Wed - 2018 Dec 19
Languages
دوستوں کو بھیجیں
News ID : 195673
Published : 9/10/2018 16:32

جانوروں کے حقوق کی پاسداری یا غلامی کی زنجیر

ہم جانوروں کو دل طبیعت سے نکال کر انہیں اپنے 60 یا 70 مٹر کے فلیٹ میں اپنے ساتھ رکھ کر انہیں قیدی بناکر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ہم نے ان کے لئے تمام وسائل و امکانات کو فراہم کردیا ہے تو یہ بتائیے کہ کیا یہ جانوروں کے حقوق کی پاسداری ہورہی ہے یا اپنے تعلق کی تسکین؟کیا کتے کی ذات کا تقاضہ یہ نہیں ہے کہ وہ طبیعت میں رہے اور آزادی سے گھومے پھرے؟
ولایت پورٹل: قارئین کرام! آج کل ہمارے معاشرے میں تقریباً ان آخری دس برسوں  میں زندگی کے کچھ عجیب و غریب ماڈل اور انداز دیکھنے کو مل رہے ہیں ان میں سے ایک  گھروں میں کتے بلی پالنے کا رواج کا فروغ ہے اور صرف یہی نہیں کہ صرف یہ حیوانات پالے جارہے ہوں بلکہ خود انسان انہیں اپنے ساتھ اپنی گاڑی میں بٹھا کر عام تفریحی و سیاحتی اماکن وغیرہ میں بھی لے جاتے ہیں۔
اور جب ان لوگوں سے سوال کیا جاتا ہے کہ آپ لوگ اپنے کتوں کو اپنے ہمراہ کیوں عام جگہوں(پبلک پیلیس) میں لیکر آگئے تو جواب یہ دیا جاتا ہے جناب یہ حیوان بہت مظلوم ہیں اور انہیں ان کا حق ملنا چاہیئے اور ہم لوگ(Animal rights) یعنی جانوروں کے حقوق کا تحفظ کررہے ہیں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا واقعاً ماڈرن انسان کی زندگی میں جانوروں کے حقوق کی رعایت کرنا اتنی اہم ہے کہ وہ انہیں ہمیشہ اپنے ساتھ رکھیں اور یہاں تک کہ وہ انہیں اپنے ساتھ تفریح پر لے کر جائیں اور پھر انہیں اپنے حمام میں جاکر نہلائیں؟
لیکن عام اور عقلی اصول یہ ہے کہ ہر موجود کا حق اس کی ذات اور طبیعت کے پیش نظر کیا جانا چاہیئے۔
اور ہم جانوروں کو دل طبیعت سے نکال کر انہیں اپنے 60 یا 70 مٹر کے فلیٹ میں اپنے ساتھ رکھ کر انہیں قیدی بناکر یہ دعویٰ کررہے ہیں کہ ہم نے ان کے لئے تمام وسائل و امکانات کو فراہم کردیا ہے تو یہ بتائیے کہ کیا یہ جانوروں کے حقوق کی پاسداری ہورہی ہے یا اپنے تعلق کی تسکین؟کیا کتے کی ذات کا تقاضہ یہ نہیں ہے کہ وہ طبیعت میں رہے اور آزادی سے گھومے پھرے؟
اب ذرا تھوڑا معکوس طریقہ سے غور کیجئے کہ اگر انسان کی جگہ کچھ کتے جمع ہوکر آئیں اور کہیں کہ ہم انسان کے بچے کو اس کے گھر سے نکال کر جنگل میں اس کی دیکھ بھال کریں گے اور وہ اسی غرض سے ایک بچے کو جنگل یا پہاڑ پر اٹھا لے جائیں اور اپنی توان سے زیادہ اس کے لئے وسائل فراہم کریں تو کیا یہ انسان کے حق میں جفا نہیں ہے؟ کیا انسان کا بچہ جنگل میں رہنے کے لئے اور کتوں میں رہنے کے لئے پیدا ہوا ہے؟
اصل وجہ یہ ہے کہ بہت سے لوگوں کی بعض حرکات و سکنات قابل فہم نہیں ہیں جیسا کہ آج کل سوشل نیٹورک جیسا کہ انسٹاگرام،فیس بُک وغیرہ پر ایسی ویڈیوز نظروں سے گذرتی ہیں کہ لوگ کتوں اور بلیوں کو حمام میں لے جاکر نہلا رہے ہیں یاانہیں انجکشن لگوانے کے لئے جارہے ہیں،لڑکیوں یا لڑکوں کے لباس انہیں پہنائے جارہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ سب چیزیں ہیں جو سمجھ سے باہر ہیں۔
ہماری نظر میں جانوروں کے حقوق کے نام پر انسان کا ایسا کرنا شاید ان کے حق میں سب سے بڑا ظلم ہو چونکہ ان جانوروں کی ذات کا تقاضہ یہ نہیں ہے کہ انہیں صابن سے حمام میں نہلائیں، لڑکوں یا لڑکیون کے لباس پہنائیں۔
اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ اور خاص طور پر اپنے آپ کو پڑھے لکھے کہنے والے اپنی زندگی کے طور طریقوں میں مغرب سے اتنا متأثر ہیں کہ اُس طرف سے اگر کسی بھی طرح کا غیر انسانی عمل سرزد ہوجائے تو ہم اس کی تقلید کو اپنے ایجوکیٹڈ اور پڑھا لکھا ہونے کی دلیل سمجھتے ہیں شاید یہی وجہ اور ذہنیت ہے کہ ہم بظاہر انگریزوں کے حکومتی سسٹم سے تو آزاد ہوچکے ہیں لیکن ثقافتی اور تہذیبی اور ذہنی و فکری طور پر ان کی سربستہ غلامی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔




آپکی رائے



میرا تبصرہ ظاہر نہ کریں
تصویر امنیتی :
Wed - 2018 Dec 19