا زهیر و انا ابن القین                                             اذودکم بالسیف عن حسین(ع)
ان حسیناً(ع) احد السبطین                                                  من عترة البر التقی الذی
ذاک رسول الله غیر المین                                               اضربکم و لا اری من شین

ترجمہ: میں قین کا بیٹا زہیر ہوں اور اپنی تلوار سے امام حسین(ع) کی ناموس سے دفاع کرونگا۔ حسین(ع) رسول خدا(ص) کے دو نواسوں میں سے ایک ہے ان کا تعلق ایک ایسے خاندان سے ہے جن کی زینت نیکی اور تقوا ہے۔ اس وقت وہ خدا کی حجت ہے پیغمبر کے نسل سے اور میں تمہیں قتل کر دونگا اور اسے کوئی عیب نہیں سمجوں گا"۔
نقل ہوا ہے کہ انہوں نے میدان جنگ میں دشمن کے 120 افراد کو ہلاک کیا۔آخر کار زہیر کثیر بن عبداللہ شعبی اور مہاجر بن اوس تمیمی کے ہاتھوں شہادت کے عظیم مرتبہ پر فائز ہوا۔(۸)
شہادت کے بعد زہیر کے حق میں امام حسین(ع) کی دعا
امام حسین(ع) نے زہیر کی شہادت کے بعد فرمایا: اے زہیر خدا تمہیں اپنی رحمت سے دور نہ کرے اور تمہارے قاتلوں پر خدا کی لعنت ہو، اور تمہارے قاتلوں کو بنی اسرائیل کے مسخ شدہ افراد کی طرح ہمیشہ کیلئے اپنی لعنت میں گرفتار کردے۔" (۹)
زیارت ناحیہ میں زہیر کا تذکرہ
زیارت ناحیہ مقدسہ میں دو مقام پر زہیر کا نام آیا ہے: سلام ہو زہیر بن قین بجلی پر وہ مرد مجاہد جسے امام حسین(ع) نے واپس جانے کی اجازت دے دی تو اس نے کہا: نہیں خدا کی قسم میں ہرگز رسول خدا(ص) کے بیٹے کو جس پر خدا کا درود و سلام ہو، تنہا نہیں چھوڑونگا، کیا رسول خدا(ص) کے بیٹے کو دشمن کے نرغے میں اسیری کی حالت میں چھوڑ دوں اور اپنے آپ کو نجات دے دوں؟ خدا مجھے ایسا دن نہ دکھائے۔(۱۰)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ جات:
۱۔تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۱۸؛ الارشاد ج۲ ص۹۲؛ الملہوف، ص۱۵۳.
۲۔تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۲۰. انساب الاشراف ج۳، ص۱۸۷؛ الارشاد ج۲ ص۹۵؛ الاخبار الطوال، ص۲۵۶؛ الکامل فی التاریخ، ج۴، ص۵۹؛ مقتل الحسین علیہ السلام، خوارزمی ج۲، ص۶-۷.
۳۔گرم سلاخ کے ذریعہ کسی کو اندھا کردینا (لغت نامہ دہخدا)
۴۔اعضاء و جوارح کو کاٹ دینا (لغت نامہ دہخدا)
۵۔تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۲۷؛ الارشاد، ج۲، ص۱۰۱.
۶۔تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۳۴؛ الكامل فی التاریخ، ج۴، ص۶۹-۷۰؛ انساب الاشراف، ج۳، ص۱۹۴؛ الارشاد، ج۲، ص۱۰۵.
۷۔تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۳۶؛ الکامل فی التاریخ ج۴، ص۷۱؛ انساب الاشراف ج۳، ص۱۹۵.
۸۔مقتل الحسین خوارزمی ج۲، ص۲۰؛ الملہوف، ص۱۶۵.
۹۔مناقب آل ابی طالب ج۳، ص۲۲۵؛ تاریخ الطبری، ج۴، ص۳۳۶؛ انساب الاشراف ج۳، ص۱۹۶؛ الیامل فی التاریخ، ج۴، ص۷۱.
۱۰۔مقتل الحسین خوارزمی ج۲، ص۲۳.
۱۱۔الاقبال ج۳، ص۷۷-۷۸.



آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Friday - 2018 Oct. 19